نازنین زاغری ریٹکلف: ایرانی حکام نے رہائی کی شرط کے طور پر ’اعتراف جرم پر مجبور کیا‘

ایران میں چھ سال قید رہنے والی ایرانی نژاد برطانوی شہری زاغری ریٹکلف نے کہا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ اقرار نامے پر دستخط کیے بغیر انھیں برطانیہ واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایرانی حکام نے اس سارے عمل کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔
نازنین زاغری ریٹکلف
PA Media

ایرانی نژاد برطانوی شہری نازنین زاغری ریٹکلف نے کہا ہے کہ ایران نے ان کی رہائی کی ایک شرط کے طور پر ان کے ایران چھوڑنے سے چند لمحے قبل ایئرپورٹ پر ان سے زبردستی اعتراف جرم کروایا گیا اور اس کے لیے اقرار نامے پر دستخط کرائے گئے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ان سے زبردستی بیان پر دستخط کرائے گئے تو اس وقت ایک برطانوی اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھا۔

زاغری ریٹکلف کو جاسوسی کے الزامات کی وجہ سے چھ سال قید رکھنے کے بعد مارچ میں رہا کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پروپیگینڈے کے ہتھیار کے طور پر زبردستی جعلی بیانات حاصل کرتا ہے۔

بی بی سی کے پروگرام وومن آور میں انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ برطانیہ نے اس وقت ایران سے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ وہ کیوں ان کی رہائی کی شرط کے طور پر انھیں ان جرائم کا اعتراف کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے انھیں ان کے والدین سے ملنے نہیں دیا اور ’برطانوی حکومت کی موجودگی میں ہوائی اڈے پر جبری اقرار نامے پر دستخط کرائے۔‘

زاغری ریٹکلف نے کہا کہ انھیں بتایا گیا کہ اقرار نامے پر دستخط کیے بغیر انھیں برطانیہ واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکام نے اس سارے عمل کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔

سابق سیاسی قیدی نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ انھیں دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا تھا، تاکہ ایرانی حکومت کو ان کے اس ’غیر انسانی‘ اعتراف کا استحصال کرنے سے روکا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں کسی چیز پر دستخط کیوں کروں گی؟ میں گذشتہ چھ سالوں سے یہ کہنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہی ہوں کہ میں نے یہ نہیں کیا۔‘

’جتنے بھی جھوٹے اعترافات ہمیں دکھائے گئے ہیں، ان کی کوئی قدر نہیں۔ وہ صرف ایرانی حکومت کے لیے پروپیگینڈا کر رہے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ کتنے خوفناک ہیں اور وہ جو بھی کرنا چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔‘

Nazanin Zaghari-Ratcliffe with her daughter Gabriella
Getty Images
نازنین زاغری ریٹکلف اپنی بیٹی گیبریئلا کے ہمراہ

’ہولناک آزمائش‘

زاغری ریٹکلف کو 2016 میں جاسوسی کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنی دو سالہ بیٹی گیبریئلا کے ساتھ ایران میں اپنے والدین سے ملنے کے بعد برطانیہ واپس آنے والی تھیں۔

انھیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی اور پھر 2021 میں ایران کے خلاف پروپیگینڈا کرنے پر مزید ایک سال کی سزا سنائی گئی۔

انھوں نے ہمیشہ الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وہ چھٹیوں پر اپنے خاندان والوں سے ملنے گئی تھیں۔

زاغری ریٹکلف کو 2020 میں جیل سے رہا کرنے کے بعد ایرانی دارالحکومت تہران میں ان کے والدین کے گھر میں مزید ایک اور سال کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔ ان کے ٹخنوں کے ساتھ ایک ٹیگ لگایا گیا تھا تاکہ وہ کہیں فرار نہ ہو سکیں۔

اس کے بعد انھیں شہر میں گھومنے پھرنے کی کچھ آزادی تو دی گئی لیکن ان کا پاسپورٹ حکام کے پاس ہی رہا اور وہ ملک چھوڑنے سے قاصر رہیں۔

ان کی اور ایک اور برطانوی ایرانی شہری انوشیہ اشوری کی رہائی اس وقت ممکن ہوئی جب برطانیہ نے 1970 کی دہائی کا ایران کو واجب الادا چار کروڑ پاؤنڈ کا قرض ادا کیا، تاہم دونوں حکومتیں کہتی ہیں کہ دونوں چیزوں کو جوڑنا نہیں چاہیے۔

زاغری ریٹکلف نے کہا کہ ’انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں رقم مل گئی ہے۔ تو پھر مجھ سے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دستخط کیوں کروائے گئے جو غلط ہے؟ یہ ایک جھوٹا اعتراف ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

نازنین زاغری کی رہائی اور برطانیہ کا چالیس سال پرانا اسلحے کا معاہدہ

نازنین زاغری کو ایرانی حکمرانوں کے خلاف مظاہرے میں شرکت پر ایک سال قید

’ناانصافی کے باوجود ایرانی قوم کے لیے پیار اور تعریف کے سوا کچھ نہیں ہے‘

انھوں نے کہا کہ ایرانی حکام کو اپنے پروپیگنڈے کے ایک آلے کے طور پر حراست میں لیے گئے لوگوں کی ’مایوسی‘ دکھانا پسند ہے۔

زاغری ریٹکلف نے یہ بھی کہا کہ انھیں اس وقت تک یقین نہیں تھا کہ انھیں آزاد کر دیا جائے گا جب تک کہ وہ گھر جانے والے جہاز پر بیٹھ نہیں گئیں۔


ایران نے ایک اور آخری کھیل کھیلا

بی بی سی کی سفارتی نامہ نگار کیرولین ہولی کا تجزیہ

اسی وجہ سے ایران میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلِ خانہ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت تک آسانی سے سانس نہیں لے سکتے جب تک کہ ان کے رشتہ دار حقیقت میں طیارے میں بیٹھ کر ایرانی فضائی حدود سے باہر نہیں نکل جاتے۔

بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے، جیسا کہ لندن میں پیدا ہونے والے ماہرِ ماحولیات مراد طہباز کے ساتھ ہوا تھا۔

جس معاہدے کے تحت نازنین زاغری ریٹکلف اور انوشیہ اشوری گھر واپس آئے تھے، اس معاہدے کے تحت طہباز کو بھی جیل سے نکال کر باقی سزا گھر میں نظر بندی کے ساتھ گزارنی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے انھیں 48 گھنٹوں کے اندر واپس جیل کی کوٹھری میں بھیج دیا گیا۔

نازنین کے لیے یہ کوئی بڑی حیرانی کی بات نہیں تھی کہ ایرانی حکومت نے ان کے خلاف آخری کھیل بھی کھیلا۔ پہلے ہی برسوں تک ایرانی حکومت ان کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہی تھی۔

اعتراف کے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے فلمایا جانا نہ صرف ایک آخری رسوائی تھی بلکہ ایران کے پاس یہ ایک اور کارڈ بھی ہے جسے وہ مستقبل میں استعمال کر سکتا ہے۔

Nazanin Zaghari-Ratcliffe and Anoosheh Ashoori
Getty Images
نازنین زاغری ریٹکلف اور انوشیہ عشوری رہا ہونے کے بعد برطانیہ کی سرزمین پر

اگر واقعی نازنین گھر جانا چاہتی تھیں تو ان کے پاس دستخط کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اور برطانوی حکام، جو بالآخر نازنین کو ہوائی اڈے پر لانے میں کامیاب ہو گئے تھے، شاید ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتے تھے جس سے معاہدہ آخری لمحے میں ختم ہو جائے۔


برطانوی دفتر خارجہ نے مسز زاغری ریٹکلف کے اعتراف پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے لیکن یہ ضرور کہا کہ جب تک وہ ملک چھوڑ کر چلی نہیں گئیں، اس وقت تک ایرانی حکام نے انھیں ’ایک ہولناک آزمائش سے دوچار رکھا تھا۔‘

ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت نے ’ان کی غیر منصفانہ حراست کو ختم کرنے کے لیے انتھک محنت کی تھی۔‘ انھوں نے مزید کہا: ’لیکن نازنین کو رہا کرنا اور انھیں خاندان کے پاس واپس جانے کی اجازت دینا ہمیشہ سے ایران کے اختیار میں تھا۔

’ہم حکومت ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ برطانوی اور دیگر غیر ملکی شہریوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں رکھنے کی اپنی روایت کو ختم کرے اور ہم اس مقصد کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔‘

اپنی بیٹی اور شوہر کے ساتھ دوبارہ ملنے کے فوراً بعد مارچ میں زاغری ریٹکلف نے حکومت سے سوال کیا تھا کہ ان کی رہائی کو یقینی بنانے میں اتنا وقت کیسے لگا، انھوں نے کہا کہ اس کا انتظام برسوں پہلے ہونا چاہیئے تھا۔

اس ماہ کے شروع میں انھوں نے وزیراعظم بورس جانسن سے ڈاؤننگ سٹریٹ میں ملاقات کی تھی۔ یاد رہے کہ انھوں نے بورس جانسن پر ان کے کیس کو صحیح طریقے سے نہ سنبھالنے پر تنقید بھی کی تھی۔

2017 میں، جب بورس جانسن اس وقت کی وزیرِ اعظم ٹریسا مے کی حکومت میں سیکرٹری خارجہ تھے، تب انھوں نے غلطی سے کہہ دیا تھا کہ زاغری ریٹکلف ایران میں صحافیوں کو تربیت دے رہی تھیں۔

زاغری ریٹکلف نے بورس جانسن سے پوچھا کہ انھیں گھر واپس لانے میں اتنا وقت کیوں لگا اور انھوں نے انھیں بتایا کہ ایران میں رہنے کی وجہ کے متعلق ان (بورس انسن) کے ’غلطی‘ پر مبنی بیان نے ایک ’دیرپا اثر‘ چھوڑا ہے۔

بورس جانسن اس سے قبل پارلیمان میں اپنے بیان پر معذرت کر چکے ہیں۔ انھوں نے ممبر پارلیمان کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ ’میں نے جو الفاظ استعمال کیے تھے ان کی غلط تشریح کی جا سکتی تھی۔‘

تاہم انھوں نے حالیہ ملاقات میں زاغری ریٹکلف سے واضح طور پر معافی نہیں مانگی۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.