عمران مافیا اپنی نالائقی چھپانےکیلئے مخالفین کے گھروں پہ چھاپے ماررہا ہے، مریم اورنگزیب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران مافیا نے اٹھارہ ماہ میں روزگار ، کاروبار  اور معیشت کو تباہ کر دیا اوراب اپنی چوری ، نااہلی اور نالائقی سے نظر ہٹانے کے لئے سیاسی مخالفین کے گھروں پہ چھاپے مار رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  اپنے ایک بیان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نےعمران خان پر تنقید کرتے ہوئے  کہا کہ حکومت کو شریف فیملیز کے دفاتر پر چھاپے سے کچھ نہ ملا مگر اب حکومت یہ  بتائے جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے دفاتر پر چھاپہ کب مارا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے کہا کہ  عمران خان مافیا شریف خاندان اور مسلم لیگ نون کے دیگر رہنماؤں کو جیلوں میں رکھ کر 18 ماہ میں ایک روپے کی کرپشن کا ثبوت عدالت میں نہیں پیش کر سکا۔

مریم اورنگزیب  نے یہ بھی کہا کہ عمران مافیا نے پشاور میٹرو کے 150 ارب جیب میں ڈالے، 18ماہ میں 13 ہزار ارب کا قرض لیا  جبکہ عمران خان مافیا نے عوام کا آٹا، چینی اور روٹی چوری کر لی لیکن چھاپے اپنے سیاسی مخالفین کے دفتروں پر لگوائے۔

اپنے بیان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عمران   مافیا  اب جہانگیر ترین ، خسرو بختیار زمان پارک ، بنی گالہ پہ چھاپہ مارے، عوام کی روٹی ، چینی ، آٹا  اور عمران صاحب کی لینڈ کروزر کہاں ہےسب پتہ چلا جائے گا۔

واضح رہے اس سے قبل  پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عمران صاحب تقریروں سے روٹی، روزگار اور کاروبار نہیں ملتاہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ عمران صاحب آپ کی تقریروں سے عوام کو روزگار نہیں ملے گا ، مہنگائی کی شرح کم نہیں ہو گی، آپ کی تقریروں سے عوام کو پچاس لاکھ گھر ایک کروڑ نوکری نہیں ملے گی اور نہ ہی آپ کی تقریر سے لوگ بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے قابل نہیں ہوجائیں گے۔

مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران صاحب آپ کی تقریروں سے عوام کو ہسپتال میں علاج نہیں ملے گا، وہ دوائی نہیں خرید سکتے اور نہ ہی انصاف تقریروں سے ملتا ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.