سدھو موسے والا: بندوقوں سے لگاؤ اور دشمنوں کو ختم کرنے کی باتیں، انڈین ریپر کی موسیقی کی پریشان کُن وراثت

انڈین گلوکار سدھو موسے والا کی ہلاکت کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن وہ اب بھی سرخیوں میں ہیں۔

انڈین گلوکار سدھو موسے والا کی ہلاکت کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن وہ اب بھی شہ سرخیوں میں ہیں۔

انھیں 29 مئی کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اُن کے سرخیوں میں ہونے کا سبب کچھ تو وہ طریقہ واردات ہے جس کے تحت انھیں قتل کیا گیا اور کچھ پولیس کی جاری تفتیش کی وجہ سے ہے۔

لیکن اس دوران ان کی موسیقی بھی چھائی ہوئی ہے۔

جون میں حکومت ہند کی جانب سے قانونی شکایت درج کرانے کے بعد موسے والا کا آخری گیت ایس وائی ایل (SYL) انڈیا میں ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا تھا۔ بعد از مرگ جاری کیا گیا یہ گانا ریاست پنجاب اور ریاست ہریانہ کے درمیان دریا کے پانی کی تقسیم پر کئی دہائیوں سے جاری تنازع کے بارے میں ہے، جبکہ سکھ عسکریت پسندی جیسے کچھ دوسرے متنازع موضوعات پر بھی اس میں بات کی گئی ہے۔

صرف چار سال پر محیط اپنے کریئر میں موسے والا نے کئی مقبول گیت لکھے جن میں پنجاب کی تاریخ اور موجودہ حالت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ریاست کا ایک ناخوشگوار پہلو ہے، جس میں گینگسٹر کلچر، بدعنوانی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری شامل ہے اور موسے والا کی موسیقی اسے اجاگر کرتی ہے۔

ان کے پرستار انھیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتے ہیں جو سماجی مسائل اٹھا رہا تھا۔ لیکن جس چیز نے انھیں اپنے ہم عصروں سے الگ کیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے ایک مختلف نقطہ نظر بھی پیش کیا کہ پنجابی خود کو کس طور پر سمجھتے ہیں اور ان کے خیالات کو اکثر پریشان کن اور آگ بھڑکانے والا سمجھا جاتا تھا۔

بندوقوں سے ان کی وابستگی اور سامعین کو پیچیدہ اور بعض اوقات غیر آرام دہ گفتگو کرنے پر مجبور کرنے کی کوششوں نے انھیں متنازع بنا دیا ہے۔ اس بات کو ان کے گیت وائی ایس ایل میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

پنجاب کا قریب سے مطالعہ کرنے والے ریسرچ سکالر ہریندر ہیپی کہتے ہیں: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تضادات سے بھرپور شخص تھے۔ لیکن ان کا انداز زمانے کے اعتبار سے تھا اور مابعد جدیدیت والے معاشرے سے ہم آہنگ تھا جہاں ہر ایک کو اپنی شناخت کو جس طرح وہ سمجھتے ہیں اس پر زور دینے کا حق ہے۔‘

سدھو موسے والا
Getty Images
سدھو موسے والا کے مداحوں کی تعداد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے

موسے والا کی جڑیں ایک ایسی ریاست میں اپنے گھر اور گاؤں میں پیوست تھی جہاں کے ہزاروں لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں غیر ملکی ساحلوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

موسے والا کی موسیقی کو قریب سے دیکھنے والے اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر پریتم سنگھ کہتے ہیں کہ ’وہ (بیک وقت) بہت سی چیزیں تھے، لیکن سب سے بڑھ کر وہ اپنے گاؤں کے ماحول سے گہرے طور پر جڑے ہوئے تھے۔‘

موسے والا شوبھدیپ سدھو کے طور پر ایک متمول، اعلیٰ ذات کے جاٹ سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کینیڈا میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی جہاں لاکھوں سکھ نقل مکانی کر چکے ہیں۔

یہیں سے اس نے اپنے میوزک کریئر کا آغاز کیا، اکتوبر 2018 میں اپنا پہلا البم PBX 1 سدھو موسے والا ’سدھو آف موسیٰ‘ کے سٹیج کے نام سے ریلیز کیا۔

گلوکار نے کپڑوں سے لے کر بات چیت کے سٹائل تک ایک الگ ہپ ہاپ انداز برقرار رکھا، جس کی وجہ سے وہ عالمی سٹیج پر فوری طور پر ہٹ ہو گئے۔ اسی کے ساتھ ان کی موسیقی بھی عام طور پر ماچو تھی، جیسا کہ اکثر ریپ میوزک ہوتا ہے، جو کہ تشدد کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے۔ انھوں غیر معذرت خواہانہ طور پر جنگجویانہ انداز میں بندوقوں سے اپنے لگاؤ کے گیت گائے۔ اپنی ذات پر فخر کیا اور اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کی باتیں کیں۔

مسٹر ہیپی کا کہنا ہے کہ ’موسے والا جہاں چاہتے رہ سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے اپنے گاؤں، اپنے والدین اور اپنے لوگوں کا انتخاب کیا۔ انھوں نے نہ صرف اپنے گاؤں کی شناخت کو برقرار رکھا بلکہ اس کی پیچیدگیوں کے باوجود اسے بلند کرنے کی کوشش کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ ’چھوٹا سا سراغ‘ جس نے پولیس کو سدھو موسے والا کیس میں مبینہ شوٹرز تک پہنچایا

سدھو موسے والا کی تصویر پی ٹی آئی امیدوار کے پوسٹرز پر کیسے پہنچی؟

سدھو موسے والا کا وہ گانا جو حکومتی شکایت کے بعد انڈیا میں یوٹیوب پر دستیاب نہیں

مانسا ضلعے کو، جہاں موسے والا کا گاؤں واقع ہے، وسیع پیمانے پر ایک پسماندہ علاقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ضلع پنجاب میں کسانوں کی خودکشی کی سب سے زیادہ شرح، بیروزگاری کی بلند سطح اور زیر زمین پانی کے سنگین بحران کے لیے جانا جاتا ہے۔

مسٹر ہیپی بتاتے ہیں کہ ’لوگ اس علاقے سے اپنی شناخت نہیں جوڑنا چاہتے ہیں، وہ یہان سے جانا اور کبھی واپس نہیں آنا چاہتے ہیں۔ لیکن موسے والا مختلف تھا۔ انھیں اپنی جڑوں پر فخر تھا اور ان کی موسیقی نے سامعین پر زور دیا کہ وہ گاؤں کو فخر کے ساتھ اپنے گھر کے طور پر قبول کریں۔‘

ان خیالات کو ’تبیاں دا پٹ (ریت کے ٹیلوں کا بیٹا) میں سب سے زیادہ طاقتور طریقے سے پیش کیا گیا ہے، جو اس خطے کے نیم خشک زمین کی مدح سرائی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بول کا مفہوم اس طرح ہے: ’ہمارا تعلق شریف خاندانوں سے نہیں ہے، گاؤں اور قصبوں میں پلے بڑھے ہیں، میرا اپنا کوئی وجود نہیں ہے، پھر بھی بااثر لوگ ہم سے ڈرتے ہیں۔‘

موسے والا کے گیت نے کسانوں کی تحریک میں جوش پیدا کیا
Getty Images
موسے والا کے گیت نے کسانوں کی تحریک میں جوش پیدا کیا

ایک کے بعد ایک موسے والا کے گیتوں نے گاؤں کی زندگی کی کشش کو پیش کیا ہے، اور اپنے سامعین کو زرعی طرز زندگی کو اپنانے پر زور دیا ہے۔ ’بمبیہا بولے‘ گیت میں انھوں نے روایتی لوک موسیقی کی خوبصورتی کو اجاگر کیا۔ ’نیور فولڈ‘ میں انھوں نے رابن ہڈ جیسے لوک ہیروز کی کہانیوں کی طرف رجوع کیا جنھوں نے غریبوں کی مدد کے لیے امیروں کو لوٹا۔

مسٹر ہیپی کا کہنا ہے کہ موسے والا پورے علاقے کی امنگوں کو مجسم کرنے کے لیے آئے تھے، وہ لوگوں کو گاؤں سے جڑنے اور اپنی شناخت پر فخر کرنے میں مدد کرتے تھے۔

وہ مزید کہتے ہیں: ’اور وہ قابل رسائی تھے۔ کوئی بھی ان سے ملاقات کر سکتا تھا اور وہ اپنے مداحوں سے پیار کرتے تھے۔ وہ اکثر اپنے گاؤں میں ہی اپنی زیادہ تر ویڈیوز شوٹ کرتے تھے، جس میں ان کے خاندان کو دکھایا جاتا تھا، جس نے انھیں اور بھی زیادہ ہم آہنگ بنا دیا تھا۔‘

وقت کے ساتھ موسے والا کی موسیقی سماجی، ثقافتی اور سیاسی طور پر زیادہ باشعور ہوتی گئی۔

ان میں سب سے مشہور 295 ہوئی جس میں انڈیا میں اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ ان کے گیت کا یہ عنوان تعزیرات ہند کی دفعہ 295 کا حوالہ ہے، جو ’مذہبی جذبات کو مجروح کرنے‘ کے عمل کو قابل سزا جرم بناتا ہے۔

سنہ 2020 میں انڈیا کے متنازع زرعی قوانین پر ان کا گیت احتجاج کرنے والے کسانوں کا ترانہ بن گیا۔ بول یہ تھے ’یہ پنجاب کے علاوہ کوئی نہیں ہے، جو کُھلے چیلنج کے ساتھ بدلہ لیتا ہے۔‘ اسے مزاحمت کی طاقت کو مجسم کرنے کے لیے سراہا گیا، لیکن ناقدین نے کہا یہ پریشان کُن ہے اور تشدد کی مدح سرائی کرتا ہے۔

موسے والا نے کبھی بھی متنازع ہونا بند نہیں کیا۔ وہ اپنے دشمنوں پر طنز کرتے رہے اور بندوقوں کے ساتھ اپنی تصاویر پوسٹ کرتے رہے۔

پروفیسر سنگھ کہتے ہیں: ’وقت گزرنے کے ساتھ وہ ذات پات کے استعاروں سے دور ہوتے گئے لیکن انھیں ہتھیاروں کے لیے زیادہ تولا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ موضوعاتی تبدیلی گلوکار کی شخصیت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ موسے والا کی کہانی ان کے ذاتی ارتقا کی بھی کہانی ہے۔ اور جب تک ہم اسے نہیں سمجھیں گے، ہم نہیں سمجھ سکتے کہ وہ اتنے مقبول کیوں تھے۔‘

تضادات یہیں ختم نہیں ہوتے۔

موسے والا
Getty Images

پروفیسر سنگھ اور مسٹر ہیری دونوں نے نشاندہی کی کہ دوسرے ریپرز کے برعکس، موسے والا کی موسیقی میں ہپ ہاپ اور خاص طور پر ریپ کے ساتھ اکثر جنسی الفاظ کی کمی تھی اور ان کی موسیقی نے کبھی بھی خواتین کو مصنوعات کے طور پر نہیں پیش کیا اور نہ ہی انھیں ان کی کردار کشی کی۔

’ڈیئر ماں‘ کو انھوں اپنی ماں کے لیے وقف کیا۔ پروفیسر سنگھ کہتے ہیں کہ موسے والا واضح جذباتیت سے پرہیز نہیں کرتے بلکہ وہ اسے قبول کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

انڈین پنجاب کے گینگز جیلوں اور دوسرے ممالک سے کیسے چلائے جاتے ہیں؟

’پہلے شوٹر نے اے کے 47 سے فائرنگ شروع کی۔۔۔‘ سدھو موسے والا کے قتل کی کہانی پولیس کی زبانی

’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں تو موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘

’یہ قابل ذکر ہے کہ ایک آدمی جس پر بدتمیزی اور متشدد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے وہ دراصل کہہ رہا ہے ’ماں، میں آپ کی طرح ہوں۔‘ وہ باریکیوں کو بہت خوبصورتی سے قید کرتا ہے، ایک ہی لمحے وہ کہتا ہے کہ وہ سورج کی طرح گرم ہے اور اسی کے ساتھ وہ یہ کہتا ہے کہ وہ ماں کی طرح نرم ہے۔‘

اپنی یادداشت میں مشہور امریکی ریپر جیز نے لکھا: ’ریپ تضادات کو سنبھالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘ اور موے والا کی موسیقی تقریباً ہمیشہ متعدد معنی رکھتی ہے، سیاسی جھکاؤ سے لے کر شناخت کی گندگی تک وہ ہر اس چیز پر سوال کرتے ہیں جو اکثر سادہ وضاحتوں سے بچتی ہے۔

مسٹر ہیپی کا کہنا ہے کہ موسیقی موسے والا کے لیے مشکل بات چیت کو پیش کرنے اور اپنی شناخت ظاہر کرنے کا آلہ تھا۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ان کی موسیقی کا سب سے مستقل موضوع یہ رہا ہے کہ پنجابی ہونے کا مطلب کیا ہے اور شناخت کس طرح یک رنگی نہیں ہو سکتا۔ ہر البم، ہر گیت، اور ہر لفظ ان کے جذبے کی صداقت کا اعتراف ہے۔‘

پنجابی شناخت کے بارے میں اُن کا کہنا تھا پنجاب میں زندگی صرف تشدد اور منشیات سے کہیں زیادہ ہے۔ لوک موسیقی کی تیز دھنوں اور آوازوں کو ساتھ ملا کر موسے والا نے ایسے گیت تخلیق کیے جو پنجابیوں کو سمجھ آتے تھے۔

پروفیسر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’یہ ان کی دیہی جڑیں تھیں جو لوگوں میں اتنی گہرائی سے گونجتی تھیں۔‘

مسٹر ہیپی کا کہنا ہے کہ کسی بھی چیز سے بڑھ کر موسے والا نے ایک دلچسپ خیال پیش کیا کہ موسیقی میں آزادی پائی جاتی ہے۔

’اور جب آپ سخت سوالات پوچھتے ہیں تو متنازع ہونا ناگزیر ہے۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.