بے ہوش ڈرائیور کو بچانے کیلئے خاتون کا زبردست اقدام

image
ڈرائیورکے بے ہوش ہونے پر خاتون مسافر بس چلاکر اسپتال لے گئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارت کے علاقے واگھولی سے 20 افراد پکنک منانے موراچی چنچولی گئے تھے، پکنک  کے بعد جب شام 5 بجے کے بعد واپسی کا سفر شروع کیا تو کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد بس ڈرائیور نے اچانک بے چینی کی شکایت کی۔

ڈرائیور نے نے کہا کہ اسے چکر آ رہے ہیں اور کچھ نظر نہیں آ رہا ہے، وہ بے ساختہ بول رہا تھا اور وہ بے ترتیب انداز میں بس چلا رہا تھا جس پر بس میں موجود سبھی چیخنے لگے۔

ایک یوگیتا نامی خاتون ڈرائیور کے بالکل پیچھے بیٹھی تھی تھی وہ اٹھی اور اس کے پاس گئی اور پوچھا کہ کیا ہوا؟ لیکن وہ بمشکل اسے بتانے میں کامیاب ہوا کہ وہ بیمار محسوس کر رہا ہے۔

یوگیتا نے اس سے کہا کہ اگر اسے چلانے میں دشواری ہورہی ہے تو میں بس چلا لوں گی، ان کی بات چیت کے درمیان ہی ڈرائیور گرگیا اس دوران چند خواتین آئیں اور ڈرائیور کو دوسری سیٹ پر لے گئیں جب کہ یوگیتا نے دوسرے مسافروں سے کہا کہ وہ اسٹیئرنگ وہیل سنبھالیں گی کیونکہ وہ گاڑی چلانا جانتی ہیں۔

#Pune woman drives the bus to take the driver to hospital after he suffered a seizure (fit) on their return journey. #Maharashtra pic.twitter.com/Ad4UgrEaQg

— Ali shaikh (@alishaikh3310) January 14, 2022

یوگیتا نے اسٹیئرنگ سنبھالا اور ڈرائیور کو ایک قریبی اسپتال لے گائی جہاں اسے داخل کرادیا گیا جب کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ شاید اسے دل کا دورہ پڑا ہے۔

یوگیتا کے شوہر نے جب یہ کہانی سنی تو وہ حیران رہ گئے اور کہا کہ میں جانتا تھا کہ وہ کار چلانے میں اچھی تھی لیکن مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ بس چلا سکتی ہے وہ بہت بہادر ہے۔

سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کرنے والی یوگیتا نے بتایا کہ مجھے کار چلانے کا کافی تجربہ ہے لیکن میں نے اپنی زندگی میں کبھی بس یا بھاری گاڑی نہیں چلائی تھی، کار کے گیئرز ہموار ہیں، بس کے گیئرز سخت ہیں، گیئر ڈالنے میں کافی جدوجہد کی کیوں کہ بس کا نظام الٹا ہے، بس کے گیئرز مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔

یوگیتا کو واگھولی کی سابق سرپنچ اور مقامی لوگوں نے ان کی بہادری پر حوصلہ افزائی کی اور مبارکباد دی۔

Square Adsence 300X250

News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.