عمران خان اپنی تیاری کر لیں، ہم اپنی تیاری کر لیتے ہیں: رانا ثنا اللہ

image
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر عمران خان احتجاج کے لیے اسلام آباد آتے ہیں تو انہیں عدلیہ کی مختص کردہ جگہوں پر سہولت دیں گے  لیکن ریاست پر چڑھ دوڑنے اور ریڈ زون میں داخلے کے لیے آئے تو موثر طریقے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔  

سنیچر کو لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی گروہ اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کرے تو کیا ہم اس کے سامنے لیٹ جائیں۔ وہ مسلح جتھے کی صورت میں آئیں گے تو انہیں روکیں گے ورنہ ہم نے ان کے گھروں میں جا کر تو نہیں روکنا۔‘ 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنی تیاری چیک کر لیں اور ’ہم بھی اپنی تیاری چیک کر لیتے ہیں۔‘  عمران خان  نے 25 مئی کو مسلح جتھے کی موجودگی کا خود اعتراف کیا تھا  تاہم اب قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں پنجاب اور خیبر پختونخوا نے مانگی گئی نفری نہ دی تو ہمارے پاس رینجرز وغیرہ کی صورت میں نفری پہلے سے موجود ہے ۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کریں گے کہ طاقت کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ 

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اعلان کر چکے ہیں کہ وہ سنیچر کو اپنے کارکنان اور حامیوں کو اپنے اگلے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔ 

عمران خان سنیچر کو اپنے آئندہ لائحہ کا اعلان کریں گے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ عمران خان کی ’ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر ہوئی، مہنگائی پی ٹی آئی دور میں شروع ہوئی، ہماری حکومت نے ریاست کو بچانے کیلئے سیاست کو قربان کیا۔‘

رانا ثنا اللہ  کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تبدیلی لانا کوئی بڑی بات نہیں، تبدیلی کو ووٹ اور دوسرے طریقے سے لایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز الہی جس نمبر کے ساتھ وزیراعلی بنے ہیں، وہ صرف دو یا تین ووٹ ادھر ادھر ہونے سے تبدیلی آ سکتی ہے۔ ’پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ ہو جائے تو ہمارے ساتھ دس پندرہ لوگ رابطے میں ہیں۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.