bbc-new

کیا یوکرین ڈارک ویب پر مغربی اسلحہ آگے فروخت کر رہا ہے؟

روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یوکرین خود کو مغرب سے ملنے والا اسلحہ آگے فروخت کر رہا ہے مگر یہ ممکنہ طور پر جعلی معلومات کی ایک مہم ہے۔

بی بی سی نے ایسی ہی ایک آن لائن مارکیٹ پر تحقیقات کیں، خفیہ رہ کر مبینہ ہتھیاروں کے فروخت کنندگان سے بات کی اور ثبوت حاصل کیے کہ ہتھیاروں کے یہ اشتہارات جعلی ہیں۔

روس نواز اکاؤنٹ اے ایس بی ملٹری نیوز نے دو جون کو ٹوئٹر اور ٹیلی گرام پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ 'یوکروپس (یوکرینیوں کے لیے روسی زبان میں عامیانہ لفظ) جیویلین میزائل ڈارک ویب پر فروخت کر رہے ہیں۔ یوکرینی مسلح افواج کی اعلیٰ کمان نیٹو کا فراہم کردہ اسلحہ اور ساز و سامان آگے فروخت کر رہی ہے۔'

یہ اکاؤنٹ ٹوئٹر نے معطل کر دیا ہے مگر اب بھی ٹیلی گرام پر موجود ہے جہاں اس کے ایک لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں۔

اسی روز سات لاکھ فالوورز کے حامل ایک اور روس نواز ٹیلی گرام چینل نے روسی زبان میں لکھا: 'بائیڈن اور یوکرین کے یورپی دوستوں کی بدولت اب جیویلن، مشین گنز اور یہاں تک کہ ٹینکس بھی پوری دنیا میں دہشتگردوں اور مجرمان کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے۔'

اس پوسٹ کے ساتھ منسلک تصاویر میں مبینہ طور پر ایف جی ایم 148 جیویلین میزائل کی فروخت کا اشتہار بھی تھا۔ اس امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائل کی قیمت 30 ہزار ڈالر لگائی گئی تھی اور وعدہ کیا گیا تھا کہ یہ اسلحہ یوکرین و پولینڈ کی سرحد پر یا بیرونِ ملک پہنچا دیا جائے گا۔

روسی سرکاری ٹی وی نے فوراً ہی ان پوسٹس کو نمایاں کیا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ پہلے بھی ان دعووں پر مبنی خبریں چلاتے رہے ہیں کہ یوکرین مغرب کا فراہم کردہ اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔

ہم نے ان الزامات کی خود تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے ایسے لیپ ٹاپس استعمال کیے جن کا تعلق بی بی سی سے نہیں پایا جا سکتا۔ ایک خصوصی ویب براؤزر کے ذریعے ہم ڈارک ویب تک پہنچے جہاں اتنی رازداری ہے کہ مجرمان یہاں اپنی سرگرمیاں کرنا پسند کرتے ہیں۔

ہم نے اسی مارکیٹ میں روسی سرکاری ٹی وی کی نشاندہی سے کئی فروخت کنندگان کو دیکھا جن کا کہنا تھا کہ وہ نیٹو کا اسلحہ فروخت کر رہے ہیں۔ ان کی جیولوکیشن دارالحکومت کیئو کی تھی مگر یوکرین کے دارالحکومت کے یوکرینی زبان میں ہجے غلط تھے۔

شامی اسلحے پر یوکرینی لیبل

روسی میڈیا رپورٹس میں جو سیلر سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے وہ 'ویپنز یوکرین' ہے۔

اس سیلر کا دعویٰ ہے اُنھوں نے امریکی ساختہ کاربائنز (خود ساختہ رائفلز)، پستولوں، اور دیگر رائفلوں کے 32 کامیاب سودے کیے ہیں اور یہ سب مبینہ طور پر یوکرین میں ڈیلیور کی گئی ہیں۔

مگر بی بی سی نے پایا کہ زیادہ تر اسلحے کی تصاویر حقیقت سے مماثلت نہیں رکھتی تھیں۔ روس کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین امریکہ کے عطیہ کردہ ہتھیاروں کو ڈارک ویب پر فروخت کر رہا ہے۔

سرخ نشان تصویر کے پرانے ہونے یا ردوبدل کیے جانے کی علامت ہے۔

ہمیں معلوم ہوا کہ ایم 4 کاربائن کی تصویر سنہ 2014 میں ایک روسی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ سیلر نے جس ایک اور رائفل کا اشتہار دے رکھا تھا، وہ تصویر بھی سنہ 2014 کی تھی اور بندوقوں کے شوقین ایک شخص نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی تھی۔

ایک اور سیلر 'بِگ ڈسکاؤنٹس آن ویپنز' کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ امریکی ساختہ جیویلین اور ڈرونز فروخت کرتے ہیں جو کہ حال ہی میں نیٹو نے امریکہ کو فراہم کیے ہیں۔ ان کا طریقہ تھوڑا زیادہ ذہین تھا۔

ڈرون
BBC
فروخت کے لیے رکھے گئے ایک ڈرون کی تصویر میں ایسے رد و بدل کیا گیا جیسے یہ اسی مارکیٹ کی اپنی تصویر ہو

اس سیلر نے کئی پرانی تصاویر بشمول ٹوٹ پھوٹ کے شکار ڈرونز کو فوٹو شاپ کر کے ایسا بنا رکھا تھا جیسے یہ تصاویر اُنھوں نے خود لی ہیں۔ اور ان پر اپنی آن لائن شاپ کا نام چسپاں کر رکھا تھا۔

ہم نے آن لائن مواد کی تصدیق کرنے والی ایک یوکرینی ویب سائٹ 'سٹاپ فیک' سے بات کی۔ اُنھوں نے پایا کہ اس اشتہار میں موجود ڈرون وہ دو سوئچ بلیڈ 300 ڈرون ہیں جو شام میں سنہ 2015 اور سنہ 2016 میں مار گرائے گئے تھے۔ ان کے سیریل نمبرز بھی مشابہ تھے۔

کیا 'اسلحے کے ڈیلرز' گوگل ٹرانسلیٹ استعمال کر رہے ہیں؟

روسی سرکاری میڈیا بار بار یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ان اشتہارات کے پیچھے یوکرینی لوگ موجود ہیں چنانچہ ہم نے ان نام نہاد 'سیلرز' سے خود بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

جیویلن اور سوئچ بلیڈ 300 فروخت کرنے والے سیلر نے ہم سے کہا کہ ان سے ایک میسجنگ ایپ پر بات کریں جہاں اُنھوں نے اپنا یوزر نیم 'جیویلن یو ایس اے' رکھا ہوا تھا۔

ہم نے ان سے خفیہ رہ کر بات کی اور پوچھا کہ ہم کیسے اسلحہ خرید سکتے ہیں۔

انھوں نے ہمیں یوکرینی زبان میں ٹیکسٹ کیا: 'پیسے اپنے اکاؤنٹ میں ڈالیں، پھر ہم ایک منتظم کو اس چیٹ میں مدعو کریں گے۔ ہم اپنی شرائط و ضوابط بتائیں گے۔ سامان کو محفوظ جگہ رکھ دیں گے۔ جب آپ کو مل جائیں تو آپ ہمیں ٹیکسٹ کر کے بتائیں گے کہ آپ ہر چیز سے خوش ہیں اور پھر منتظم آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے ہمیں منتقل کر دے گا۔'

مگر ہماری اس آن لائن بات چیت میں ہم نے دیکھا کہ ان کی یوکرینی بات چیت میں گرامر کے کئی مسائل تھے۔ جب ہم نے اس بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے کہا کہ وہ پولینڈ سے ہیں۔

ہم نے ایک ماہرِ لسانیات سے کہا کہ وہ اس سیلر سے ہماری بات چیت کا تجزیہ کریں۔

پولش زبان کی ماہر اور یوکرینی روسی پولش مترجم ڈاریا لیویچکا نے کہا 'ان پیغامات کے پیچھے موجود شخص روسی بولتا ہے۔'

اُنھوں نے کہا کہ اس کا ثبوت موجود ہے کہ یہ پیغامات روسی زبان میں لکھے گئے اور پھر ایک آن لائن سروس کے ذریعے یوکرینی زبان میں منتقل کیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ 'مجھے ان کی یوکرینی گفتگو میں بہت 'روسیت' نظر آئی مگر پولش رنگ نہیں نظر آیا۔'

اُنھوں نے ایک روسی فقرے کا حوالہ دیا جس کا ترجمہ کچھ حد تک 'سیدھا مدعے پر آؤ' بنتا ہے مگر اس کا ہم معنی کوئی فقرہ پولش زبان میں نہیں۔

اس کے علاوہ سیلر نے ٹائپنگ کی بھی بہت سی غلطیاں کیں جس کا مطلب ہے کہ آن لائن ترجمہ سروس ان الفاظ کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ یہ روسی الفاظ تھے جو روسی حروف میں لکھے گئے تھے۔

ڈارک ویب
BBC
سیلر کے ساتھ چیٹ میں ہم نے وہ یوکرینی الفاظ نمایاں کیے ہیں جو غلط لکھے گئے

بعد میں ہم نے 'ویپنز یوکرین' نامی سیلر سے بھی بات چیت کی۔ آن لائن چیٹ میں اس سیلر نے بھی گرامر کی کئی غلطیاں کیں جس سے اندازہ ہونے لگا تھا کہ یہ شخص یوکرینی نہیں ہے اور اپنے پیغامات ترجمہ کر کے بھیج رہا ہے۔

ماہرِ لسانیات نے ان کی ویب سائٹ پر پولش زبان میں پوسٹ کیے گئے کئی ریویوز میں بھی غلطیاں پکڑیں جس سے اندازہ ہوا کہ یہ بھی کسی ترجمہ سروس کی مدد سے لکھے گئے ہیں۔

ڈاریا لیویچکا نے کہا: 'اصل لوگ اس طرح بات نہیں کرتے۔'

یہ بھی پڑھیے

’روسی فوجی نشے میں دھت ہو کر حملہ آور ہوتے تھے‘.

یوکرین جنگ: روس کے نقصانات پیوتن کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟

کیا روس کے خلاف یوکرین کے ’ناقابل یقین‘ حملے جنگ کا پانسہ پلٹ رہے ہیں؟

کیا یوکرین جیسا چھوٹا ملک روس جیسی عالمی طاقت کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے؟

یورپی شہریوں کے لیے خطرہ؟

مگر ان سب باتوں کے باوجود روسی سرکاری میڈیا آر ٹی ان سیلرز کے اشتہارات اور ریویوز کو ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے جس سے 'ممکنہ طور عندیہ ملتا ہے کہ یوکرینی اسلحہ سمگلرز نے (پولش) سرحدی محافظوں کے ساتھ روابط قائم کر لیے ہیں اور وہ پولینڈ میں بغیر کسی پیچیدگی کے آ اور جا سکتے ہیں۔'

روس کے چینل ون کی ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 'جیویلین طیاروں کو مار گرا سکتے ہیں اور سٹنگر (امریکی ساختہ فضائی دفاعی نظام) دہشتگردوں کے ہاتھوں میں پہنچ کر یورپی ایئرپورٹس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔'

سٹاپ فیک میں کام کرنے والے ایک محقق سرہی خارچینکو روسی پروپیگنڈا پر تحقیق کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ روس اسی طرح جعلی خبروں کا استعمال کرتا ہے تاکہ یوکرین پر سے بھروسہ ختم کیا جا سکے اور اسے اسلحے کی فراہمی معطل ہو جائ

'ان کا مقصد یورپ میں افراتفری پھیلانا ہے، یہ کہہ کر یہ اسلحہ یورپی شہریوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ یہ کہانیاں روس نے گھڑی ہیں تاکہ بین الاقوامی قارئین پر بھی اثرانداز ہوا جایے۔

بی بی سی نے پایا کہ اسلحے کی فروخت کے بارے میں یہ رپورٹس انگریزی، جاپانی، ویتنامی اور کئی دیگر زبانوں بشمول ایک ایک ترک خبر رساں ادارے اور کئی امریکی بلاگز اور سازشی مفروضوں والی ویب سائٹس نے شائع کی تھیں۔

کیا یہ پوری مارکیٹ روسی جعل سازی ہو سکتی ہے؟

سائبرکرائم کی انٹیلیجنس اکٹھی کرنے والی کمپنی 'کی لا' نے اس پوری مارکیٹ پر تحقیق کی ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ یہ اشتہارات روس نواز پروپیگنڈا ذرائع نے مشہور کیے اور ممکنہ طور پر اُنھوں نے ہی بنائے۔

کی لا کا کہنا ہے کہ یہ مشکوک بات ہے کہ اس مارکیٹ میں بہت کم سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے، کم ہی خرید و فروخت ہو رہی ہے، اور ڈارک ویب وزٹ کرنے والوں میں بھی اس مارکیٹ کی معلومات کم ہی ہے۔

کی لا کی چیف ریسرچ آفیسر آئرینا نیستیرووسکی کہتی ہیں کہ 'عام طور پر آپ کو ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو کسی مارکیٹ کو جانتے ہوں مگر ہمیں اس پلیٹ فارم سے متعلق کوئی ریویوز وغیرہ نہیں ملے۔ ہمیں اس مارکیٹ سے متعلق کچھ بھی، کسی بھی طرح کا فیڈ بیک تلاش کرنے میں بہت مشکل ہوئی۔'

ان کا سوال ہے کہ روسی صحافیوں کو یہ مارکیٹ اتنی آسانی سے کیسے مل گئی۔

آئرینا کہتی ہیں کہ یہ واضح نہیں کہ یہ اشتہارات بذاتِ خود روس نواز عناصر نے بنائے یا پھر ڈارک ویب پر موجود دھوکے بازوں نے بنائے اور پھر روسی ذرائع نے انھیں مشہور کرنا شروع کر دیا۔

مگر روسی سرکاری میڈیا اداروں کی جانب سے اس مہم کے وقت اور یکسانیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایک جعلی معلومات پھیلانے کی مہم ہو سکتی ہے۔

سرہی خارچینکو یہ بات تسلیم کرتے ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ روسی پروپیگنڈا عناصر اسی مارکیٹ کا استعمال کرتے ہوئے دیگر جھوٹی کہانیاں بھی گھڑ سکتے ہیں۔

'اب روسی کہانیاں بنا رہے ہیں کہ یوکرین اسلحہ آگے فروخت کر رہا ہے۔ مگر کون جانتا ہے کہ کل وہ اسی مارکیٹ کا استعمال کرتے ہوئے دیگر 'سامان' یا 'خدمات' کی فروخت کے بارے میں جھوٹی کہانیاں بنائیں۔ اگر اُنھوں نے یہ مارکیٹ بنا ہی لی ہے تو وہ اس کا استعمال کیوں نہیں کریں گے؟ وہ صرف یوکرینیوں کے ذہنوں میں شک اور ان میں پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔' ے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.