گوجرانوالہ میں پیرس کی طرز کا شہربسایا جائےگا

پاکستان کےشہرگوجرانوالہ میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی طرز کا شہر بنانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ تاہم نیا بننے والا یہ شہر اصل پیرس سے 5 گنا چھوٹا ہوگا۔

ماسٹرٹائلز اینڈ سرامکس کی ذیلی کمپنی نے لےپیرس ہاؤسنگ اسکیم کی منصوبہ بندی کی ہے۔اس کا رقبہ 4800 ایکڑ یعنی 19.4 مربع کلومیٹر ہے۔اصل پیرس کا رقبہ 105 مربع کلومیٹر ہے۔

لےپیرس میں ایفل ٹاور بھی بنایا جائے گا اور اس کی اونچائی 200 میٹر ہوگی۔ یہ اپنی نوعیت کا ایفل ٹاور کا سب سے بلند ماڈل ہوگا۔ اصل ایفل ٹاور324 میٹر بلند ہے۔ اگر لےپیرس میں ایفل ٹاور تکمیل تک پہنچ گیا تو یہ لاہور بحریہ ٹاؤن سے زیادہ بلند ہوگا۔ لاہور بحریہ ٹاؤن کے ایفل ٹاور کی اونچائی 80 میٹر ہے۔ ہاؤسنگ اسکیم لے پیرس میں آرک ڈی ٹرئیومپے کی نقل بھی بنائی جائے گی جبکہ ایک شاہراہ شانزلیزے کی طرز کی سڑک بھی ہوگی۔

فرانس کےاےآرای پی گروپ اوررینزو پیانوبلڈنگ ورکشاپ کو لےپیرس منصوبےکی ٹاؤن پلاننگ ،ڈیزائن اورآرکیٹکچرکی ذمہ داری دی گئی ہے۔ منصوبے کے مارکیٹنگ مینجربلال ساندھونےبتایا کہ پاکستانیوں کو اب یورپ جانےکی ضرورت نہیں پڑےگی۔ اس شہرمیں مناسب قیمت میں مکانات فروخت کے لیے پیش کئے جائیں گے لیکن اس میں اصل پیرس شہر جیسی سہولیات ہونگی۔

انھوں نےبتایا کہ لےپیرس کمپنی نے لوگوں کو پیشکش کی ہے کہ وہ 1لاکھ 10 ہزار روپے میں 5،7 اور 10 مرلے کے پلاٹ سمیت 1 اور 2 کنال،دکانیں اور اپارٹمنٹس  کی رجسٹریشن کروائیں۔ جن لوگوں کی رجسٹریشن ہوئی ہوگی انھیں ترجیج دینےکےعلاوہ جائیداد کی قیمت میں 30 ہزار روپے تک کی سہولت دی جائے گی۔اس کا مطلب یہ ہواکہ وہ افراد1 لاکھ 40 ہزار روپےادا کریں گےجس میں 1 لاکھ 10 ہزار روپے رجسٹریشن کے ہونگے۔

اس پروجیکٹ میں 40ہزار کم قیمت مکانات پسماندہ افرادکودیئےجائیں گے۔اس پروجیکٹ میں تقریبا 17 فیصد یا 800 ایکڑ اراضی پر کم قیمت مکانات ہونگے۔پروجیکٹ بنانے والی کمپنی نے مختلف کیٹیگریز کی قیمت سمیت پروجیکٹ کے حتمی مقام سے متعلق تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔

مارکیٹنگ مینجر نےبتایا کہ اس پروجیکٹ کی قرعہ اندازی 31 مارچ 2021 کو ہوگی اور3 سال کےاندرتعمیراتی کام مکمل کرکے رہائشیوں کے سپرد مکانات کردئے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سےکنسٹریکشن پیکج کے اعلان کے بعد سےبلڈرز اور ڈیولپرزبہت فعال دکھائی دے رہےہیں۔کنسٹریکشن پیکج میں تعمیراتی سیکٹر کے لیے کئی سہولیات موجود ہیں جن میں اسٹیل اورسمینٹ کےشعبوں میں چھوٹ شامل ہے تاکہ ملکی معیشت بہتر ہوسکے کیوں کہ 68 برس میں پہلی برس معیشت سکڑ رہی تھی۔

اس کےعلاوہ ،پاکستان میں ہاؤسنگ کے شعبے میں 1 کروڑ 10 لاکھ مکانات کی ضرورت ہے۔ ملک میں ہر سال 7 لاکھ مکانات کی طلب بڑھ رہی ہے۔

تعمیراتی شعبے کےلیے قانون میں حالیہ ترمیم کی گئی تاکہ اگلے 6 ماہ کے لیے ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کی جائے۔ ایف بی آر کی جانب سے سرمایہ کاروں اور بلڈرز سے 6 ماہ تک ذرائع آمدنی سے متعلق پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ موجودہ تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے بھی ایک سال کی توسیع دی گئی ہے۔

اس اسکیم میں آنےوالے منصوبے اب 30 ستمبر 2023 تک مکمل کئے جاسکیں گے۔اس سے قبل اصل ڈیڈ لائن 30 ستمبر2022 تک تھی۔ ترمیم شدہ آرڈیننس کےتحت، جوافراد پلاٹس یاہاؤسنگ یونٹس خریدیں گےانھیں بھی 6 ماہ تک ذرائع آمدنی نہیں بتانا ہوگی۔

بلڈرز اور ڈیولپرز کو ٹیکس کی مد میں 6 گنا بچت ہوگی اگر وہ وزیراعظم کے تعمیراتی پیکج کے تحت رجسٹر ہوجائیں گے۔ ایف بی آر کے عہدے دار عبدالحفیظ نے 7 اکتوبر کوایک سیمینارمیں بتایا تھا کہ ٹیکس کی مد میں یہ بچت منافع کے علاوہ ہوگی۔

لوگوں کوقانونی طریقےسے کمائی گئی رقم سفید کرنے کی اجازت ہوگی اور ان سے منی ٹریل نہیں مانگی جائے گی۔ تاہم غیرقانونی ذرائع سے کمائی جانے والی رقم سمیت رشوت کے پیسہ کی اس طریقہ کار سےلانڈرنگ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

لوگ قانونی طریقے سے رقم کما کرجمع کرتےہیں اوراس پر ٹیکس نہیں دیتے۔اس عارضی اسکیم کے ذریعے یہ سہولت دی گئی ہے کہ ان کا پیسہ گردش میں آسکتا ہے۔یہ اسکیم سرکاری ملازمین کے لیے نہیں ہے۔

بلڈرز اور ڈیولپرز ایف بی آرکےذریعے 30 جون2021 تک موجودہ اور نئے پروجیکٹس میں توسیع کے بعد خود کو رجسٹر کرسکتے ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے بلڈرز اور ڈیولپرز کو اس اسکیم کے فوائد سے آگاہ کیا جارہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کنسٹرکشن پیکج کےتحت سیمنٹ کے فروخت میں اضافہ متوقع ہے۔ کنسٹرکشن کےشعبے میں بہتری سے 60 ذیلی صنعتیں ترقی کرتی ہیں۔نیاپاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت تیار کردہ کم قیمت ہاؤسنگ پروجیکٹس پر 90 فیصد کم ٹیکس لیا جائے گا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

164