bbc-new

ساجد سدپارہ، مناسلو چوٹی سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما: ’برفانی تودا گرنے کے باعث واپسی کا سفر خطرناک ہو چکا تھا‘

’کیمپ فور سے اُوپر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں اور کئی مہم جوؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس ہوا کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر میں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر فیصلہ کیا کہ میں سفر جاری رکھوں گا۔ ویسے بھی ایک دفعہ اگر قدم بڑھ جائیں تو پھر واپسی کا فیصلہ ہمارا شیوہ نہیں ہے۔‘

’مناسلو کی مہم جوئی کے دوران کیمپ فور سے اُوپر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ اس موقع پر کیمپ فور میں موجود کچھ مہم جوؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس ہوا کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر میں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر فیصلہکیا کہ میں سفر جاری رکھوں گا۔ ویسے بھی ایک دفعہ اگر قدم بڑھ جائیں تو پھر واپسی کا فیصلہ ہمارا شیوہ نہیں ہے۔‘

یہ کہنا ہے کہ پاکستانی کوہ پیما ساجد سدپارہ کا۔ ساجد نے نیپال میں موجود دنیا کی آٹھویں بڑی چوٹی ’مانسلو‘ کو فتح کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس چوٹی کو ساجد سدپارہ سے پہلے اُن کے والد محمد علی سدپارہ بھی سر کر چکے ہیں۔

مگر آپ پوچھیں گے کہ اگر علی سدپارہ مانسلو کو ماضی میں سر کر چکے ہیں تو ساجد سدپارہ کو اس چوٹی کو سر کرنے والا پہلا پاکستانی کوہ پیما کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

تو معاملہ یہ ہے کہ گذشتہ سال ہی نیپال کے مہم جوؤں نے مناسلو کی ایک نئی چوٹی اور اس تک پہنچنے کا نیا راستہ دریافت کیا ہے جو ماضی کے بلند ترین مقام سے مزید چند میٹر اوپر ہے۔

کوہ پیمائی کی دنیا میں کسی بھی چوٹی کا نیا بلند ترین مقام دریافت ہونے کے بعد ماضی کی مہمات کو منسوخ سمجھا جاتا ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ساجد سدپارہ کو چوٹی سر کرنے والا پہلا پاکستانی کوہ پیما کہا جا رہا ہے۔

اس چوٹی کو سر کرنے کے بعد اب ساجد سدپارہ مناسلو کے بیس کیمپ واپس پہنچ چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انھیں کیمپ فور سے چوٹی تک پہچنے میں لگ بھگ نو گھنٹے لگے تھے۔

کیمپ فور سے چوٹی تک کا سفر

ساجد سدپارہ بتاتے ہیں کہ جب وہ کیمپ فور پر پہنچے تو وہاں پر حالات اچھے نہیں تھے۔

’بہت تیز ہوا چل رہی تھی۔ ہوا کی رفتار کم از کم ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس موقع پر کئی کوہ پیماؤں نے فیصلہ کیا کہ اس خطرناک ہوا میں مہم جوئی جاری رکھنا مناسب نہیں ہو گا اور انھوں نے کیمپ فور ہی میں انتظار کرنا مناسب سمجھا۔‘

ساجد سدپارہ کہتے ہیں کہ ’خطرہ تو سب ہی کے لیے ہوتا ہے۔ مگر میں ایک پیشہ ور کوہ پیما اور تربیت یافتہ ہوں۔ مجھے اپنا کچھ اور فیصلہ کرنا تھا۔ میں نے فیصلہ کرنے میں چند لمحے لیے۔ اس موقع پر میں نے اپنے پاس موجود آلات اور سامان کو دیکھا۔ میرے پاس کوہ پیمائی کا جدید ترینلباس تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

کے ٹو کا ’ڈیتھ زون‘ کیا ہے اور کوہ پیما وہاں کتنے گھنٹے زندہ رہ سکتے ہیں؟

دو پاکستانی کوہ پیما خواتین ایک ہی دن کے ٹو سر کرنے میں کامیاب

کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ سخت حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے میرا جسم پوری طرح تیار تھا۔ جس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں اوپر جاؤں گا۔ ویسے بھی میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ میں واپسی کا سفر اختیار کرتا کیونکہ یہ میرے مزاج کے خلاف ہے۔‘

ساجد سدپارہ کہتے ہیں کہ ’میں نے ہمت کر کے مناسلو کی چوٹی کو فتح کرنے کا سفر شروع کر دیا تھا۔ ہر ایک قدم پر تیز ہوائیں روکنے کی کوشش کرتی تھیں۔ ان ہواؤں کا مقابلہ اس طرح نہیں کیا جاتا کہ آپ ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔ یہ مقابلہ بہت طریقے سے کیا جاتا ہے۔ میں بچپن ہی سے یہ کرتا آ رہا تھا اور اسی لیے مجھے اندازہ تھا کہ اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے۔‘

سدپارہ بتاتے ہیں کہ ’جب میں نے سفر شروع کیا تو پہلے میرا خیال تھا کہ مجھے زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر رکھنا تھا۔ ہر ایک چیز کو سمجھنا تھا۔ مگر جب سفر شروع کیا تو میں نے چوٹی کو اتنی ہی وقت میں طے کر لیا تھا جتنے وقت میں عام حالات کے اندر طے کیا جاتا ہے۔‘

’میرے تقریباً آٹھ سے نو گھنٹے لگے تھے۔ حالات نارمل ہوں تو کیمپ فور سے چوٹی تک اتنا ہی وقت لگتاہے۔‘

بغیر مدد اورآرامکے متواتر سفر

ساجد سد پارہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے 8163 میٹر کی چوٹی کو 27 گھنٹوں کے اندر بغیر رُکے،سوئے اور آرام کے سر کیا۔ جب میں نےبیس کیمپ سے اپنا سفر شروع کیا تو میں بیس کیمپ ون اور ٹوپر نہیں رُکا بلکہکیمپ تھری اور فور پر چند منٹوں کے لیے رُک کر پانی اور چائے پی تھی۔

’اِن 27گھنٹوں کے دوران میں نے بالکل نیند نہیں کی تھی۔ بغیر سوئے اپنا سفر جاری رکھا تھا۔‘

ساجد سد پارہکا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران میں نے خود اپنا راستہ بنایا، خود ہی رسیاں لگائیں اور خود ہی اپنی ضرورت کا سامان اٹھایا۔ '

’پروفیشنلکوہ پیمائی میں سامان وغیرہ اٹھانے کے لیے مدد حاصل کی جاتی ہے مگر میں نے یہ سب کچھ خود ہی کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اس سے پہلے میں نے پاکستان میں مہمات کے دوران یہ کر چکا تھا۔ ویسے بھی بغیر کسی مدد کے کوہ پیمائی کرنے کی اہمیت زیادہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مناسلو ایک مشکلپہاڑ ہے۔

واپسی کا مشکل سفر

ساجد سدپارہ بتاتے ہیں کہ واپسی کے سفر کے دوران ایک برفانی تودا گرنے سے حادثہ پیش آیا تھا۔ ’اس حادثے میں ایک سری لنکن شرپا کے علاوہ ایک امریکی خاتون کوہ پیما ہلاری نیلسن بھی ہلاک ہوئی ہیں۔‘

’برفانی تودا گرنے سے تمام راستے بند ہو گئے تھے اور لگائی ہوئی تمام رسیاں ختم ہو چکی تھیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں میں نے فیصلہ کیا کہ واپسی کا راستہ امدادی سرگرمیاں وغیرہ تک مؤخر کیا جائے، جس کے لیے میں کافی دیر تک کیمپ فور میں رُکا تھا۔ جب حالات بہتر ہوئے تو پھر دوبارہ رسیاں وغیرہ لگا کر واپسی کا سفر شروع کیا تھا۔‘

ساجد سدپارہ کہتے ہیں کہ ’واپسی کے سفر میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔’

مزید پڑھیے

پاکستانی کوہ پیما جو K 2 سر کرنے والی پہلی کامیاب مہم کا حصہ نہ بن سکا

وہ خاتون جو سردیوں میں بغیر آکسیجن ’کے ٹو‘ سر کرنا چاہتی ہیں

’برفانی تودا گرنےکے بعد واپسی کا راستہ بھی خطرناک ہو چکا تھا۔ برفکے اندر پاؤں دھنس رہے تھے۔ برفانی تودا گرنے کی وجہ سے مناسلو کے حالات بھی کچھ مختلف ہو چکے تھے۔ مگر یہ سفر مکمل کر کے اب میں بیس کیمپ میں ہوں اور اس کے بعد نیپال ہی موجود دنیا کی ساتویں چوٹی دھولگیری کو سر کرنے کے لیے روانہ ہوں گا۔‘

ساجد کہتے ہیں کہ ’مناسلو کو فتح کرتے ہوئے مجھے خوشی تھی کہ میں اپنے والد کے نقش قدم پرچل رہا ہوں۔ مناسلو کی چوٹی پر پاکستان کا پرچم لگاتے ہوئے یہ عزم کر رہا تھا کہ کوشش کروں گا کہ اپنے ملک کے لیے کوہ پیمائی کی دنیا کا ہر دستیاب اعزاز حاصل کر سکوں۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.