یہ لاہور قلندرز کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

واشنگٹن — پاکستان سپر لیگ کے پچھلے چاروں سیزنز میں لاہور قلندر کی ٹیم بڑے بڑے ناموں پر مشتمل رہی ہے لیکن ہر بار ٹیم نے اپنے سفر کا اختتام پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخر میں کیا حتی کہ پچھلے سال ملتان سلطان کی ٹیم جو پہلی بار میدان میں اتری تھی، وہ بھی قلندرز سے بہتر پوائنٹس اور پوزیشن پر اپنا ٹورنامنٹ ختم کرنے میں کامیاب رہی۔

اب جب کہ سیزن فائیو شروع ہو چکا ہے، قلندرز کی حالت بدلتی نظر نہیں آتی۔ ابتدائی دونوں میچوں میں ٹیم شکست سے دوچار ہو چکی ہے اور پوانٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر ہے۔

اس بارکرکٹ کے تجزیہ کاروں اور مداحوں کے خیال میں لاہور قلندر کے مالک اور انتظامیہ نے بڑے بڑے مہنگے نام ٹیم میں شامل کرنے کی بجائے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرح ’’ سپرسٹارز‘‘ کی نسبت کچھ سٹار اور کچھ ٹیلنٹڈ لڑکوں پر مشتمل ٹیم بنائی ہے۔ ان میں سے کئی ایک نے پاکستان کے لیے کھیل رکھا ہے اور اس وقت بھی پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا لازمی حصہ ہیں۔ جیسے محمد حفیظ، فخر زمان، شاہیں آفریدی، حارث روف۔ لیکن مشکل ٹلتی نظر نہیں آتی۔

اتوار کو اسلام آباد یونائٹیڈ کے خلاف کھیلے گے میچ میں جیتا ہوا میچ ٹیم ہار گئی۔ قلندرز کا باؤلنگ اٹیک جو معروف ناموں پر مشتمل ہے یعنی شاہیں آفریدی جو پاکستان کے لیے ٹی ٹوئنٹی میں 40 وکٹیں لے چکے ہیں، حارث رؤف جن کی باؤلنگ نے بگ بیش میں دھاک بٹھا دی اور ان کو پاکستان کیپ مل گئی۔ عثمان شنواری جو پاکستانی ٹیم کے لیے تمام فارمیٹس میں کھیل چکے ہیں، آخری تین اوورز میں اسلام آباد یونائٹد کی آخری وکٹ نہ لے سکے اور موسی خان اور علی عبداللہ نے ناتجربہ کار ہونے کے باوجود بیس رنز جوڑ کر ٹیم کو فتح دلا دی۔ خاص طور پر موسی نے جس نے آخری اوور میں جب نو رنز چاہیے تھے تو پہلی ہی گیند پر عثمان شنواری کو چھکا جڑ دیا اور میچ اپنی ٹیم کے نام کر دیا۔

قلندرز کی ناکامی پر لاہویوں کو بہت دکھ ہوا، جس کا اظہار انہوں نے ٹوئیٹر پر مختلف طریقوں سے کیا۔ یہ ہیں عثمان علی


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.