گرمی کا توڑ سمجھا جانے والا لیموں، گرمی کی شدت سے کیسے نایاب ہو رہا ہے؟

گرمیوں کے سیزن کا پہلا پھل عموماً لیموں ہی کو کہا جاتا ہے جو موسمی تبدیلی کا شکار ہو چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی پھلوں کے ساتھ کیا صورتحال پیش آتی ہے؟
لیمن
BBC

’لیموں اس وقت چھوٹے گوشت سے بھی مہنگا ہوچکا ہے جس کو خریدنا ہمارے بس سے باہر نظر آتا ہے۔‘

مہنگائی کا شکوہ تو عام سننے کو ملتا ہے مگر کبھی کبھار تو کسی ایک چیز کے مہنگا ہونے کا الگ سے گلہ موسمی بھی ہو سکتا ہے۔ گرمی اپنے عروج پر ہے تو ایسے میں بی بی سی کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی رہائشی یاسمین مقبول نے لیموں کی قیمت میں بے تحاشا اضافے سے متعلق اپنے مشاہدات کے بارے میں بتایا۔

ان کے مطابق کبھی ’ہمارے پاس گرمیوں کا بہت اچھا، آسان اور سستا توڑ موجود تھا۔ گھر کے سب چھوٹے بڑوں کو لیموں ملا پانی پلا دیتے تھے۔ اب پہلے تو لیموں دستیاب ہی نہیں اور اگر یہ کسی جگہ دستیاب ہو بھی تو سبزی فروش 50 روپے میں ایک لیموں دینے کو تیار نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ’ لیموں ویسے تو سارا سال ہی استعمال میں رہتا ہے، جسے سلاد کے علاوہ کھانے میں ذائقے کے لے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ مگر گرمیوں میں یہ ہمارے گھر میں لازم و ملزوم ہوتا تھا۔

گھر کا ہر چھوٹا بڑا، کالج، یونیورسٹی اور اپنے کام کاج کے لیے آنے جانے والوں کو لیموں کے دو گلاس پانی پلا دیتے تھے۔ جس سے ان کو سکون اور راحت حاصل ہوتی۔‘

لیمن
BBC

ان کے مطابق لیموں رمضان کے آغاز میں مہنگا دستیاب تھا مگر اس میں رس نہیں ہوتا تھا۔

’رمضان کے آخر میں تو اس کی قیمت 1500 روپے کلو تک پہنچ گئی تھی۔ اتنی لاگت میں تو ہمارے گھروں میں کھانا بھی کبھی کبھی پکتا ہے۔ تو ایسے میں لیموں کہاں سے خرید کر لائیں۔‘

یہ کہانی صرف ایک خاتون خانہ یاسمین مقبول کی نہیں بلکہ تقریباً پاکستان کے ہر گھر کی ہے۔

لیموں گھر کے علاوہ کئی اور شعبوں میں بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ طبی ماہرین لیموں کے استعمال کے متعدد فوائد کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اس کے کئی کاروباری استعمال بھی موجود ہیں۔

’کوشش کرتے ہیں نہاری کے مصالحے میں لیموں کم رکھیں‘

ایک جانب جہاں لیموں کو دیسی طریقہ علاج کے علاوہ ادویات وغیرہ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، وہیں ذائقہ دار مزیدار نہاری جیسے کھانے لیموں کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نہاری کے لیے مشہور زاہد نہاری ریسٹورنٹ کے مالک وحید احمد کہتے ہیں کہ ’ہمیں اس وقت لیموں 1200 روپے کلو دستیاب ہے۔‘

لیمن
BBC

ان کے مطابق وہ کئی سال سے کاروبار سے منسلک ہیں مگر انھوں نے اس طویل عرصے میں کبھی لیموں کی قلت نہیں دیکھی۔

ان کے مطابق ’ہم تو کئی من کے حساب سے لیموں خریدتے ہیں۔ مگر اس کا اتنا نرخ اس سے پہلے نہیں دیکھا۔‘ ان کے مطابق ’کوشش کرتے ہیں کہ نہاری کے مصالحے میں لیموں کم ہی رکھیں۔‘

زاہد نہاری ریسٹورنٹ تو کسی نہ کسی طرح لیموں کا ذائقہ اپنے کاہگوں کو پیش کررہے ہیں۔ مگر کئی ایسے ریستوران بھی ہیں جو اپنی ضرورت کے مطابق لیموں خرید ہی نہیں پاتے اور کاہگوں کو بغیر لیموں ہی کے نہاری پیش کرتے ہیں تو ایسے میں اکثر گاہک ان سے ناراض ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔

صرف نہاری کے ریستوران ہی نہیں بلکہ مِلک شیک اور جوس کی کئی دکانوں نے لیموں سے تیار ہونے والی سکنجبین فروخت کرنا ہی بند کردی ہے۔

راولپنڈی کے صدر بازار کے جوس سنٹر کے مالک محمد مجید کہتے ہیں کہ ’اب اگر کوئی سکنجبین مانگتا ہے تو وہ دیکھ بھال کر گاہک کی فرمائش پوری کرتے ہیں کیونکہ تین سو روپے سے کم گلاس فروخت نہیں کرسکتے اور عام کاہگ کو تین سو روپے کا بولیں تو وہ لڑنے جھگڑنے پر اتر آتا ہے۔ اس لیے اکثر کاہگوں سے کہتے ہیں کہ لیموں ہی نہیں ہے۔‘

پنجاب کے شہر سرگودھا کی سبزی منڈی کے بڑے آڑھتی مقبول کہتے ہیں کہ ’جب لیموں دستیاب نہیں ہوگا تو اس کی قیمتیں آسمان ہی پر جائیں گی۔ گذشتہ برسوں میں اس سیزن میں ہمارے پاس روزانہ نو سے 10 کلو کے پندرہ سو دو ہزار کارٹن آسانی سے فروخت ہوجاتے تھے۔‘

’اب اس وقت روزانہ 15 سے 20 کاٹن آرہے ہیں جو ضرورت سے بہت کم ہیں۔‘

سندھ سے لے کر خیبر پختونخوا تک کسی بھی جگہ پر لیموں دستیاب نہیں ہے۔ زمیندار اور کاشت کار کہتے ہیں کہ ساری کی ساری فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ 80 فیصد لیموں تباہ ہوچکا ہے۔

ضلع رحیم یار خان کے قریب موجود صحرا اور اس سے منسلک صوبہ سندھ کے صحرا جس کی سرحدیں انڈیا کے ساتھ جا کر ملتی ہیں، وہاں پر ایک مقامی کاشت کار وزیر احمد مہر کے اندازے کے مطابق چار ہزار ایکڑ پر لیموں کے باغات ہیں۔ لیموں کے باغات کے اس سلسلے کو پاکستان میں لیموں کے باغات کا بڑا سلسلہ کہا جاتا ہے۔

وزیر احمد مہر کہتے ہیں کہ ’اس صحرا میں لیموں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں اُگتا ہے۔ کئی برسوں تک حالات اچھے اور ٹھیک تھے۔ مگر گذشتہ تین چار برسوں سے مسائل کا شکار ہے۔ ہر سال ہماری پیداوار کم ہوتی جارہی ہے۔‘

لیمن
BBC

ان کے مطابق ’اس برس تو ظلم ہوا ہے۔ مارچ کے مہینے میں درختوں پر پھولوں کی کلیاں نکلی اور گر گئیں۔ اس صورتحال کا شکار کوئی ایک باغ نہیں بلکہ پوری پٹی کے اندر یہی صورتحال ہے۔ میرا خیال ہے کہ نوے فیصد پیداوار متاثر ہوچکی ہے۔‘

وزیر احمد مہر کہتے ہیں ’میری تین ایکڑ زمین پر لیموں لگا ہوا ہے۔ ہر فصل پر تقریباً ایک ایکٹر سے تقریباً دو لاکھ کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر ایک فصل کے چھ لاکھ مل جاتے تھے۔ اس سال تو مجھے پوری فصل کے بمشکل تیس ہزار روپے ملے ہیں۔‘

لیموں کے ان باغات سے کئی لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

ان کے مطابق ’ایک ایکڑ پر 15 سے 20 مزدور پھل اتارتے ہیں۔ وہ دن میں تین، چار بوریاں ہی اتار سکتے ہیں۔‘ مگر اس دفعہ لیموں کی فصل متاثر ہونے سے سینکڑوں خاندانوں کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔

لیموں کی فصل کیوں متاثر ہوئی؟

وزیر احمد مہر کہتے ہیں کہ ’چار سال پہلے ہمارے پاس پھل متاثر ہونا شروع ہوا۔ پہلے پھل لگ کر گر جاتا تھا، پھر پھول گرنا شروع ہوئے۔ گزشتہ برسوں میں ہم لوگوں نے ہر دوائی اور طریقہ کار اختیار کرلیا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘

’اس برس تو ہمیں پتا چل رہا ہے کہ ریکارڈ گرمی پڑی ہے۔ مگر ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ گذشتہ برسوں میں کیوں متاثر ہوئے ہیں؟‘

برچا سٹریس سرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر کے چیف ایگزیکٹو میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’لیموں سندھ، جنوبی پنجاب، پوٹھوہار رینج، سرگودھا کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ لیموں کی پیداوار صوبہ سندھ میں ہوتی ہے۔‘

صوبہ سندھ ہی سب سے زیادہ ملکی ضرورت پوری کرتا ہے۔ دوسرے نمبر پر جنوبی پنجاب اور پوٹھوہار کا علاقہ اور پھر خیبر پختونخوا کا ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں پاکستان کا مقامی لیموں جس کو دیسی یا کاغذی لیموں بھی کہا جاتا ہے زیادہ موجود ہے۔ جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سسنگڑ اور ملائیشین سیڈلیس جبکہ خیبر پختونخوا میں زیادہ تر چائنیز لیموں پایا جاتا ہے۔‘

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’لیموں کے درختوں پر سال میں مرتبہ پھول نکلتے ہیں اور سال میں دو مرتبہ پھل دیتے ہیں۔ جب ایک پھل تیار ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دوسری فصل کے لیے پھول تیار ہوجاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق سندھ میں عموماً یہ فروری کے آخر اور مارچ کے اوائل میں فصل تیار ہوتی ہے اور پھول نکلتے ہیں۔ ’پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ مارچ اور اپریل کا سیزن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح سندھ میں ستمبر میں دوسری فصل تیار ہوتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ستمبر کا آخر اور اکتوبر کا شروع ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ اچھی پیدوار عموماً فروری، مارچ، اپریل والی فصل ہی سے حاصل ہوتی ہے جبکہ جون، جولائی اور ستمبر والی پیدوار کم ہوتی ہے۔‘ ان کے مطابق گرمیوں میں لیموں کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’اس سال فروری، مارچ اور اپریل میں ریکارڈ توڑنے والی گرمی پڑی ہے۔ اس گرمی کے سبب سے فروری، مارچ اور اپریل والی فصل خراب ہوئی ہے۔ پہلے تو پھول ہی گر گئے، پھر جن پر پھل لگا بھی تھا تو ان میں رس موجود ہی نہیں تھا۔‘

لیمن
BBC

کارشت کاروں نے جب دیکھا کہ لیموں میں رس موجود ہی نہیں ہے اور پیدوار اچھینہیں ہو رہی ہے تو انھوں نے رمضان سے قبل کچا اور چھوٹا پھل اتار کر منڈی میں لے آئے، جس سے مارکیٹ کی ڈیمانڈ بھی پوری نہیں ہوئی اور قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’اس وقت جو گرمی پڑ رہی ہے اور جو حالات ہیں، ان سے یہ نہیں لگتا کہ ستمبر اور اکتوبر کی فصل بھی کوئی اچھی فصل ہوگی۔‘

’ابھی اس وقت تو کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ مگر جن باغات میں فروری، مارچ اور اپریل کی فصل خراب ہوئی ہے۔ ان میں ایک ہی سیزن میں دوسری اچھی فصل کی توقع نہیں۔‘

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’لیموں کے متاثر ہونے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستان اس وقت بدترین موسمی تبدیلی کا شکار ہوچکا ہے۔ جس میں بڑھتے درجہ حرارت سے ہمارے باغات اور کھیت متاثر ہورہے ہیں۔‘

گرمیوں کے سیزن کا پہلا پھل عموماً لیموں ہی کو کہا جاتا ہے جو موسمی تبدیلی کا شکار ہو چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی پھلوں کے ساتھ کیا صورتحال پیش آتی ہے؟

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، جس میں اڈاپشن (موافقت) اور جدید تحقیق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

لیمن
BBC

موسمی تبدیلی سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’ایسے اعداد و شمار تو دستیاب نہیں کہ کتنے رقبے پر لیموں لگا ہوا ہے۔ مگر مشاہدے اور اندازے کی بنیاد پر سرکاری اور نجی طور پررائے ہے کہ یہ رقبہ کوئی 42 ہزار ایکڑ پر ہوسکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لیموں ترش پھل ہی کی ایک ورائٹی ہے۔

تُرش پھل کے لیے آئیڈیل درجہ حرارت 17 سے 30 درجہ حرارت ہے۔ اس سے زیادہ میں یہ متاثر ہوتا ہے۔ سنہ 2017 سے فروری، مارچ اور اپریل کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ درجہ حرارت جتنا بڑھتا رہا لیموں اتنا ہی متاثر ہوتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ چار برسوں سے یہ درجہ حرارت کچھ زیادہ بڑھا۔ اب 30 ڈگری درجہ حرارت سے یہ جتنا بھی بڑھتا ہے، یہ درخت کے پھولوں کو متاثر کرتا ہے۔ گذشتہ برسوں میں اسی وجہ سے کبھی 20 اور کبھی 50 فیصد فصل متاثر ہوئی۔ اس سال تو درجہ حرارت 38 اور 40 پر چلا گیا تھا، جس سے لیموں 80 فیصد متاثر ہوا ہے۔‘

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں لیموں کی جو ورائٹی لگائی جاتی ہیں یہ برسوں پہلے متعارف کروائی گئی تھیں۔‘

’یہ جب متعارف کروائی گئیں تھیں تو یہ اس ہی دور کے درجہ حرارت اور موسمی حالات سے مطابقت رکھتی تھیں۔ اب جبکہ درجہ حرارت بڑھرہا ہے تو ان ورائیٹوں کا موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنا تھوڑا مشکل ہو گیا ہے۔‘

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ’اب موجود موسمی حالات کے مطابق دنیا میں نئی اقسام متعارف کروا دی گئیں ہیں۔ اب تو دنیا کے کئی ممالک میں سال میں دو مرتبہ نہیں بلکہ سارا سال ہی لیموں کا پھل حاصل کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں بھی ان نئی اقسام پر کام کرنے اور متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر تو ایسے لگ رہا ہے کہ حل صرف جدید تحقیق اور نئی اقسام ہی متعارف کروانا ہوسکتا ہے۔‘

’ہم نے اپنے فارم میں کچھ نئی ورائیٹوں کے کامیاب تجربے کیے ہیں، جس میں کیفر لائم اور ویسٹ انڈیز لائم شامل ہیں، جن کے اچھے نتائج نکلے ہیں۔ کیفر لائم کے درخت پر اس موسم اور وقت بھی کوئی چھ کلو پھل لگا ہوا ہے جو کم از کم میرے گھر اور خاندان کی ضرورت پوری کر رہا ہے۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.