دفتروں میں بد تمیزی کیا واقعی وبائی شکل اختیار کر چکی ہے؟

Getty Images

سیاست ہو یا کالج کا کلاس روم یا آپ ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوں، آجکل آپ کو غیر مہذب رویے کا مشاہدہ کرنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہاں تک کے ایک تحقیق کے مطابق بدتمیزی ایک متعدی چیز بن چکی ہے اور ایک شخص کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی بد تمیزی کرنے لگتے ہیں، جیسے گھر میں ایک شحض کو زکام ہو جائے تو باری باری سب کو ہوئے بغیر گھر سے جاتا نہیں۔

میری تحقیق کے مطابق دفتروں میں بھی بدتمیزی کی وبا عام ہے۔ ماضی میں کیے گئے کچھ جائزوں کے مطابق دفتروں میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو غرمہذب رویے یا بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ باقی نصف کا کہنا تھا کہ اگر روز نہیں تو ہفتے میں ایک بار وہ بھی برے رویے کا شکار ضرور ہوئے۔ اور کچھ جائزوں کی بنیاد پر ماہرین کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ ایسا تمام دفاتر میں ہوتا ہے اور صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

کیا یہ دعوے واقعی درست ہیں؟

میں پچھلے ایک عشرے سے دفتروں میں بد تمیزی اور ملازمین کے ساتھ دیگر برے رویوں کا مطالعہ کر رہی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ واقعی ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن اسے ایک وبا کہنا درست نہیں ہوگا۔

بدتمیزی میں اضافہ؟

پہلے دیکھتے ہیں کہ آیا واقعی دفتروں میں بدتمیزی زیادہ ہونے لگی ہے۔

میرا مطلب ہے کہ آیا ایک دوسرے کی بات کاٹتے، کسی ساتھی کا مذاق اڑانے ، دوسروں کو برے القابات سے پکارنے، کسی کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرنے یا کسی ایک ملازم کو دفترکی باتوں میں شامل نہ کرنے کے واقعات واقعی زیادہ ہو گئے ہیں۔

اس سوال کے جواب کے لیے میں نے امریکہ میں کیے جانے والے عمومی معاشرتی جائزے یا ’جنرل سوشل سروے‘ کے اعداد وشمار کی مدد حاصل کی۔ یونیورسٹی آف شکاگو یہ سروے سنہ 1972 سے کر رہی ہے جس میں لوگوں کے رویے کے سینکڑوں پہلوؤں کے بارے میں اعداد و شمار اور لوگوں کی رائے لی جاتی ہے۔

اس سروے میں میرا مقصد ایک سوال کے جوابات کو دیکھنا تھا۔ یہ سوال سنہ 2002 میں اس سالانہ جائزے میں شامل کیا گیا تھا اور تب سے ہر چار برس بعد یہ سوال لوگوں سے کیا جاتا ہے۔ ’میرے کام پر لوگ مجھ سے تمیز سے پیش آتے ہیں؟

سروے کے شرکاء اس کے جواب میں اگر ’1‘ لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ ان سے تمام لوگ عزت سے پیش آتے ہیں، جبکہ سب سے کم درجے، یعنی 4 کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اس بات سے باکل اتفاق نہیں کرتے۔

سنہ 2002 میں اوسط سکور 1.69 تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملازمین نے اتفاق کیا کہ لوگ عموماً عزت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ سنہ 2018 کے جائزے میں یہ سکور بڑھ کر 1.76 ہو گیا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعداد میں قدرے اضافہ ہو گیا جو اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ انہیں دفتر میں عزت دی جاتی ہے۔

کسی ماہر شماریات کے لیے یہ فرق اہم ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ اسے 1 سے 4 کی درجہ بندی میں دیکھیں تو یہ تبدیلی بہت ہی کم ہے۔

گمراہ کن اعداد و شمار

چلیں اب دیکھتے ہیں دفاتر میں بدتمیزی کے واقعات کتنے ہوتے ہیں، یعنی یہ بات کتنی عام ہے؟

اس حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں ان کے مطابق 98 فیصد ملازمین کو اپنی جائے کار پر غیرمہذب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس قسم کے اعداد وشمار سے یہ لگتا ہے کہ دفتر میں ہر کوئی ایک دوسرے سے ہر وقت بدتمیزی کر رہا ہے۔

حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی ملازم شکایت کرتا ہے کہ اسے انتہائی بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا ہے، تو اس بات کے امکان بہت کم ہیں کہ دفتر میں ہر کوئی آئے روز ان سے بدتمیزی سے پیش آتا ہے۔ دفاتر میں بد تہذیبی پر کی جانے والی اس قسم کی تحقیق میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں ایک ملازم کے تمام ساتھی ملازمین کے ساتھ تعلقات کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس ملازم کا عمومی تجربہ کیا ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ بدتمیزی کے کسی بھی واقعے میں دو لوگوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں ایک بدتمیزی کرنے والا ہونا چاہیے اور دوسرا وہ شخص جس کے ساتھ یہ زیادتی کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دیکھنے کے لیے کہ کسی دفتر میں بدتمیزی کتنی عام ہے، ہمیں نہ صرف یہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کسی شخص کے ساتھ اس کے ساتھیوں کا عمومی رویہ کیا ہوتا ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی بہت اہم ہے کہ اس شخص کے اپنے ایک ایک ساتھی ملازم سے تعلقات کیسے ہیں۔

سنہ 2018 میں، میں نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ ایک تحقیق کی جس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اگر ہم ایک ملازم سے اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دیکھیں تو بدتمیزی کے واقعات کتنے ہوتے ہیں۔

اس کے لیے ہم نے ایک ایسے رسیٹورنٹ کے ملازمین کا انتخاب کیا جس کی شاخیں امریکہ کے جنوب مشرقی علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہم نے ملازمین سے پوچھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں انہیں کتنی مرتبہ بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے لیے ہم نے انہیں جن مختلف جوابوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا ان میں ’کبھی نہیں‘ سے لیکر ’بہت زیادہ مرتبہ‘ کی آپشن شامل تھیں۔

اس جائزے کے نتائج کے مطابق 69 فیصد ملازمین کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ان سے کچھ بدتمیزی کی گئی۔ لیکن ان واقعات میں جو دیگر ملازمین ملوث تھے وہ کل ملازمین کا صرف 16 فیصد تھے۔ یعنی ملازمین کی ایک بڑی اکثریت (69 فیصد) کے مطابق انہیں بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ایسا کرنے والے ساتھی ملازم بہت کم (16 فیصد) تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لوگ اپنے ساتھیوں کی بڑی اکثریت سے خوش تھے۔

ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر ملازمین کو دفاتر وغیرہ میں کبھی کبھار بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اکثر ساتھیوں کے ساتھ ان کا تعلق اچھا ہوتا ہے اور انہیں اُن کی طرف سے بدتمیزی یا غیرمہذبابہ رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہمیں دفاتر میں تہذیب اور پیشہ ورانہ رویوں میں زوال پر فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر جگہ پر کچھ فضول لوگ ضرور ہوتے ہیں، لیکن دفتروں میں بدتمیزی کوئی نئی بات بھی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو بھی بدتمیزی زکام کی طرح پھیلتی نظر آئے، لیکن یقین جانیں اس نے وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے۔

شینن جی ٹیلر امریکہ کی یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا سے منسلک ہیں جہاں وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف مینیجمنٹ ہیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.