پاکستان امریکہ تعلقات، گزشتہ حکومت نے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا: شہباز شریف

image
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، گزشتہ حکومت کے غیرضروری اقدامات پاکستان کے خودمختار مفادات کے لیے نقصان دہ تھے۔

نیو یارک میں امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔ ’گزشتہ حکومت نے اس سلسلے میں جو کچھ کیا وہ سب غیرضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کے لیے نقصان دہ تھا، یہ سب کچھ پاکستان کے عوام کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔‘

افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ طالبان کے پاس دوحہ معاہدے کی پاسداری کر کے افغانستان میں امن اور ترقی کو یقینی بنانے کا سنہری موقع ہے، افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’انڈیا کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک کشمیر کا سلگتا ہوا تنازع پرامن مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا ہم امن سے نہیں رہ سکتے۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ’تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور دنیا کو بتایا ہے کہ موسمی اثرات کی وجہ سے جن سیلابی تباہ کاروں کا پاکستان کو سامنا ہے کل یہ سانحہ کسی اور ملک کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

’تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے فوری ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی ہے۔‘

شہباز شریف نے ملک میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بہت زیادہ ہیں، سینکڑوں بچوں سمیت 1600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، 40 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، لاکھوں مکانوں کو نقصان پہنچا، ان کی زندگی کی جمع پونجی ختم ہو گئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، ریلوے پل، ریلوے ٹریک، مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اس سب کی بحالی کے لیے فنڈز درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی حدت کا سبب بننے والے عالمی حدت کا ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بنک کے اعلی حکام سے ملاقات میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے تک پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور دیگر شرائط کو موخر کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے پاکستان کی معیشت اورعوام پر اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ بہت معاون لگ رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’زرعی زمین کی تباہی کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑ سکتی ہے۔ ملک کو کھاد کی ضرورت ہے کیونکہ کارخانے بند ہیں۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.