ایوان نہیں تھے تو سڑکوں سے فیصلے کرائے، وہ وقت دوبارہ آگیا: خالد مقبول

image

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ جب ایوان نہیں تھے تو ہم نے سڑکوں سے فیصلے کرائے، اب وہ وقت دوبارہ آگیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو بیدردی سے قتل کیا جا رہا ہے، سندھ میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور حکومت سندھ کی من مانیاں ختم نہیں ہو رہی ہیں۔

سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جنہوں نے انتظامی اور لسانی بنیادوں پر سندھ کو تقسیم کیا ہم ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوانوں میں جمہویت کا جنازہ نکلا ہوا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی مصنوعی اکثریت کے ذریعے سندھ پر قابض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی حمایت نہیں، آپ کو ہماری حمایت کی ضرورت ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کے سابق میئر وسیم اختر نے کہا کہ سندھ میں نہ انصاف بچا ہے اور نہ ہی جمہوریت۔ انہوں نے کہا کہ  ٹنڈو اللہ یار میں 6 بیٹیوں کے باپ کو بیدردی سے قتل کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کی جانب سے قاتل کو پروٹوکول دیا جارہا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ حکومت سندھ کے کالے بلدیاتی قانون کیخلاف ایم کیوایم پاکستان سراپا احتجاج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالے قانون کے تحفظ کے لیے پیپلزپارٹی سندھ میں لسانی فسادات کرانا چاہتی ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان نے تحریک انصاف کو ہر جگہ سپورٹ کیا لیکن تحریک انصاف نے ایم کیوایم پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم کو ووٹ کی ضرورت ہوئی تو وفد ایم کیوایم کے مرکز بھیجا جاتا ہے۔

کراچی کے سابق میئر وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی حکومت خلیل الرحمان کے قتل کا فوری نوٹس اور ایکشن لے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر داخلہ کو سمجھ نہیں آتی تو عمران خان خود ایکشن لیں۔

پیپلزپارٹی سبسڈی دینے کے بجائے صرف لہو پیتی ہے، خالد مقبول

ہم نیوز کے مطابق وسیم اختر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سے کہتا ہوں کہ اگر اس واقعے پر ایکشن نہیں لیا گیا تو ہم کسی کو چین سے بیٹھنے نہیں دیں گے اور وزیراعظم کے ایکشن تک احتجاج جاری رکھیں گے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.