ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ
Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky, K.S.Aﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ
ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ
ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺏ
ﺧﺎﻣﺸﯽ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺩﮦ ُﺍﻭﮌﮪ ﻟﻮ
ﯾﮧ ﻇﺎﻟﻢ ﺳﻤﺎﺝ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ
ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﺗﻢ ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ
ﺍﺏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ
ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ
ﻭﮦ ﺗﻠﺨﯿﺎﮞ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﺠﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ
ﺗﻢ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﮌ ﺩﻭ
ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﺎﺭ
ﻟﮓ ﮨﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﭘﻨﯽ
ﺗﻢ ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺟﻮﮌ ﻟﻮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ
ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






