bbc-new

پاکستان کے75 برس: جب انڈین کرکٹ کپتان نے طنز کیا کہ ’پاکستانی کرکٹ ٹیم تو سکول کے لڑکوں کی ٹیم ہے‘

لالہ امرناتھ کا یہ طنزیہ فقرہ پاکستانی کرکٹرز تک پہنچا تو ظاہر ہے وہ اس پر سخت ناراض ہوئے تھے لیکن سب سے زیادہ ناراض جان گوڈارڈ تھے جنھیں پاکستانی کرکٹرز کا کھیل دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ لالہ امرناتھ نے اُن سے جو کچھ کہا تھا وہ نہ صرف غلط تھا بلکہ حسد پر مبنی تھا۔
لالہ امرناتھ انڈین ٹیم کے پہلے کپتان تھے
Getty Images
لالہ امرناتھ انڈین ٹیم کے پہلے کپتان تھے

یہ نومبر 1948 کی بات ہے جب ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم انڈیا کے دورے پر تھی کہ اسے پاکستانی کرکٹ حکام کی طرف سے پاکستان میں کھیلنے کی دعوت ملی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان اپنے قیام کے بعد بے سروسامانی کے عالم میں تھا اور دیگر معاملات کی طرح کرکٹ کو بھی ایک دھارے میں لانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔

ویسٹ انڈیز ٹیم کے پاس پاکستان میں کرکٹ کے معیار اور کرکٹرز کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اسی لیے ویسٹ انڈیز کے کپتان جان گوڈارڈ نے انڈیا کے کپتان لالہ امرناتھ سے معلومات حاصل کیں کہ وہ بتائیں کہ پاکستان میں کرکٹ کا معیار کیسا ہے؟

جان گوڈارڈ کو لالہ امرناتھ نے جو جواب دیا وہ کچھ اس طرح تھا ’پاکستان، وہ تو صرف سکول کے لڑکوں کی ٹیم ہے۔‘

ویسٹ انڈیز کے ساتھ کیا ہوا؟

لالہ امرناتھ کا یہ طنزیہ فقرہ پاکستانی کرکٹرز تک پہنچا تو ظاہر ہے وہ اس پر سخت ناراض ہوئے تھے لیکن سب سے زیادہ ناراض جان گوڈارڈ تھے جنھیں پاکستانی کرکٹرز کا کھیل دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ لالہ امرناتھ نے اُن سے جو کچھ کہا تھا وہ نہ صرف غلط تھا بلکہ حسد پر مبنی تھا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا پاکستان آ کر کھیلنا پاکستانی کرکٹ حکام کی بہت بڑی کامیابی تھی لیکن اسے جس طرح اس ٹیم کو پاکستان لایا گیا وہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

ویسٹ انڈیز کے اس دورے کو ممکن بنانے کے لیے یہ ضروری تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ، جو اُس وقت ’بی سی سی پی‘ کہلاتا تھا، انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی ) کے پاس بطور زر ضمانت (گارنٹی منی) 30 ہزار روپے جمع کروائے۔ اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے یہ رقم جمع کی گئی اور متعدد مخیر حضرات کی خدمات حاصل کی گئیں جن میں میاں صلاح الدین اور سید فدا حسن کے نام قابل ذکر تھے۔

ویسٹ انڈیز نے پاکستان میں پہلا میچ سندھ کی ٹیم کے خلاف کراچی جمخانہ کے خلاف کھیلا، جو ڈرا ہو گیا۔ اس میچ میں انور حسین نے چار وکٹیں لینے کے علاوہ 81 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ انورحسین پاکستان کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کےنائب کپتان کے طور پر سنہ 1952 میں انڈیا گئے تھے۔

ویسٹ انڈیز نے راولپنڈی میں بھی ایک میچ پاکستانی کمانڈر انچیف سر ڈگلس گریسی کی ترتیب دی ہوئی ٹیم کے خلاف کھیلا۔ جنرل گریسی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کرکٹ کے بڑے شوقین تھے۔

وکٹ کے دو ٹکڑے ہو گئے

ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان واحد غیرسرکاری ٹیسٹ میچ لاہور کے باغ جناح گراؤنڈ میں کھیلا گیا۔ یہ پاکستان کی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا بین الاقوامی میچ بھی تھا۔ یہ میچ ڈرا ہو گیا لیکن پاکستانی کرکٹرز کی صلاحیتیں کُھل کر سامنے آئیں۔ کپتان میاں محمد سعید اور امتیاز احمد نے دوسری اننگز میں سنچریاں سکور کیں لیکن سب سے قابل ذکر منظر فاسٹ بولر منور علی خان کی تیز بولنگ تھی۔

منور علی خان نے ویسٹ انڈیز کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر جارج کیرو کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ نئے بیٹسمین کپتان جان گوڈارڈ تھے لیکن پہلی ہی گیند پر وہ اس طرح بولڈ ہوئے کہ وکٹ کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔

منور علی خان بدقسمتی سے ہیٹ ٹرک کےبہت قریب آ کر اس سے دور ہو گئے کیونکہ اگلی ہی گیند پر کلائیڈ والکوٹ کا کیچ گلی پوزیشن میں نذر محمد نے ڈراپ کر دیا۔

اس میچ میں پاکستانی کرکٹرز کی شاندار کارکردگی نے آئی سی سی کی ٹیسٹ رکنیت کا کیس مضبوط کر دیا تھا لیکن ابھی منزل بہت دور تھی۔

پاکستان میں کرکٹ بورڈ کیسے قائم ہوا؟

یہ یکم مئی 1948 کی بات ہے جب کرکٹ سے جنون کی حد تک شوق رکھنے والے چند افراد لاہور جمخانہ کے پویلین میں اکٹھے ہوئے۔ وہ جب اٹھے تو پاکستان میں پہلی بار کرکٹ بورڈ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ اس وقت اس کا نام ’بی سی سی پی‘ یعنی بورڈ فار کرکٹ کنٹرول اِن پاکستان رکھا گیا۔

پنجاب کے وزیرِ اعلی افتخار ممدوٹ کو بورڈ کا پہلا صدر بنایا گیا۔ تین نائب صدور کے طور پر پنجاب سے جسٹس اے آر کارنیلئس، صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) سے لیفٹیننٹ کرنل بیکر اور سندھ سے ڈیاگو بریٹو نامزد کیے گئے۔ بورڈ کے پہلے سیکریٹری کی ذمہ داری کے آر کلکٹر کو سونپی گئی جو اس وقت سندھ کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری تھے۔

افتخار ممدوٹ نہ صرف سیاسی شخصیت تھے بلکہ کرکٹ سے بھی ان کا تعلق تھا۔ ان کا خاندان ممدوٹ کرکٹ کلب کی سرپرستی کرتا تھا۔

جسٹس کارنیلئس کرکٹ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انھوں نے ہی بورڈ کا آئین ترتیب دیا تھا۔ پاکستان ایگلٹس ٹیم کا آئیڈیا انھی کا تھا جس کا مقصد نوجوان کرکٹرز کو انگلینڈ بھیج کر 1954 کے دورے سے قبل تجربہ فراہم کرنا تھا۔ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ بھی رہے۔ وہ پہلے مسیحی تھے جو پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے۔

کے آر کلکٹر پارسی تھے۔ انھیں دفتری امور کا خاصا تجربہ تھا۔ اس زمانے میں یہ بات مشہور تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چلتا پھرتا دفتر کے آر کلکٹر کا وہ ٹین کا صندوق تھا جس میں تمام ضروری کاغذات ہوتے تھے۔ اس زمانے میں بی سی سی پی کا کوئی دفتر بھی نہیں تھا اور کافی عرصے تکتمام خط وکتابت 72 گارڈن روڈ کراچی کے پتے پر ہوا کرتی تھی جو کے آر کلکٹر کا گھر تھا۔

پاکستان کی سرزمین پر پہلا میچ

اُس وقت کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کرنا تھا۔ تقسیم سے قبل متعدد کھلاڑی جو ہندوستان میں رانجی ٹرافی کھیلا کرتے تھے پاکستان آنے کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ شروع ہونے کے شدت سے منتظر تھے۔

یہ دسمبر 1947 کی بات ہے جب پناہ گزینوں کی امداد کے لیے ’قائداعظم فنڈ‘ کے تحت باغ جناح لاہور میں ایک میچ سندھ اور مغربی پاکستان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔

اُس وقت اس میچ کو فرسٹ کلاس کرکٹ کا درجہ نہیں دیا گیا تھا حالانکہ اس میچ میں کوئی بھی ایسا کھلاڑی نہیں تھا جس نے اپنے کریئر کا آغاز کیا ہو بلکہ دونوں ٹیمیں باقاعدگی سے رانجی ٹرافی میں حصہ لے رہی تھیں تاہم ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اس میچ کو پاکستان کی سرزمین پر کھیلے گئے اولین فرسٹ کلاس میچ کا درجہ دے دیا گیا۔

اس میچ میں مغربی پنجاب نے اننگز اور 68 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ مغربی پنجاب کی طرف سے محمد اسلم کھوکھر کو پاکستان کی پہلی فرسٹ کلاس سنچری سکور کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ محمد اسلم کھوکھر 1954 میں انگلینڈ کے دورے میں صرف ایک ٹیسٹ کھیل پائے تھے جس کی وجہ پنجے کی تکلیف تھی۔

انھوں نے امپائرنگ کو اپنایا اور تین ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کی۔ وہ 91 سال کی عمر میں وفات پانے والے سب سے عمر رسیدہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر تھے۔

اس میچ میں سندھ کے ایم ای زیڈ غزالی نے بھی سنچری بنائی تھی جبکہ فضل محمود نے 60 رنز کی اننگز کھیلنے کے علاوہ دونوں اننگز میں چھ وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

فائل فوٹو
Getty Images
فائل فوٹو

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ سے قبل پاکستان میں جس میچ کو اولین فرسٹ کلاس میچ کا درجہ دیا گیا تھا وہ فروری1948 میں باغ جناح لاہور ہی میں پنجاب یونیورسٹی اور مغربی پنجاب گورنر الیون کے درمیان کھیلا گیا تھا جس میں میری میکس کے نام سے مشہور سابق ٹیسٹ کرکٹر مقصود احمد نے سنچری بنائی تھی۔

پاکستان کے 75 برس
BBC

پاکستان کے 75 برس: اس گاؤں کا سفر جس کے بارے میں ’میرے خاندان میں کوئی بات نہیں کرتا تھا‘

آزادی کے 75 سال: کیا انڈیا کی آزادی کی تاریخ کا اچانک فیصلہ کیا گیا؟

100 برس کا پاکستان اور قومی دھارے سے خود کو الگ سمجھنے والوں کے خواب

75 برس بعد پاکستان میں آنسوؤں سے ایک انڈین کا استقبال

پاکستان کی کرکٹ کے ابتدائی ایام میں مغربی پنجاب کے انگریز گورنر سر فرانسس موڈی کا کردار بہت اہم تھا۔ مغربی پنجاب کی ٹیم میں ماجد خان کے والد جہانگیر خان اور فضل محمود بھی شامل تھے۔ یہ سرفرانسس موڈی ہی تھے جنھوں نے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے جہانگیر خان کی بجائے میاں محمد سعید کو کپتانی کے لیے تیار کیا جو ٹیسٹ رکنیت حاصل کرنے سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان تھے۔

آئی سی سی کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ

پاکستان کو آئی سی سی کی ٹیسٹ رکنیت کا معاملہ خاصا گمبھیر تھا۔ ایک جانب پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ استوار نہ تھا دوسری جانب انڈیا اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔

پیٹر اوبون کی کتاب ’وونڈڈ ٹائیگر‘کے مطابق انڈین کرکٹ بورڈ کے صدر اے ایس ڈی میلو نے پاکستان کے قیام سے چار روز قبل کھلاڑیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سب متحد ہو کر ہندوستان میں کھیلوں کے لیے ایک ہو جائیں کیونکہ تمام قومیں ہمیں ہندوستانی کے طور پر دیکھیں گی۔

ڈی میلو کے اس بیان کے بعد کرکٹر دلیپ سنھجی نے بھی یہی انداز اختیار کرتے ہوئےکہا کہ اگر بی سی سی آئی (انڈین کرکٹ بورڈ) کو تقسیم کیا گیا تو اس کے نتیجے میں کرکٹ کو نقصان ہو گا۔

1954: فضل محمود (سب سے آگے) اوول ٹیسٹ کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ پویلین لوٹتے ہوئے
Getty Images
فضل محمود (سب سے آگے) اوول ٹیسٹ کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ پویلین لوٹتے ہوئے

انڈیا نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان انڈیا سے الگ ہو کر ٹیسٹ کرکٹ کھیلے۔ اسی دوران ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنے مضمون میں پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ وہ انڈین کرکٹ بورڈ کی واحد حیثیت کو تسلیم کر لے یا پھر امپیریل کرکٹ کانفرنس (آئی سی سی) سے بات چیت کر کے اپنی الگ شناخت حاصل کرنے کی کوشش کرے جو اتنا آسان نہ تھا۔

انڈیا کو ایم سی سی سے بھی ایسے اشارے ملے تھے کہ وہ انڈیا کو ترجیح دے گا دوسری جانب پاکستان میں سندھ کرکٹ ایسوسی ایشن کو بھی یہ پریشانی لاحق تھی کہ وہ انڈین کرکٹ بورڈ سے کیسے الگ ہو سکے گی کیونکہ تمام وسائل انڈیا کے تھے۔

چونکہ اس زمانے میں پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ نہ ہونے کے برابر تھی لہذا جسٹس کارنیلئس کی کوشش تھی کہغیر ملکی ٹیموں کو پاکستان میں کھیلنے کے لیے مدعو کیا جائے۔

سنہ 1949 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سیلون کا دورہکرنے کا موقع ملا، اسی سال کامن ویلتھ کی ٹیم بھی پاکستان آئی۔اگلے سال سیلون کی ٹیم کی پاکستان آنے کی باری تھی۔ پاکستانی کرکٹرز کو کرکٹ کھیلنے کو مل رہی تھی اور دوسری جانب پاکستانی حکام آئی سی سی کی رکنیت کی کوششوں میں مصروف تھے۔

1949میں بورڈ کے سیکریٹری کے آر کلکٹر اپنے خرچ پر آئی سی سی میں پاکستان کی ٹیسٹ رکنیت کی درخواست لے کر گئے تھے لیکن یہ درخواست مسترد کر دی گئی تھی کیونکہ بورڈ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ درخواست کے ساتھ ممبر شپ فیس بھی دینی ہوتی ہے۔ آئی سی سی کا دوسرا اعتراض پاکستان میں معیاری فرسٹ کلاس کے نہ ہونے کے بارے میں تھا۔

یہ 28 جولائی 1952 کی بات ہے جب کے آر کلکٹر نے ایک بار پھر آئی سی سی سے رجوع کیا اور اس مرتبہ آئی سی سی کے پاس کوئی جواز موجود نہ تھا کہ وہ پاکستان کی رکنیت کی درخواست کو رد کر سکے اور اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی وہ تاریخی کامیابی تھی جو اس نے دسمبر 1951 میں ایم سی سی کے خلاف کراچی جمخانہ میں کھیلے گئے دوسرے غیرسرکاری ٹیسٹ میچ میں حاصل کی تھی۔

پاکستان کی کرکٹ نے نئی کروٹ لے لی تھی اور اس بدلتے انداز میں اسے میاں محمد سعید کی جگہ عبدالحفیظ کاردار کی شکل میں ایک نیا کپتان بھی مل گیا تھا۔

ٹیسٹ رکنیت ملنے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1952 میں پہلا سرکاری دورہ انڈیا کا کیا جہاں اس نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی تھی جس میں قابل ذکر بات لکھنؤ ٹیسٹ کی یادگار کامیابی تھی۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.