امریکہ میں ’جن‘ نکالتے ہوئے تین سالہ بچی ہلاک، ماں سمیت رشتہ دار گرفتار

image

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک تین سالہ بچی کے دو رشتہ داروں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے انہوں نے بچی کے ’جن‘ نکالتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ایرلی ناؤمی پروکٹر نامی یہ بچی گذشتہ برس ستمبر میں اس وقت ہلاک ہوئی جب اس کے والدین اسے چرچ لے کر گئے، کیونکہ ان کا خیال تھا بچی پر سایہ ہے۔

تاہم مقامی میڈیکل آفیسر نے قرار دیا کہ بچی کا سانس بند کر کے اسے قتل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے دادا اور انکل کو رواں ہفتے گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر بچی کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس بچی کی والدہ کلاؤڈیا سنتوس کو جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بھی بچی کو حملہ کرکے قتل کرنے کا الزام ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق کلاؤڈیا سنتوس نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی رات کو اچانک بیدار ہو جاتی تھی اور چیختی تھی۔ وہ اور ان کے بھائی اسے 24 ستمبر کو چرچ  لے کر گئے تاکہ اس کے اندر سے ’جن‘ کو نکالا جا سکے۔

کلاؤڈیا سنتوس نے کہا کہ انہوں نے بچی کو اُلٹی کروانے کے لیے اس کے گلے میں انگلی ڈالی اور اس کے گلے پر دباؤ ڈالا۔

ماں پر الزام ہے کہ اس نے بچی کو خوراک سے محروم رکھا اور جب دادا اور انکل نے بچی کو زمین پر لٹایا تو وہ بچی کی گردن پکڑ کر اسے دبا رہی تھیں۔

بچی کے دادا نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اس کو ’جنوں سے آزاد‘ کرنا چاہتے تھے۔

ایک اور شخص سانتیاگو گارشیا نے بتایا کہ جب جن نکالے جا رہے تھے تو وہ چرچ کے باہر موجود تھے اور انہیں اس بارے میں تب پتا چلا جب پولیس وہاں پہنچی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دادا نے بتایا کہ وہ عبادت کر رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ عبادت کرنے سے مقدس جن آئے گا اور اس کو بچا لے گا۔ ماں نے کہا کہ وہ بچی کے جسم کو دبا رہی تھیں تاکہ جن کو باہر نکالا جا سکے۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.