پاکستان نے بھارت کے نئے میزائل ڈیفنس سسٹم ” ایس 400″ کا بھی توڑ نکال لیا

image

بھارت کے نئے روسی ساختہ S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کے پہلے بیچ کو اس سال اپریل تک فعال کردیا جائے گا۔ روس کی  جانب سے تیار کیے گئے اس میزائل ڈیفنس سسٹم کو بھارتی پنجاب میں تعینات کیا گیا ہے۔

بھارتی پنجاب کی ایک طویل سرحد پاکستان سے لگتی ہے، تو ایسے میں ضروری ہے پاکستان بھی اس خطرے کا فوری حل نکالے۔

بھارت کی جانب سے S-400 کی تعیناتی کا مقصد پاکستان کے جدید ترین میزائلز، جے ایف 17 تھنڈر طیاروں جیسے مہلک خطروں سے نمٹنے اور اپنی فضائی دفاع میں موجود خامیوں کو پُر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

ایس 400 کو دنیا میں اپنی طرح کا سب سے بہترین سسٹمز میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔

چار سو کلومیٹر کی رینج کے ساتھ، ایس 400 ٹرائمف (S-400 Tirumf) میں راکٹ، میزائل، کروز میزائل اور یہاں تک کہ فائٹر جیٹس جیسے مختلف ہتھیاروں کے خلاف اپنے فضائی ڈیفنس سسٹم کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا روسی ساختہ ائیر ڈیفنس سسٹم “ایس 400” کچرا قرار

بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحد پر اس سسٹم کو تعینات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے۔ ایسے میں ایس-400 ملک کے زیادہ تر حصے کو کور کرتا ہے۔

بھارت نے S-400 کو پاکستان اور چین دونوں سے نمٹنے کے لیے خریدا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا سسٹم ہے۔ جسے HQ-9B سرفیس ٹو ایئر میزائل سسٹم کے طور پر جانا جاتا ہے۔

پاکستان نے پچھلے سال اکتوبر میں اس کے ایک دیگر ورژن  HQ-9/Pکو اپنے آرسنل میں شامل کیا۔

 HQ-9/P ایک انٹیگریٹڈ ایئر اور میزائل ڈیفنس نیٹ ورک کے حصے کے طور پر کام کرنے کے قابل ہے۔ اس سسٹم کی رینج 100 کلومیٹر ہے۔ تاہم، خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی حد صرف ہوائی جہاز پر لاگو ہوتی ہے۔

چونکہ پاکستان ایس-400 جیسا مہنگا میزائل سسٹم خریدنے کا بجٹ نہیں رکھتا، اسی لیے اب اس کے جواب میں پاکستان ڈرونز پر انحصار کر رہا ہے۔

پاکستان ترکی سے ڈرونز خرید رہا ہے اور اپنی ڈرون یونٹ کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔

ممکنہ طور پر ایس-400 سے نمٹنے کے لیے پاکستان ڈرون کا استعمال کرسکتا ہے، تاکہ سسٹم کے رڈار کو جام کر دیا جائے۔

 ایس-400 کا رڈار سینکڑوں ٹارگیٹ کا پتہ لگا سکتا ہے لیکن ہر ریجمنٹ کے پاس محدود تعداد میں انٹرسیپٹر میزائلز ہیں۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.