bbc-new

شطرنج: انڈیا کی خواتین کھلاڑی جنھوں نے کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی

ایسا لگ رہا تھا کہ انڈین ویمن ٹیم سونے کا تمغہ جیت جائے گی لیکن صرف آدھے ہی دن میں افسوناک طور پر یہ سونے کے تمغے سے کانسی کے تمغے تک پہنچ گئی۔

شطرنج اولمپیاڈ کے مقابلوں میں ایک وقت میں ایسا لگ رہا تھا کہ انڈین ویمن ٹیم سونے کا تمغہ جیت جائے گی لیکن صرف آدھے ہی دن میں افسوناک طور پر یہ سونے کے تمغے سے کانسی کے تمغے تک پہنچ گئی۔

اس کے باوجود انھوں نے تاریخ رقم کی ہے۔ اور وہ اس طرح کہ وہ اولمپیاڈ میں کوئی میڈل جیتنے والی پہلی انڈین خواتین ٹیم بنیں۔

شطرنج کے میدان میں یہ انڈین کھلاڑی اتفاقیہ طور پر اتنا اوپر تک نہیں پہنچیں۔ ٹیم میں شامل کونیرو ہمپی، ہریکا دروناولی، تانیہ سچدیو، آر ویشالی اور بھکتی کلکرنی جیسی کھلاڑی نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا ایک ایسا مرکب ہیں جو خواتین کے سیکشن میں پہلے ہی ٹاپ سیڈز تھیں۔ انھیں اس سے بھی مدد ملی کہ نہ تو روس اور نہ ہی چین نے اولمپیاڈ میں حصہ لیا۔

اپنی اس مہم کے زیادہ تر حصے میں انڈین ٹیم طلائی تمغہ حاصل کرنے سے بس ذرا سی دوری پر تھی اور وہ برتری کے ساتھ فائنل راؤنڈ میں پہنچی تھیں کہ امریکہ سے 1-3 سے ہار کا منھ دیکھنا پڑا۔

تانیہ اور بھکتی نے اپنے اناڑی پن سے بعد کے گیمز کو گنوا دیا جبکہ ہمپی اور ویشالی نے برابری پر ختم کیا۔ تانیہ آخری راؤنڈ تک 10 گیمز میں آٹھ پوائنٹس کے ساتھ ناقابل شکست رہیں لیکن آخری راؤنڈ میں ناقابل بیان طور پر گڑبڑا گئیں۔ وہ امریکہ کی کیریسا یپ سے ہار گئیں، اور انھیں شکست فاش ہوئی۔

شکست کے فوراً بعد اپنے جذبات کو چھپاتے ہوئے اور نظریں نیچی کیے تانیہ نے کہا: ’میرے خیال میں اولمپیاڈ کے لیے پہلا تمغہ جیتنے کی اہمیت کو سمجھنا ابھی بہت مشکل ہے۔ کسی بھی چیز سے زیادہ یہ ٹورنامنٹ جس طرح سے آگے بڑھ رہا تھا وہ بات اہمیت کی حامل تھی۔ ہم نے سبقت حاصل کر رکھی تھی۔ کہاں ہم طلائی تمغہ جیت رہے تھے لیکن ہمیں کانسی پر اکتفا کرنا پڑا۔'

یہ یقیناً ایک انوکھا اور حیران کن احساس ہو گا۔ یہ ایک تاریخی پہلا تمغہ ہے جس کے ساتھ کھوئے ہوئے موقعے کی یاد بھی وابستہ ہے۔ انڈیا نے ان ٹیموں کے خلاف اپنے میچ نہیں ہارے جو فائنل سٹینڈنگ میں ان سے آگے رہیں یعنی یوکرین اور جارجیا۔ یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے سونے کے تمغے کا امکان نظر آ رہا تھا۔

لیکن تھوڑی دیر کے لیے تو کانسی کا تمغہ بھی ہاتھ سے نکلتا نظر آتا تھا۔ منگل کو فائنل راؤنڈ کے کھیل ختم ہونے کے بعد خواتین کے زمرے میں یوکرین اور جارجیا کے پاس بالترتیب سونے اور چاندی کے تمغے تھے لیکن انڈیا کی قسمت معلق تھی کیونکہ اس کا فیصلہ کرنے میں سر گھما دینے والے حساب کتاب کی ضرورت تھی کہ آیا کانسی کا تمغہ انڈیا کے حصے میں آیا یا پھر امریکہ کے حصے میں۔ اعداد و شمار انڈیا کے حق میں آئے جبکہ امریکیوں کو چوتھے مقام پر صبر کرنا پڑا۔

انڈین ٹیم کی دو گرینڈ ماسٹر ہمپی اور ہریکا اصولی طور پر ٹیم کے سب سے بلند درجوں والی کھلاڑی تھیں۔ ہریکا نے کئی ماہ کی حاملہ ہونے کے باوجود کلاسیکی کھیل کا مظاہرہ کیا اور لگاتار سات بازیاں برابری پر ختم کیں۔ وہ آخری دو کھیلوں سے باہر رہیں لیکن باقی ٹیم کے ساتھ اپنی کارکردگی کے بارے میں پریس کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے نظر آئیں۔

یہ بھی پڑھیے

میگنس کارلسن جس نے شطرنج کو مقبولِ عام کیا

جب شطرنج کھیلنے والے روبوٹ نے اپنے مدِمقابل سات سالہ بچے کی انگلی توڑ دی

‘شطرنج ایک ذہنی کھیل ہے۔۔۔‘ مگر کیا اس گیم کا تعلق دماغی طاقت سے بھی ہے؟

شطرنج کی بساط پر انڈیا کس طرح عالمی طاقت بن کر ابھر رہا ہے

ان میں سے زیادہ تر خواتین خاموشی کے ساتھ برسوں سے دقیانوسی تصورات کو توڑ رہی ہیں۔ ہمپی نے 15 سال کی عمر میں گرینڈ ماسٹر بن کر ہنگری کے لیجنڈ جوڈٹ پولگر کا ریکارڈ توڑ دیا اور اس طرح وہ گرینڈ ماسٹر کا ٹائٹل حاصل کرنے والی پہلی انڈین خاتون کھلاڑی بنیں۔ وہ حمل کے ایک پیچیدہ مرحلے سے گزریں لیکن بچے کی پیدائش کے فورا بعد وہ سنہ 2017 میں ورلڈ ریپڈ چیمپئن بننے کے لیے واپس آئیں۔

ہریکا نے اپنی ٹیم کے ساتھ موجود ہونے کے لیے سب کچھ کیا، اور بچے کی ولادت کی تاریخ کے مد نظر وہ اپنی ماں اور شوہر کے ساتھ آئيں۔

تانیہ ایک بین الاقوامی چیس ماسٹر ہیں اور وہ شطرنج کے کھلاڑیوں کے خاموش اور الگھ تھلگ رہنے کے دقیانوسی تصور کے بالکل برعکس ہیں۔ وہ لوگوں سے گھلنے ملنے والی ہیں باتونی ہیں اور کمنٹریز اور لائیو سٹریمنگ کے لیے ان کی بڑی ڈیمانڈ ہے۔

کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران وہ سٹریمرز کے بڑھتے ہوئے دائرے میں شامل ہو گئیں اور انھوں نے ہزاروں نئے فالوورز کے لیے شطرنج کی دنیا کا دروازہ وا کیا۔ اس ٹورنامنٹ میں وہ ایک مضبوط لڑاکا بھی ثابت ہوئيں جنھوں مطالبے پر جیت حاصل کی۔

انڈیا، شطرنج
Getty Images

سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ ٹیم ارکان میں ویشالی بھی تھیں جن کا یہ پہلا اولمپیاڈ تھا۔ وہ نوجوان سٹار کھلاڑی پرگنندھا کی بہن ہیں اور ٹیم کی سب سے کم عمر رکن تھیں۔

اس اولمپیاڈ نے ظاہر کیا کہ وہ ٹیم کی ایک قابل قدر رکن بن کر ابھری ہیں۔ تیسرے نمبر کی حامل اور سابق چیمپیئن جارجیا کے خلاف انھوں نے ہمپی کے ساتھ مل کر جیت حاصل کی اور ٹورنامنٹ کے نصف میں چھ راؤنڈز کے بعد انڈیا کو واحد برتری دلانے والی بنیں۔

اپنے پہلے اولمپیاڈ میں گھر پر کھیلنے کا مطلب فطری دباؤ تھا۔ ہر راؤنڈ سے پہلے مقامی پریس کے فوٹوگرافرز ان کے گرد منڈلاتے اور ان کی ہر حرکت کو کیمرے میں قید کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کی زیادہ مقبول بہن پہلے سے ہی اس طرح کی توجہ کی عادی ہیں، لیکن ویشالی کے لیے یہ نیا تھا، شاید تکلیف دہ بھی۔ لیکن وہ اپنی کوششوں کے لیے انفرادی طور پر کانسی کا تمغہ جیت کر آئی۔

30 سالہ بھکتی عمر میں نوجوان اور تجربہ کار کے درمیان کہیں آتی ہیں۔ انھوں نے پہلے تین راؤنڈ کھیلے اور انھیں اگلے چھ راؤنڈز میں آرام دیا گیا۔ ہریکا کے باہر جانے کے بعد انھیں آخری دو راؤنڈز کے لیے لایا گیا۔ وہ ان ٹیموں میں شامل تھیں جس نے آخری میچ میں قازقستان کے خلاف 3.5-0.5 سے زبردست جیت حاصل کی لیکن فائنل راؤنڈ کے دباؤ میں وہ کافی حد تک اپنے آپ کو اس سطح پر برقرار نہیں رکھ سکیں۔

انڈیا کی خواتین ٹیم کی اولمپیاڈ میں پچھلی بہترین کارکردگی سنہ 2012 کے استنبول اولمپیاڈ میں دیکھی گئی تھی جب انھیں چوتھا مقام حاصل ہوا تھا۔ اس کے بعد انھیں پہلا کانسی کا تمغہ جیتنے میں ایک دہائی کا وقت لگ گیا۔

لیکن ایک ایسے کھیل میں جہاں صنفی فرق بہت زیادہ ہے، اس کھیل میں کانسی کا یہ تمغہ لڑکیوں کی پوری نئی نسل میں ایک نیا جوش اور نئی امند پیدا کر سکتا ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.