bbc-new

اسلام آباد میں پاکستانی نژاد کینیڈین خاتون کا قتل: ملزم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، والد ایاز امیر پولیس کی حراست میں

اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے چک شہزاد میں بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم شاہنواز کے والد اور صحافی ایاز امیر کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔
فائل فوٹو
Getty Images
فائل فوٹو

اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے چک شہزاد میں بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم شاہنواز کے والد اور صحافی ایاز امیر کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔

نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی سہیل ظفر نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے ملزم کی والدہ کو گرفتار نہیں کیا صرف والد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ ملزم شاہنواز کو اہلیہ کے قتل کے الزام میں گذشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا اور اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کے علاوہ ملزم کے والدین کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست بھی منظور کی تھی۔

واضح رہے کہ سنیچر کو مقدمہ درج ہونے پر ملزم شاہنواز شاہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

عدالت میں کیا ہوا؟

ملزم شاہ نواز امیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے سوال کیا کہ ’آپ کو کب گرفتار کیا گیا؟‘

ملزم شاہنواز نے جواب دیا کہ ’مجھے جمعے کی صبح گرفتار کیا گیا۔‘

پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنی اہلیہ کو بے دردی سے قتل کیا جس پر جج نے ملزم سے سوال کیا کہ ’آپ کچھ بولنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ پر 302 کا مقدمہ ہوا ہے؟‘

پولیس کی جانب سے عدالت سے ملزم کے 10 دن کے ریمانڈ کی درخواست کی گئی اور کہا گیا کہ ملزم سے برآمدگی کرنی ہے۔

پولیس نے دعوی کیا کہ ملزم نے کینڈین نژاد پاکستانی اہلیہ کو بیرون ملک سے بلا کر قتل کیا جس پرملزم کے وکیل نے کہا کہ ’یہ قتل صرف الزام کی حد تک ہے۔‘

پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ ملزم کے فنگر پرنٹس کروانے کے لیے لاہورلے جانے کی ضرورت ہے جس پر عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ یہ کام نادرا کی مدد سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے پولیس کی جانب سے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دو روزہ ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کیا۔

واضح رہے کہ واقعے کے بعد ایاز امیر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ 'یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے اور خدا کرے ایسا کسی کے ساتھ نہ ہو۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتے اور 'میں تو صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا واقعہ کسی کے ساتھ پیش نہ آئے اور یہ صدمہ کسی کو نہ اٹھانا پڑے۔

یہ بھی پڑھیے

خاتون کو ’کینیڈا واپس جانے کی ضد پر‘ شوہر نے قتل کروا دیا: گوجرانوالہ پولیس

ساجدہ تسنیم کا قتل: ’ساس سسر کہتے تھے آسٹریلیا کو بھول جاؤ، تم نے یہیں رہنا، یہیں مرنا ہے‘

انڈر ورلڈ اور کرائے کے قاتل: لاہور میں جرم کی دنیا کیسے چلتی ہے؟

پولیس کی سپیشل انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل

اسلام آباد پولیس آئی جی نے سارہ قتل کیس کی تفتیش کے لیے سپیشل انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے جس کی سربراہی ایس پی رورل حسن جہانگیر وٹو کر رہے ہیں۔

اس تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ رات گئے مقتولہ سارہ کے چچا کرنل ریٹائرڈ اکرام الرحیم نے پولیس سے رابطہ کیا تھا اور انھوں نے الزام لگایا کہ ان کی بھتیجی کے قتل میں ملزم کے والد اور والدہ بھی ملوث ہیں۔

پولیس اہلکار کے بقول مقتولہ کے چچا نے پولیس کو بتایا کہ شاہنواز اور سارہ کی شادی تین ماہ قبل چکوال میں ہوئی تھی اور اس شادی میں ملزم کے والدین بھی شریک تھے۔

اس سے قبل پولیس نے جب شاہنواز کو گرفتار کیا تھا تو اس نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے مقتولہ سے تین ہفتے قبل کورٹ میرج کی تھی۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان پیش آیا۔

اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق قتل کی واردات کی اطلاع ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو دی۔

اطلاع ملنے پر پولیس فارم ہاؤس 46 پہنچی تو ملزم نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ کمرہ کھولنے کے بعد ملزم کو قابو کر لیا گیا۔

اس میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم کو کمرے سے نکالا گیا تو اس کے کپڑوں پر خون کے نشانات تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے بتایا کہ انھوں نے لڑائی کے دوران اپنی بیوی کے سر پر ڈمبل مارا اور مقتولہ کی لاش کو واش روم میں چھپا دیا۔

ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم نے صوفہ کے نیچے چھپایا آلہ قتل ڈمبل بھی خود برآمد کروایا ہے جس کے اوپر خون اور بال لگے ہوئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے ڈمبل کے متعدد وار کر کے اہلیہ کا قتل کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشن اسلام آباد پولیس سہیل ظفر چھٹہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ 'گھر کے واش روم سے تشدد زدہ لاش ملی جس کے سر پر زخموں کے نشانات تھے۔'

انھوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر مقتولہ سارہ کو وزرش کے لیے استعمال ہونے والی ڈمبل سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بظاہر اسی تشدد سے ان کی موت ہوئی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ملزم کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ ان کی تیسری بیوی تھیں اور چند ہفتے قبل ہی انھوں نے اسلام آباد کی ایک عدالت میں جا کر شادی کی تھی۔ ملزم کی اس سے قبل اپنی دو بیویوں سے طلاق ہو چکی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق جس فارم ہاؤس پر یہ واقعہ ہوا وہ ملزم کی والدہ، ایاز امیر کی سابقہ اہلیہ، کے نام پر ہے اور ملزم اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہائش پذیر تھے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.