'ڈیئر زندگی‘ کا خیال رکھیں‘ پولیس کا عالیہ بھٹ کو جواب

بالی وڈ کی ببلی گرل عالیہ بھٹ اپنی معصومانہ باتوں کی وجہ سے اپنے مداحوں کا دل جیت لیتی ہیں مگر اس بار ان کی ایک ٹویٹ پر ممبئی پولیس کے جواب نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔

مزید پڑھیںعالیہ کی رنبیر کو سالگرہ کی مبارک بادNode ID: 435816’اُڑتی اُڑتی خبر ہے اور اُڑتی ہی رہے گی‘Node ID: 459861'نیکی کر دریا میں ڈال، سنا تو ہوگا مگر کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں‘ Node ID: 468716

عالیہ بھٹ بھی شوبز انڈسٹری کے دیگر ستاروں کی طرح کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں اس وبا کے حوالے سے آگاہی مہم کا حصہ ہیں۔

انہوں نے جمعرات کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاون میں بھی اپنی خدمات جاری رکھنے والی ممبئی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ' شکریہ ممبئی پولیس، آپ (پولیس)  سے محبت اور تشکر کے اظہار کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی عالیہ بھٹ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان (پولیس ) کی خاطر گھروں میں رہیں۔

بالی وڈ کی ببلی گرل کی اس ٹویٹ پر ممبئی پولیس نے منفرد انداز میں جواب دیا۔

ممبئی پولیس کے ٹوئٹر اکاونٹ نے عالیہ بھٹ کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے ان ہی کی فلموں کے نام کے ساتھ پیغام دیا۔

ٹویٹ میں کہا گیا کہ 'ممبئی کے رہنے والے لوگو!ہمیں امید ہے کہ آپ سب محترمہ عالیہ بھٹ کی اس نصیحت پہ 'راضی' ہوں گے کہ کسی بھی 'گلی' میں گھومنے پھرنے کا خطرہ مول نہ لیں اور اپنی 'ڈیئر زندگی' کا خیال رکھیں۔'

ممبئی پولیس کی اس ٹویٹ سے انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین خوب محظوظ ہوئے اور اسی انداز میں تبصرے کرنے لگے۔ 

روحان نامی صارف نے لکھا کہ 'اگر آج کل لوگ 'راضی' نہ ہوئے اور 'ہائی وے' پر جانا جاری رکھا تو وہ 'کلنک' سے کم نہیں۔ دوستو! ہمیں پتا ہے کہ  لاک ڈاون میں رہنا 'اے دل ہے مشکل' لیکن پھر بھی گھروں میں 'شاندار' طریقے سے رہیے۔'

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ممبئی پولیس نے بالی وڈ کی کسی مشہور شخصیت کو دلچسپ جواب دیا ہو بلکہ اس سے پہلے معروف اداکار اجے دیوگن کی ایک ٹویٹ کے جواب میں بھی ممبئی پولیس نے انہیں انوکھے انداز میں شکریہ کہا تھا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

8