کورنگی کازوے پر فلائی اوور اور ایکسپریس بنانے کا منصوبہ

image

سندھ حکومت نے کراچی کے موجودہ کورنگی کاز وے کے متبادل کے طور پر کورنگی لنک روڈ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کیلئے کاز وے روڈ بند کردیا جائے گا۔

سندھ لوکل گورنمنٹ کے اسپیشل سیکریٹری (ٹیکنیکل) نجیب احمد نے بتایا کہ ہم نے کورنگی کاز وے کو سیلاب کے باعث ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کورنگی کاز وے کے متبادل کے طور پر ملیر ندی پر ایک اوور ہیڈ برج اور ایکسپریس وے تجویز کیا گیا ہے، یہ پل کورنگی کو دیگر علاقوں جیسے قیوم آباد، ڈیفنس اور ملحقہ علاقوں سے جوڑ دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کورنگی لنک روڈ کہا جارہا ہے۔

حکومت نے ملیر ندی کے بائیں کنارے پر پی اے ایف ایئر مین گالف کلب تک ایکسپریس وے تجویز دی ہے۔

کورنگی لنک روڈ کی لمبائی 11.5 کلومیٹر ہے اور اس پر 8.8 ارب روپے لاگت آئے گی، یہ ایکسپریس وے اور فلائی اوور کا جال ہے اور اسے بننے میں تقریباً دو سال لگیں گے۔

گزشتہ سال شدید بارش کے باعث کورنگی شہر کے دیگر علاقوں سے کٹ گیا تھا اور گھر جانیوالے لوگ گھنٹوں پھنسے رہے۔

اسپیشل سیکریٹری کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کورنگی کے جام صادق پل کے متوازی تعمیر کیا جائے گا، 1.3 کلومیٹر کا پل امتیاز سپر اسٹور، قیوم آباد سے بروکس چورنگی تک بنایا جائے گا۔

نجیب احمد نے تصدیق کی کہ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) نے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ مکمل کرلیا ہے، جسے منظوری کیلئے سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کو بھیجا جائے گا۔

نیسپاک اس منصوبے کا کنسلٹنٹ ہے تاہم ٹھیکیدار کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ دسمبر تک اس حوالے سے ٹینڈر کھولے گا۔

ٹھیکیدار انجینئرنگ ڈیزائن بنانے کے ساتھ اس پر آنے والے لاگت کا تخمینہ لگائے گا۔

ان کا کام فنانسنگ کا حصول اور تعمیر کا کام بھی ہوگا، ٹھیکیدار لنک روڈ چلاتا اور دیکھ بھال کرتا ہے۔

اسپیشل سیکریٹری نے کہا کہ ایک آزاد انجینئرنگ فرم اس منصوبے کی آزادانہ جانچ کریگی، ٹھیکیدار تیسری پارٹی کی جانچ کیلئے 3 انجینئرنگ فرموں کو نامزد کرسکتا ہے، تاہم اس میں سے ایک کی منظوری سندھ حکومت دے گی۔

نجیب احمد کا کہنا ہے کہ حکومت لنک روڈ کیلئے زمین خریدنے میں مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے کیونکہ کورنگی 1000 روڈ پر دریائے ملیر کے بائیں کنارے پر نجی ملکیت کے صنعتی پلاٹ واقع ہیں، لنک روڈ کے راستے میں تقریباً 3.62 ایکڑ نجی زمین موجود ہے۔

ماحولیاتی خدشات

ماحولیات سے متعلق وکیل زبیر ابڑو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کا بنیادی مقصد اس منصوبے کے ذریعے ملیر ندی کیچمنٹ ایریا کو دوبارہ حاصل کرنا ہے، درحقیقت، لفظ “ری کلیم” کا استعمال دریا کے کنارے پر قبضہ کرنے اور اسے تعمیرات کے ساتھ ڈھکنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ملیر ندی کے کنارے لنک روڈ بنانا ماحولیاتی نظام کیلئے خطرہ ہے، یہ تعمیر قیوم آباد پر ملیر ندی میں داخل ہوگی، جو کہ خطرناک ہے کیونکہ دریا کے دونوں اطراف ایکوسسٹم موجود ہے، جس سے خدشہ ہے کہ نباتات اور حیوانات کو نقصان پہنچے گا۔

زبیر ابڑو کا کہنا ہے کہ اگر یہ فلائی اوور اور ایکسپریس وے بنایا جاتا ہے تو انسانی بستیاں اس کے ارد گرد پھیل جائیں گی، جو دریا کی جگہ پر بھی تجاوز کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ لیاری ندی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، منصوبے کیلئے ماحولیاتی مطالعہ کافی نہیں، دریا کے کنارے موجود مخلوق کی تعداد گنی جارہی ہے لیکن ان کی نقل مکانی کا کوئی متبادل فراہم نہیں کیا جارہا، علاقے کی قدرتی جنگلی حیات کا کیا ہوگا؟۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.