غیرملکی پھلوں کی درآمد پر پابندی اور پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی کاشت

image

پاکستان میں جاری حالیہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے  حکومت نے حال ہی میں غیر ملکی اشیاء  کی در آمد پر پابندی عائد کی ہے ۔ اس پابندی کی زد میں چند ایسے خوش ذائقہ پھل بھی آئے ہیں جو اندرون ِ ملک محدود پیمانے پر کاشت کیے جاتے ہیں ۔ ان  پھلوں میں ڈریگن فروٹ بھی شا مل ہے جس سے تیار کردہ اشیاء بھی  بڑی مقدار میں در آمد کی  جا رہی تھیں ۔

ڈریگن فروٹ کیکٹس کی نسل کے پودے ہائلی سیرس انڈیٹس کا پھل ہے  جسے پتھایا اور اسٹرابیری ناشپاتی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی مختلف  اقسام کا ذائقہ خربوزے ، ناشپاتی  اور کیوی  جیسا ہوتا ہے۔

پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی شوقیہ کاشت کہاں کہاں ہو رہی ہے؟

سماجی تنظیم دعا فاؤنڈیشن کے سربراہ  ڈاکٹر فیاض عالم پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی کمرشل کاشت کے لیے کوشاں ہیں انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ  یہ گرم علاقوں کا پھل ہے  اس کی ایک مخصوص قسم ریگستان میں بھی اگتی ہے جسے  'ڈیزرٹ کنگ ' کہا جاتا ہے  یہ قسم اسرائیل نے متعارف کروائی ہے ۔

ڈاکٹر فیاض عالم کے مطابق  سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام پاکستان کی  وہ پہلی زرعی یونیورسٹی ہے جہاں ڈریگن فروٹ کی باقاعدہ کمرشل کاشت کا آغاز کیا گیا ہے۔ کچھ عرصے قبل  ڈاکٹر فیاض کی  فاؤنڈیشن  نے جامعہ کو ڈریگن فروٹ کے 400 پودوں اور 50 پولز کا تحفہ دیا تھا  ۔ ڈریگن فروٹ کے چار پودوں کو ایک  دائرہ نما پول کے ساتھ اگایا جاتا ہے جس پر پودے بڑھتے اور پھل دیتے ہیں۔

پاکستان کی بند ہوتی پن چکیاں

اس کے علاوہ کراچی، لاہور، پشاور وغیرہ میں 500 سے زائد افراد ڈریگن فروٹ کی شوقیہ کاشت کر رہے ہیں ۔ محمد آصف کا تعلق رحیم یار خان سے ہے وہ پیشے کے اعتبار سے بی ایچ ایم ایس ڈاکٹر ہیں۔ آصف نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ڈریگن فروٹ کی اینٹی  کینسر اور اینٹی ایجنگ خصوصیات سے متاثر ہو کر انہوں نے پانچ برس قبل اس کے  بیج کاشت کرنا شروع کیے کیونکہ پاکستان میں بیرون ملک سے اس کی  قلمیں در آمد کرنا ممکن نہیں تھا ۔

ابتدائی ناکامی کے بعد  وہ ڈریگن فروٹ کے 300 پودے اگانے میں کامیاب رہے جسے مقامی کسانوں میں مفت تقسیم کر دیا گیا ۔ آصف کہتے،''اللہ کے فضل سے اس بار ہم نے 1000 پودے تقسیم کیے ہیں ۔ اس کے  ساتھ ہی ہم امریکہ ، آسٹریلیا ، ویتنام، تھائی لینڈ اور ایکواڈور سے ڈریگن فروٹ کی تقریباً 70 مختلف نایاب نسلوں کی قلمیں منگوا کر  مقامی سطح پر ان کی نشونما کر رہے ہیں۔‘‘ آصف  نے  کسانوں کی مدد کے لیے اپنا  یو ٹیوب چینل بھی بنایا ہوا ہے۔

پاکستانی زراعت بھی لاک ڈاؤن سے متاثر

ڈریگن فروٹ کس طرح کاشت کیا جاتا ہے؟

ڈاکٹر فیاض عالم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وہ دنیا کے کئی ممالک  کا ڈریگن فروٹ کھا چکے ہیں  جن کی  مٹھاس کم تھی  مگر پاکستان میں اگنے والا پھل انتہائی لذیذ اور میٹھا ہے۔ عموماً  اسے قلموں سے لگا یا جاتا ہے جس کے لیے ایک فٹ لمبی شاخ کو تین انچ سے چھ انچ کے ٹکڑوں میں کاٹ کر قلمیں تیار کی جاتی ہیں۔ کٹے ہوئے کناروں پر پھپھوندی کش دوا لگا ئی جاتی ہے اور تین سے چار دن کے بعد ان قلموں کو گملوں یا زمین میں لگایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر فیاض عالم کے مطابق  اس پودے کو زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی اگر ہفتے میں محض ایک بار بھی پانی دیا جائے تو اس کی اچھی نشونما ہوتی رہتی ہے۔ اس کے پودے سے پھل آنے میں اٹھارہ ماہ سے دو سال کا عرصہ لگتا ہے مگر  یہ  سارا سال سر سبز رہتا ہے ۔

ڈریگن فروٹ سلاد اور ڈائٹ فوڈ کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے

زرعی ماہرین کے مطابق ایک ایکڑ رقبے پر تقریباً دس ہزار سے بیس ہزار کلوگرام ڈریگن فروٹ  حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ایک کسان صرف ایک ایکڑ رقبے پر  یہ پھل اگا کر با آسانی پانچ سے چھ لاکھ کما سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک میچور پودا  تقریباً بیس سے تیس سال تک پھل دے سکتا ہے۔

پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی کون سی اقسام کاشت کی جا رہی ہیں؟

ڈاکٹر فیاض عالم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یوں تو اس کی 70 سے زائد اقسام دنیا بھر میں کاشت کی جارہی ہیں مگر پاکستان  میں ابھی اس کی تین اقسام متعارف کروائی گئی ہیں۔ ان میں دو اقسام کا چھلکا گلابی رنگ کا ہوتا ہے جن کا گودا سفید اور سرخی مائل ہوتا ہے۔ جبکہ تیسری قسم  کا چھلکا زرد  اور گودا سفید ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ڈریگن فروٹ کی ڈیزرٹ کنگ نامی قسم کو پاکستان کے ریگستانی علاقوں تھر اور چولستان میں اگایا جائے تو یہ کاشت کافی منافع بخش ثابت ہوگی۔

ڈریگن فروٹ کے فوائد کیا ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق ڈریگن فروٹ  اینٹی آکسی ڈینٹ سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم کے خلیات کی فری ریڈیکلز سے ہونے والی توڑ پھوڑ  میں مزاحمت کرتے ہیں۔ جو اکثر اوقات کینسر اور قبل از وقت بڑھاپے کا سبب بنتا ہے۔

 یہ قدرتی طور پر چکنائی سے پاک ہے لہٰذا دنیا بھر میں  سلاد اور ڈائٹ فوڈ کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔  یہ  پھل خون میں شوگر کی مقدار کو ریگولیٹ کرتا ہےاور جسم میں اچھے اور نقصان دہ  بیکٹیریا   کی مقدار میں توازن قائم رکھنے میں معاونت  بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بیماریوں کے خلاف جسم کی قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔

غزہ پٹی کے علاقے میں ڈریگن فروٹ کی کاشت کرنے والا فلسطینی باشندہ

ڈریگن فروٹ  کی کاشت کے معیشت پر کیا  اثرات ہوں گے؟

ڈاکٹر فیاض عالم  نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ امریکہ، میکسیکو، انڈونیشیا، ملائیشیا اور ویت نام میں ڈریگن فروٹ برسوں سے تجارتی بنیادوں پر کاشت کیا جارہا ہے ۔  بھارت اور بنگلہ دیش نے کچھ برس قبل اس کی کاشت کا آغاز کیا ہے مگر پاکستان میں ابھی یہ سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں شوقیہ کاشت کیا جارہا ہے۔ کراچی اور ملک کے دیگر بڑے شہروں کے  سپر اسٹورز پر ایک پھل تقریبا ہزار یا بارہ سو میں فروخت ہورہا ہے۔

محمد آصف  کے مطابق اس پھل کی کاشت نے ویتنام کی گرتی معیشت کو بہت سہارا دیا ہے ۔ ویتنام سب سے زیادہ ڈریگن فروٹ چین کو در آمد کرتا ہے جہاں اس پھل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔  ان کا  یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی کمرشل کاشت شروع کر کے چین کو در آمد کی جائے  تو غریب کسان بھی اچھی آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔ چونکہ اس کے پودے زیادہ  لمبے اور سایہ دار نہیں ہوتے لہٰذا ان کے درمیان دیگر سبزیاں، پھل اوراجناس وغیرہ بھی با آسانی اُگائی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر فیاض عالم  کہتے ہیں کہ اپنے انوکھے فوائد کے باعث دنیا بھر  کی طرح پاکستان میں بھی ڈریگن فروٹ اور اس سے تیار کردہ خوردنی اشیاء کی  مانگ بڑھ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر ملکی پھلوں اور اشیاء کی در آمد پر جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ یقیناً  انہیں در آمد  کرنے والے افراد  کے مفاد میں نہیں ہے۔ لیکن اس فیصلے کا ایک خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ پابندی کے بعد ان  پھلوں، خصوصاً ڈریگن فروٹ کی  مقامی پیداوار کے لے زرعی ماہرین اور تحقیقی ادارے عملی کوششیں تیز تر کر دیں گے۔

ویڈیو دیکھیے 04:26 باجوڑ میں زیتون کی پیداوار کا رجحان کیسے فروغ پا رہا ہے؟


News Source   News Source Text

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.