علاج مکمل ہونے تک نوازشریف لندن میں رہیں گے، رانا ثنااللہ

لاہور: پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج مکمل ہونے تک لندن میں رہیں گے۔

ماڈل ٹاؤن میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے منتخب جنرل سیکرٹریعمیر بلوچ ایڈووکیٹ، ن لیگ لائرز فورم کے رہنما رانا ظفر اقبال اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک علاج کی ضرورت ہو گی نوازشریف لندن میں رہیں گے۔ سب کی دعا ہے وہ روبصحت ہو کر واپس آئیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف جب لندن گئے تو صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا تھا کہ کچھ ٹیسٹ ملک میں نہیں ہو سکتے ہیں۔ یاسمین راشد کہتی رہیں کہ نوازشریف باہر علاج کے لیے جا سکتے ہیں۔ حکومتی میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت دی۔

مزید پڑھیں: 

لیگی رہنما نے کہا کہ راولپنڈی کے ایک شخص نے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے کے لیے ساڑھے 7  ارب روپے کی شرط لگائی گئی، جو شرم کا باعث ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ نوازشریف کی میڈیکل ٹیم فیصلہ کرے گی کہ کب انہیں اسپتال لے جانا ہے۔ میڈیکل ٹیم فیصلہ کرے گی کہ کب نواز شریف سفر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے میں حکومت کا کوئی استحقاق نہیں رہا۔ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ دے کر حکومت نے اخلاقی پستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیاسی رواداری جو کبھی ملک میں تھی 2014  کے بعد عمران خان نے ملیا میٹ کر دی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے نواز شریف کے باہر جانے کی اجازت سے انکار کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ن لیگ کی قانونی ٹیم کورٹ جائے گی اور عدالت قانون اور اخلاقی قدروں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ عدالت کا فیصلہ نوازشریف کے حق میں ہو گا۔

مزید پڑھیں: 

اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے منتخب جنرل سیکرٹری عمیر بلوچ ایڈووکیٹ نے دیگر ساتھی وکلاء کے ہمراہ پی ایم ایل ن میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

صدر ن لیگ پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا کہ جس جذبے سے وکلاء رہنما پارٹی میں شامل ہوئے ہیں ہم بھی ان کا بھر پور ساتھ دیں گے۔ وکلاء جمہوریت، عام آدمی کے حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.