جے آئی ٹی رپورٹوں کا میلہ

٭جے آئی ٹی نئی نئی ہنگامہ خیز رپورٹوں کا اتوار بازارO نوازشریف عدم حاضری پر اشتہاری قرار، عوامی مقامات پر اشتہارO آصف زرداری کے نئے وارنٹ گرفتاریO آج مادر ملت فاطمہ جناح کی برسی ہےO مولانا فضل الرحمن کی آج اے پی سیOسٹاک ایکس چینج میں صحت مندانہ تیزیO وفاقی و سندھ وزراء کی پریس کانفرنسO آصف زرداری و فریال تالپور،24 جولائی کو فرد جرم!O ایران، شدید مالی بدحالی، ایک ڈالر کے دو لاکھ 15 ہزار 5 سو ریال۔٭کراچی اور اسلام آباد میں ہولناک لرزہ خیز جے آئی ٹی رپورٹوںکا میلہ لگا ہوا ہے۔ اب تک مختلف ناموں کے بارے میں تین رپورٹیں سامنے آئی تھیں ان میں سندھ کے بدنام زمانہ بلدیہ ٹائون فیکٹری کو آگ لگانے والے ملزم حماد صدیقی، عزیر بلوچ، نثار مورائی اور ذوالفقار مرزا کے بارے میں متعدد  انسانیت سوز سنگین الزامات تھے۔ سندھ کی حکومت نے آصف زرداری کے مبینہ فرنٹ مین عزیر بلوچ کے بارے میں 35 صفحات کی ایک جے آئی ٹی رپورٹ شائع اور دعویٰ کیا کہ اس میں پیپلزپارٹی کی قیادت (آصف زرداری، بلاول، فریال تالپور) کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے جواب آں غزل کے طور پر وضاحت کی کہ اصل رپورٹ 43 صفحات کی ہے اس میں فریال تالپور وغیرہ کا ذکر موجود ہے اور یہ کہ سندھ حکومت نے اس رپورٹ کے آٹھ صفحات غائب کر دیئے ہیں! قارئین کرام اخبارات میں ان رپورٹوںکی تفصیلات پڑھ لیں، میرا ذہن چکرا رہا ہے۔ میرے خدا! میرے ملک کو وحشی درندوں، مگر مچھوں، خونی چمگاڈروں، بھیڑیوں نے کس طرح بے رحمانہ لوٹا، تجوریاں بھریں! پاکستان کو لوٹ کر برطانیہ، امریکہ، فرانس، دبئی، ملائیشیا، بلجیم اور دوسرے ممالک میں محل، فلیٹس خریدے اور وسیع کاروبار کیا۔ پاکستان سے کھربوں لوٹ کر باہر سٹیل ملیں اور دوسری فیکٹریاں لگائیں۔ اس پر ہی بس نہیں کیا۔ یہ نقب زن پاکستان میں حکمران بن گئے، کوئی صدر، کوئی وزیراعظم! ایک شوگر فیکٹری لگانے والا چھ فیکٹریوں کا مالک بن گیا۔ سینما کی ٹکٹیں فروخت کرتے کرتے پاکستان یورپ اور امریکہ میںبڑے بڑے اثاثے بنا لئے! غریب عوام رُلتے رہے، دو وقت روٹی کو ترستے رہے، خودکشیاں عام ہو گئیں اور یہ ظالم لٹیرے اندر اور باہر تجوریاں بھرتے رہے، ’’ساڈا…آوے ای آوے‘‘ ’’سب پہ بھاری‘‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ کسی کے بیٹوں نے یہ اندھیر گردی سنبھال لی، کسی کے فرنٹ مینوں نے عام قتل و غارت گری پھیلا دی۔ انہی لوگوں کے کارندے، ایک فوجی جرنیل کے نمک خوار چوبدار بھاگتے ہوئے نئی حکومت میں گھس گئے۔ اور آپس میں جانوروںکی طرح لڑنے لگے…اب وفاقی وزیرعلی زیدی نے نئی جے آئی ٹی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اس میں اربوں کھربوں کی منی لانڈرنگ وغیرہ میں فریال تالپور کا نام بھی شامل ہے۔

٭آیئے ذرا ایران چلیں۔ میں تین مرتبہ ایران جا چکا ہوں۔ شاہ رضا پہلوی کے دور میں تہران میں سڑکوں پر اتنی روشنی ہوتی تھی کہ گاڑیوں کو رات کے وقت اپنی بتیاں چلانے کی اجازت نہیں تھی تا کہ آنکھیں نہ چُندھیا جائیں۔ بہت پہلے طلبا کے ایک وفد کے ساتھ کابل، قندھار، ہرات، مشہد کے راستے تہران اور وہاں سے استنبول جانا تھا۔ ہرات سے بذریعہ بس مشہد پہنچے۔ یہ ایران کا متبرک ترین شہر ہے۔ مشہد  میں بس سے اترے تو وہاں کا ڈائریکٹر تعلیمات موجود تھا۔ بڑی محبت اور شفقت کے ساتھ فارسی میں کہنے لگا کہ ’’برخوردارو! تم لوگ نوجوان ہو، ذرا احتیاط کرنا، اپنی جیبوں کی خاص طور پر، پاسپورٹ، نقدی وغیرہ کی حفاظت کرنا، اچھا تو نہیں لگتا کہ تمہارا پہلا استقبال ہی اس بات سے ہو، مگر تم میرے بیٹوں کی طرح ہو، اپنا دھیان رکھنا!‘‘ اس پہلی ’خوش آمدید‘ کے ساتھ تہران پہنچے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں تعلیم حاصل کرنے والا پرانا ایرانی طالب علم ’محمد علی زادہ، ہمارا سرکاری گائیڈ تھا۔ ہمیں جہاں بھی لے جاتا، ایران میں بادشاہ رضا پہلوی کی ترقی کا بار بار ذکر کرتا، دیکھو سڑکیں رات کو بھی کتنی روشن ہیں، مارکیٹیں ہر قسم کے مال اور خریداروں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ بڑے بڑی اونچی عمارتیں، مرسیڈیز ٹیکسیاں دیکھ رہے ہو! ہم اس کی باتوں سے تنگ آ جاتے۔ ایک روز تہران سے باہر ایک پہاڑی پرواقع دریائی ڈیم پر لے گیا۔ مجھے آنکھ کے اشارے سے ایک طرف کافی فاصلہ پر لے گیا۔ اچانک کہنے لگا کہ سرفراز! میری بات غور سے سننا، اپنے تک ہی رکھنا، اس وفد میں تم واحد شخص ہوجو اخباروں میں بھی لکھتا ہے۔ بات یہ ہے کہ یہ جو میں ہر وقت شاہ کی تعریفیں کرتا ہوں، اس کے دور کی ترقیوں کی داستانیں سناتا ہوں، یہ سب میری سرکاری مجبوری ہے مگر یہ سب جھوٹ ہے، بالکل ایسا نہیں ہے۔ شاہ ملک کا سارا سرمایہ لوٹ کر باہر لے گیا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے بنک ایران کی دولت سے بھر گئے ہیں۔ شاہی خاندان عوام کے سروں پر سوار ہو کر ان کا خون نچوڑ رہا ہے۔ یہ جو ترقیاں دکھا رہا ہوں، سب مصنوعی اور کھوکھلی ہیں، سب جھوٹ ہے، عوام رُل گئے ہیں، پِس رہے ہیں۔ واپس جا کراخباروں میں لکھنا کہ ایران بہت جلد تبدیل ہونے والا ہے۔‘‘ ہم واپس اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو ڈرائیور کے سامنے محمد علی زادہ نے پھر آواز بلند کی کہ ’’سرفراز! میں نے تمہیں شاہ کے دور میں جس شاندار ترقی کا بتایا ہے اسے واپس جا کر اخبارات میں ضرور لکھنا! اور ہاں یہ ضرور لکھنا کہ اردگرد، خاص طور پر عرب ممالک کے مقابلے میں ایران کی کرنسی کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

کچھ عرصہ بعد ایران میں انقلاب آ گیا۔ مذہبی حکومت قائم ہو گئی۔ میں ایک وفد کے ساتھ پھر ایران گیا۔ ایران کے بنکوں میں ایک ڈالر کے عوض 506 ریال کی شرح مقرر تھی۔ بازار میں ایک ڈالر کے چار ہزار ریال مل رہے تھے…اور اب!! دِل تھام کر ایران کے اخبارات، ’کیہان انٹرنیشنل، تہران ٹائمز، اور ’اطلاعات‘ کی مصدقہ خبر کے مطابق ناقابل یقین شرح مبادلہ پڑھئے: تینوں اخبارات کے مطابق ایک ڈالر کی قیمت دو لاکھ 15 ہزار، 500 ریال!!۔ تہران ٹائمز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں انتہائی کمی، کرونا وائرس سے بڑے پیمانہ پر کاروبار کی تباہی اور امریکہ کی متعدد پابندیوں کے باعث کئی برسوں سے ایران کی معیشت بالکل تباہ ہو چکی ہے!

٭قارئین کرام! آج ایران کچھ زیادہ ہی یاد آ گیا۔ بس ایسے ہی نوازشریف، آصف زرداری، جہانگیر ترین جیسے بادشاہوں کے ذکر پر شاہ ایران اور اس کا انجام بھی یاد آ گیا۔

٭1995ء: اسلام آباد میں پاکستان ادبی اکیڈیمی کی سالانہ سہ روزہ کانفرنس، ایک خصوصی نشست باہر سے آنے والے ادیبوں، شاعروں کے لئے: مائیک پر روس کے برف زار پہاڑی علاقے سے آنے والا سفید بالوں والا شاعر رسول حمزہ توف (8 ستمبر1923ء، 3 نومبر2003ء) نظم پڑھئے: (روسی زبان کا اُردو ترجمہ انورسن رائے): رسول حمزہ کہتا ہے۔

’’…اے عورت! اگر دنیا میں ایک ہزار مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہیں تو رسول حمزہ بھی ان میں سے ایک ہو گا…اگر ایک سو مرد تم سے محبت کرتے ہیں تو ان میں رسول کو بھی شامل کر لو…اگر دس مرد تم سے محبت کرتے ہیں تو ان دس میں رسول حمزہ ضرور شامل ہو گا…اور اگر پوری دنیا میں صرف ایک مرد تم سے محبت کرتا ہے…تو وہ رسول حمزہ توف کے سوا کون ہو سکتا ہے؟…اور…اوراگر تم تنہا اور اداس ہو اور کوئی مرد تمہاری محبت میں مبتلا نہیں تو سمجھ لینا کہ کہیں بلند پہاڑوں میں رسول حمزہ توف مر چکا ہے!‘‘…رسول حمزہ 2003ء میں انتقال کر گیا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

16