کیا عمر کے ساتھ ساتھ جنسی شہوت میں بھی کمی آتی ہے؟

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جنسی طور پر متحرک رہنے کو ایک بنیادی حق اور اچھے معیار زندگی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ جس طرح ایک انسان بطور مرد یا خاتون کے اپنے آپ کو محسوس کرتا یا اس کا اظہار کرتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے جو تمام عمر قائم رہتی ہے۔
معمر جوڑا
Getty Images

کلاڈیا اور لیوس کی ملاقات بہت کم عمری میں ہوئی تھی۔ پہلی نظر میں ہی انھیں یہ لگا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔ ان کے رشتے کی ابتدا میں جذبات کی شدت بہت زیادہ تھی۔ وہ ہر وقت ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے سے متاثر رہتے تھے۔

ان میں ایک دوسرے کو چھونے سے ہی جنسی جذبات بھڑک اٹھتے تھے اور وہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے رہتے تھے۔

انھوں نے اپنی تمام عمر ایک دوسرے کے ساتھ گزاری۔ اگرچہ اس دوران ان کے کچھ صحت کے مسائل بنے لیکن وہ مجموعی طور پر صحت مند اور اپنے کام خود کرنے والا جوڑا ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے قریبی ڈے کیئر سینٹر میں وقت گزارتے ہیں، چہل قدمی کرتے ہیں اور گھر کے کام میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ گاہے بگاہے وہ اپنے پوتے پوتیوں کا خیال بھی رکھتے ہیں۔

یہ دونوں اب بھی ایک دوسرے کے لیے پرکشش ہیں لیکن اب ان جذبات کی نوعیت مختلف ہے۔ وہ اپنی محبت اور جسمانی تعلق سے خوش ہیں۔ یہ زندگی کے ہمسفر والی محبت ہے یعنی اس تعلق کا مزہ کہ جسے آپ چاہتے ہیں اور وہ عمر بھر آپ کے ساتھ ہے۔

جنس اور شہوت انسانی جنسی عمل کے دو مختلف مگر اہم پہلو ہیں۔ پوری زندگی اس عمل کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ روز مرہ زندگی میں جسم کی کشش، باہمی لطف اور مزاح کیسے اس سے جڑا ہے۔

معمر افراد کو بھی بچوں، نوعمروں، نوجوانوں اور بڑوں کی طرح خوش اور تندرست رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، اگرچہ ان کے بارے میں کم ہی ایسا سوچا جاتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو ادارہ جاتی زندگی گزارتے ہیں لیکن ان کی خواہشات عمر کے ساتھ غائب نہیں ہوتی ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جنسی طور پر متحرک رہنے کو ایک بنیادی حق اور اچھے معیار زندگی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ جس طرح ایک انسان بطور مرد یا خاتون کے اپنے آپ کو محسوس کرتا ہے یا اس کا اظہار کرتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے جو تمام عمر قائم رہتی ہے۔ اسے ہی جنسیت کہتے ہیں۔

معمر جوڑا
Getty Images

عمر کے ساتھ لذت کم نہیں ہوتی

زیادہ تر عمررسیدہ افراد جنسی طور پر متحرک رہتے ہیں اور جنسی تعلقات میں دلچسپی اور لذت عمر کے ساتھ کم نہیں ہوتی۔

اگرچہ عمر، بذات خود، ان جنسی طریقوں کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں، جن سے زندگی بھر لطف اندوز ہوتے رہے ہوں لیکن جہاں مناسب ہو بعض جسمانی طاقت، بیماریوں یا دوائیوں کے اثرات کے مطابق ان میں کچھ بدلاؤ لانا پڑ سکتا ہے۔

جب کوئی جنسی طور پر متحرک ہوتا ہے تو یہ تبدیلیاں کم واضح ہوتی ہیں اور تخیل، حسی محرک اور مددگار ماحول خوشی اور ملاقات کے لیے قبولیت کو بڑھا سکتی ہیں۔

ان بیرونی محرکات کے بارے میں تحقیق کے دوران ان ضروریات کا جائزہ لیا گیا جن کے بارے میں معمر افراد زیادہ بات کرتے ہیں۔

مردوں میں ٹاپیکل کریم سے لے کر پینائل ہارنس تک، عضو تناسل کی کارکردگی کے بارے میں سب سے زیادہ فکر پائی جاتی ہے جبکہ خواتین کی دلچسپی زیادہ تر جنسی عمل میں تکلیف سے بچنے کے علاوہ شہوت انگیزی کے محرکات جیسے عطریات اور جنسی کھلونوں میں دکھائی دیتی ہے۔

تاہم اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایسے بالغ بھی ہیں جو جنسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا انتخاب کرتے ہیں اور یہ بھی معمول کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’37 سال کی عمر تک سیکس نہ کرنے پر افسوس‘

معمر افراد میں سیکس کی چاہ پہلے سے زیادہ

کیا دنیا میں سیکس ہر جگہ ایک جیسا ہے؟

کیا سیکس کی لت کوئی بیماری ہے؟

معمر جوڑا
Getty Images

بیوگی کا اثر

بڑھتی عمر کے ساتھ جنسیت کو متاثر کرنے والے نفسیاتی اور سماجی عوامل بہت اہم ہیں۔ بہت سی ثقافتوں میں، سیکس نوجوانوں کا کام سمجھا جاتا ہے اور بوڑھے لوگ ممکنہ طور پر اس سے کم ہی تعلق جوڑتے ہیں جو ان کی خود اعتمادی کو منفی طور پر متاثر کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی جنسی کارکردگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، بیوہ یا رنڈوا ہونے کے جذباتی اور جنسی صحت کے لیے بہت سے مضمرات ہوتے ہیں کیونکہ وہ لوگ جو اپنی زندگی کے زیادہ تر عرصے ایک رشتے میں رہے ہیں وہ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ اپنے طویل مدتی جنسی احساسات کا کیا کیا جائے۔

یونیورسٹی آف دی ایلڈرلی کے طلبا سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق 93 فیصد کا کہنا تھا کہ جنسیت ان کی بہبود کا ایک بہت اہم جزو ہے اور 71 فیصد کا کہنا تھا کہ جب جنسی عمل کا سلسلہ کم ہو بھی جائے تو بھی ان کی جنسی خواہش فعال رہتی ہے اور وہ اپنے ساتھی سے پیار کا اظہار کرتے ہیں۔

ڈوپامائن کے اثر کے تحت جو ایک شدید اور پرجوش محبت تھی، وہ اب اپنے ساتھی سے محبت ہے۔ اس ساتھی سے محبت جس سے آپ پیار کرتے ہیں جس میں اب حسیات اور جذبات غالب ہیں مگر وہیں نیورو ٹرانسمیٹرز (سیروٹونن اور آکسیٹوسن) بھی ہیں جن کے اثرات مسکن ہیں۔

یہ تبدیلیاں جنسی عمل کے دوران جذباتی کشادگی، رشتوں کے دوران لذت سے محرومی اور جنسی عمل کے بعد اپنے موڈ پر اطمینان میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔

جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے، لوگوں کی اپنے ذہن میں موجود ان کی اپنی شبیہ میں فرق پایا جاتا ہے، مثال کے طور پر جنسی جوش کی شدت (54% مرد/45% خواتین) یا دی جانے والی اور موصول ہونے والی چیزوں کے درمیان توازن (63% مرد/36% خواتین)۔

لذتوں کی محبت زندگی بھر برقرار اور پھیلتی رہتی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر ہم پہلے سے ان میں شامل نہیں تو ہم سب آنے والے چند برس میں بوڑھے ہو جائیں گے اور ہم بھی وہی چاہیں گے جو سب چاہتے ہیں یعنی کہ لطف اندوزی، وقار، رازداری اور بغیر کسی مداخلت کے کسی فرد کی توجہ۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.