ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
Poet: Faizan Zahoor By: Faizan Zahoor, baramulla indiaﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
ﺗﯿﺮﺍ ﺧﻮﺩ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮨﻨﺴﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮯ ﺑﺎﮎ ﺳﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ
ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﺑﮭﯽ
ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺑﮭﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﺎ ﻟﮩﺠﮧ
ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻼﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﻟﻄﻒ ﻭ ﮐﺮﻡ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ
ﺗﯿﺮﺍ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﺟﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺨﺸﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺴﮑﺎﻥ
ﺗﯿﺮﺍ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺭﻭﻻﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
ﺗﯿﺮﯼ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﮨﻤﺪﻡ
ﻣﯿﺮﺍ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﺮ ﻟﻔﻆ ﻣﻐﺮﻭﺭﯼ
ﺍﺩﺍ ﻭﮦ ﻇﺎﻟﻤﺎﻧﮧ ﺑﮭﯽ
ﺟﺐ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﮭﺎ ﭘﺎﯾﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮔﻨﻮﺍﻧﺎ ﺑﮭﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺑﺘﮏ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






