انگلش چینل میں تارکین کی ہلاکت، برطانیہ اور فرانس میں لفظی جنگ

image
کشتی کے ذریعے انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں 27 افراد کی ہلاکت پر برطانیہ اور فرانس کے سربراہان میں لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق بدھ کو برطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کی کوشش میں فرانس کے قریب سمندر میں کم از کم 27 افراد  ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں۔

یہ واقعہ حالیہ برسوں میں انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں ہونے والے بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کے واقعات میں سے ایک ہے۔

فرانس کے پراسیکیوٹر آفس کے مطابق ڈوب کر ہلاک ہونے والے افراد میں 17 مرد، سات خواتین اور تین نوجوان شامل ہیں۔

موقع پر پہنچنے والے ایک ریسکیو اہلکار کا کہنا ہے کہ اسے ایک حاملہ خاتون کی لاش ملی ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکخوان اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن دونوں نے ہی اس اندوہناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ میکخوان نے کہا تھا کہ وہ ’انگلش چینل کو قبرستان نہیں بننے دیں گے۔‘

دونوں سربراہان نے تارکین وطن کے غیرقانونی داخلے کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق ظاہر کیا تھا تاہم دونوں نے ہی ایک دوسرے پر ’ناکافی اقدامات‘ کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

بدھ کی رات ٹیلیفونک رابطے میں میکخوان نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے جانسن پر زور دیا تھا کہ وہ تارکین وطن کے (برطانیہ میں) غیرقانونی داخلے کے معاملے کو سیاسی رنگ دینا بند کریں۔

بورس جانسن نے فرانس سے کہا ہے کہ وہ انگلش چینل عبور کر کے انگلینڈ پہنچنے والے تمام تارکین کو فوری طور پر واپس لے (فوٹو: روئٹرز)

جانسن نے جمعرات کو بتایا کہ انہوں نے میکخوان کو لکھا ہے کہ پانچ اقدامات کیے جائیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ جلد سے جلد کیے جانے چاہییں تاکہ چھوٹی کشتیوں میں سوار ہو کر انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں آئندہ لوگوں کی ہلاکت کے واقعات سے بچا جا سکے۔

ٹوئٹر پر ایک تھریڈ میں بورس جانسن نے لکھا کہ فریقین نے ’صورتحال کی اہمیت‘کو تسلیم کیا ہے۔ ان کی تجاویز میں کشتیوں کو روکنے سے کے لیے مشترکہ گشت، بہتر انٹیلی جنس کی شراکت اور فوری دو طرفہ معاہدے پر کام پر زور دیا گیا ہے۔

بورس جانسن نے فرانس سے کہا ہے کہ وہ انگلش چینل عبور کر کے انگلینڈ پہنچنے والے تمام تارکین کو فوری طور پر واپس لے۔

جانسن نے بتایا کہ ’ فرانس کے ساتھ خطرناک راستے ذریعے انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کو واپس لینے کے معاہدے کا فوری اور اہم اثر ہوگا۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.