اپنے ہاتھ کو چہرہ چھونے سے کیسے روکا جائے

واشنگٹن — طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے اپنے چہرے کو چھونے سے اجتناب کریں، کیونکہ جب آپ کسی ایسی چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں جہاں وائرس موجود ہو، یا کسی ایسے شخص سے ہاتھ ملاتے ہیں، جس کے اندر وائرس آ چکا ہو تو وہ آپ کے ہاتھ میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اور وہ کئی دن تک آپ کے ہاتھ پر موجود رہ سکتا ہے۔ اور وائرس سے متاثرہ جب آپ کے چہرے کو چھوتا ہے تو وائرس آپ کے اندر منقتل ہو جاتا ہے۔

جب ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ اپنے ہاتھ چہرے کو نہ لگائیں، تو فوراً دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ کونسا مشکل کام ہے۔ بس، اب چہرے کو ہاتھ لگانا بند۔ یہ جملہ کہنا جتنا آسان ہے، اس پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل ہے، کیونکہ اپنے ہاتھ بار بار چہرے کو لگانا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ یہ کام ہم اتنے غیرشعوری طور پر کرتے رہتے ہیں کہ احساس تک نہیں ہوتا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چہرے کو چھونا اتنا فطری عمل ہے کہ جب ماں کے پیٹ میں بچے میں حرکت پیدا ہوتی ہے تو اس کا ہاتھ بار بار اپنے چہرے کی طرف جاتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ہم دن بھر میں کئی سو بار اپنے چہرے کو چھوتے ہیں۔

اس سلسلے میں، کئی سائنسی مطالعے کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک انسان اوسطاً ایک گھنٹے میں 15 سے 23 بار اپنا چہرہ چھوتا ہے جس میں تقریباً نصف بار وہ اپنی ناک کھجاتا ہے یا اسے صاف کرتا ہے۔ اور باقی نصف وہ آنکھوں کو مسلنے، کانوں کو رگڑنے اور مروڑنے، چہرے کے کسی حصے کو کجھانے یا مسلنے یا چھونے میں لگاتا ہے۔ تاہم، لوگوں کی موجودگی میں چہرے کو چھونے کے تواتر میں کمی ہو جاتی ہے۔ لیکن، ہاتھ پھر بھی نہیں رکتے اور وہ غیر ارادی طور پر دوسری چیزوں کو چھوتا رہتا ہے۔

چہرے کو چھونے کی عادت کیسے چھوڑی جائے

ایک سیدھا سادا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص بار بار اپنا چہرہ چھو رہا ہو تو اسے روک دیں۔ لیکن، مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ جب آپ کو اپنا چہرہ چھونے سے روکا جائے تو چہرے کے کسی حصے یا ناک پر کھجلی ہونے لگتی ہے اور آپ کے لیے اپنا ہاتھ روکنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے، طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ دن میں کئی کئی بار اپنے ہاتھ صابن سے کم ازکم 20 سیکنڈ تک خوب اچھی طرح دھوئیں، خاص طور پر اس وقت جب آپ کو کوئی ایسی چیز چھونی پڑے جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ اسے پہلے کسی نے چھوا تھا یا نہیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

21