دیپکا پاڈوکون رنویر سنگھ کے ساتھ کہاں چھٹیاں گزارنا چاہتی ہیں؟

image
بالی وڈ اداکارہ دیپکا پاڈوکون نے کانز فلم فیسٹیول کا حصہ بننے کا بعد اپنے شوہر رنویر سنگھ سے کہا ہے کہ انہیں ہر سال اس شہر کا دورہ کرنا چاہیے۔

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک انٹرویو میں دیپکا پاڈوکون نے بتایا کہ وہ اور رنویر سنگھ ہر سال دو بار چھٹیوں پر کہیں نہ کہیں جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم کوشش کرتے ہیں کہ جون جولائی اور سال کے آخر میں چھٹیوں پر جائیں۔ اس تجربے کے بعد میں نے ان(رنویر سنگھ)  سے کہا کہ ہمارے پاس کہیں اور جانے یا کہیں اور رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ہم ہر سال یہاں دو ہفتوں کے لیے آئیں گے اور ساری فلمیں دیکھیں گے۔ ہمیں فلمیں دیکھنا پسند ہے، آپ اس سے زیادہ کیا مانگ سکتے ہیں؟‘

رنویر سنگھ گزشتہ ہفتے دیپیکا کے ساتھ 2022 کے کانز فلم فیسٹیول میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہوئے جہاں وہ جیوری کی رکن ہیں۔ یہ آخری لمحات کا فیصلہ تھا۔ دیپیکا نے اپنے انسٹاگرام پر کانز فیسٹیول کے تیسرے دن کی تصویر شیئر کی جس میں انہوں نے لال لوئس ووٹن کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔

رنویر نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’بس! میں فلائٹ سے آ رہا ہوں۔‘

بعد میں انہیں ممبئی ایئرپورٹ پر شہر سے باہر جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

دیپیکا پاڈوکون نے رنویر سنگھ کے کانز کے لیے روانہ ہونے پر کہا تھا کہ ’اس بار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کی ذمہ داری لوں گی، وہ میری طرف سے کارپٹ پر چل سکتے ہیں۔ ایسا کرنے پر ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔‘

    

View this post on Instagram           A post shared by Deepika Padukone (@deepikapadukone)

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا رنویر اچھا وقت گزار رہے ہیں، تو دیپکا کا جواب تھا ’ہاں، بہت زیادہ۔‘

دیپیکا شاہ رخ خان کی فلم ’پٹھان‘ میں نظر آئیں گی۔ سدھارتھ آنند کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں جان ابراہم بھی جلوہ گر ہوں گے۔ وہ پہلی بار ہریتک روشن کے ساتھ ’فائٹر‘ میں بھی نظر آئیں گی جو اگلے سال ستمبر میں ریلیز ہوگی۔

رنویر سنگھ شنکر کی بلاک بسٹر فلم انیان، روہت شیٹی کی سرکس اور کرن جوہر کی ’راکی ​​اور رانی کی پریم کہانی‘ کے ریمیک میں نظر آئیں گے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.