bbc-new

عراق کی آئل فیلڈز کے قریب کینسر کا باعث بننے والے کیمیکلز کی موجودگی: ’یہ آگ میں جلنے جیسا ہے‘

بی بی سی نے آئل فیلڈز میں گیس کے بھڑکنے سے لاکھوں ٹن غیر اعلانیہ زہریلی گیسز کے اخراج کا پتا چلایا۔ بی بی سی کو عراق میں آئل فیلڈز کے قریب زہریلی گیس کے اخراج سے کینسر کا باعث بننے والے کیمیکلز کی موجودگی کا علم ہوا ہے جس سے وہاں کے رہائشی متاثر ہو رہے ہیں۔
Fatima, 13, in hospital whilst receiving treatment for Leukaemia
Jess Kelly/BBC News

بی بی سی نیوز کی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تیل کی بڑی کمپنیاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا اہم ذریعہ چھپا رہی ہیں۔ بی بی سی نے آئل فیلڈز میں گیس کے بھڑکنے سے لاکھوں ٹن غیر اعلانیہ اخراج کا پتا چلایا جہاں بی پی، اینی، ایکسوموبائل، چیورن اور شیل جیسی کمپنیاں کام کرتی ہیں۔

تیل کی پیداوار کے دوران قدرتی گیس کو آگ لگنے کا عمل خارج ہونے والی اضافی گیس کے جلنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تاہم یہ کمپنیاں اس عمل کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کر رہی ہیں۔

ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹنگ کا طریقہ معیاری صنعتی عمل کے تحت ہوتا ہے۔

جلتی ہوئی گیسیں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور جمے ہوئے دھویں کا ایک طاقتور مرکب خارج کرتی ہیں جو ہوا کو آلودہ کرتی ہیں اور گلوبل وارمنگ کے عمل میں تیزی کا سبب بنتی ہیں۔

بی بی سی کو عراقی آئل فیلڈز کے قریب رہنے والے رہائشیوں میں، جہاں گیس کے شعلے بلند ہوتے ہیں، کینسر کا باعث بننے والے کیمیکلز کی بڑی تعداد میں موجودگی کے بارے میں علم ہوا ہے۔

ہمارے نتائج کے مطابق یہاں آئل فیلڈز میں دنیا میں غیر اعلانیہ آگ بھڑک اٹھنے کا سلسلہ کہیں زیادہ ہے یعنی یہ تیل کی کمپنیاں اس عمل کے درست اعدادوشمار فراہم نہیں کرتی ہیں۔

انسانی حقوق اور ماحولیات پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈیوڈ بائیڈ نے عراق کی ان مقامی کمیونٹیز کا موازنہ ’ماڈرن سیکریفائس زونز‘ سے کیا یعنی ایسے علاقے جہاں منافع اور نجی مفادات کو انسانی صحت، انسانی حقوق اور ماحولیات پر ترجیح دی جاتی ہے۔

ان کمپنیوں نے ایمرجنسی فلیئرنگ یعنی ہنگامی بنیادوں پر جلاؤ کے عمل کو سرے سے ختم کرنے کی حمایت کی ہے اور اسے ضروری عمل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

یہ کمپنیاں عالمی بینک کے وعدے کی پابند ہیں کہ وہ سنہ 2030 تک اس عمل کو مرحلہ وار ختم کر دیں گی۔ شیل کمپنی نے سنہ 2025 تک اس پر عمل کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

لیکن ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جہاں انھوں نے روزمرہ کے کاموں کو چلانے کے لیے کسی دوسری کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، یہ دوسری فرم کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگ لگنے کی صورت میں اخراج کو رپورٹ کرے۔

ایسی فیلڈز تیل کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ہیں، جہاں اوسطاً ان پانچ کمپنیوں کی 50 فیصد تک ضرورت پوری ہوتی ہے۔

تاہم کئی مہینوں کے تجزیے کے ذریعے بی بی سی کو درجنوں آئل فیلڈز کے ایسے زونز ملے ہیں جہاں یہ آپریٹرز اخراج کا اعلان بھی نہیں کر رہے ہیں یعنی کوئی بھی ایسا نہیں کر رہا ہے۔

ورلڈ بینک کے ’فلیئر ٹریکنگ سیٹلائٹ ڈیٹا‘ کا استعمال کرتے ہوئے، ہم ان سائٹس میں سے ہر ایک سے اخراج کی شناخت کرنے میں کامیاب رہے۔

ہمارا اندازہ ہے کہ سنہ 2021 میں تقریباً 20 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اس اخراج کو رپورٹ نہیں کیا گیا ہے یعنی اسے چھپایا گیا ہے۔ یہ ان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے برابر ہے جو ایک سال میں 4.4 ملین کاریں پیدا کریں گی۔

Men fishing in river in Nahran Omar
BBC

اس کے جواب میں تمام پانچ فرموں نے کہا ہے کہ صرف ان سائٹس سے اخراج کی اطلاع دینے کا طریقہ کار موجود ہے جو وہ براہ راست چلاتے ہیں اور یہ صنعت کا ایک معیاری ضابطہ ہے۔

شیل اور اینی نے مزید کہا کہ وہ اخراج کے مجموعی اعداد و شمار دیتے ہیں جس میں ’نان آپریٹڈ سائٹس‘ سے بھڑکنے والے شعلوں کا شمار بھی شامل ہے، لیکن ان کمپنیوں کے مطابق یہ اخراج کو کم کرنے کے ان کے ورلڈ بینک کے وعدے میں شامل نہیں ہے۔

بی بی سی نیوز عربی کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ شعلے بھڑک اٹھنے سے عراق میں آئل فیلڈز کے قریب رہنے والے لوگوں کے لیے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بصرہ، جنوب مشرقی عراق میں دنیا کے سب سے بڑے آئل فیلڈز میں رہنے والے لوگ، رومیلہ، مغربی قرنا، زبیر اور نہران عمر، طویل عرصے سے شک کرتے ہیں کہ ان بھڑکتے شعلوں کی وجہ سے بچپن میں ہونے والا لیوکیمیا کینسر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Girl running in front of flares in Nahran Omar
Hussein Faleh/BBC
بصرہ، عراق

بی بی سی نیوز عربی کے ذریعے دیکھی گئی عراق کی وزارت صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق بصرہ کے علاقے میں سنہ 2015 اور سنہ 2018 کے درمیان کینسر کی تمام اقسام کے نئے کیسز میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ رپورٹ فضائی آلودگی کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

بی پی اور اینی کمپنیاں بالترتیب رومیلا اور زبیر آئل فیلڈز کی اہم کنٹریکٹرز میں شامل ہیں، لیکن چونکہ وہ آپریٹر نہیں ہیں تو اس وجہ سے وہ اس اخراج کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی ہیں۔ اور یہ فریضہ سائٹس آپریٹرز کمپنیاں بھی انجام نہیں دیتی ہیں یعنی اس حوالے سے معلومات کو چھپایا جاتا ہے۔

بی بی سی نیوز عربی نے سنہ 2021 میں چار مقامات کے قریب ماحولیات اور صحت کے ماہرین کے ساتھ کام کیا تاکہ دو ہفتوں کے دوران آگ لگنے کی وجہ کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز پر تحقیقات کی جا سکے۔

ایئر ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ بینزین کی سطح، جو لیوکیمیا اور خون کے دیگر امراض سے منسلک ہے، کم از کم چار مقامات پر عراق کی طے کردہ قومی حد تک پہنچ گئی یا اس سے تجاوز کر گئی ہے۔

پیشاب کے نمونے جو ہم نے 52 بچوں سے اکٹھے کیے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ 70 فیصد میں ٹو نیفتھول (2-Naphthol) کی سطح بلند تھی جو کہ ممکنہ طور پر کینسر کا باعث بننے والے مادے نیفتھلین کی ایک شکل ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی میں بچپن کے کینسر کی پروفیسر ڈاکٹر مینویلا اورجویلا گرِم نے کہا کہ ’بچوں میں اس کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے… یہ (ان بچوں کی) صحت کے لیے ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ اس پر کڑی نگرانی کی جانی چاہیے۔‘

Prof Shukri testing levels of pollution in Nahran Omar
Hussein Faleh/BBC News

جب وہ 11 سال کی تھیں تو فاطمہ فلاح نجم کو خون اور ہڈیوں کے کینسر کی ایک قسم کی تشخیص ہوئی جسے ایکیوٹ لمفوبلاسٹک لیوکیمیا کہا جاتا ہے۔ بینزین کا اس طرح پھیلاؤ انسانوں میں اس حالت میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

فاطمہ اپنے والدین اور چھ بہن بھائیوں کے ساتھ زبیر آئل فیلڈ کے قریب رہتی تھیں، جہاں اینی اہم یعنی لیڈ کنٹریکٹر ہے۔ نہ ہی اینی اور نہ ہی زبیر کی آپریٹنگ کمپنی وہاں آگ لگنے سے اخراج کے بارے میں معلومات دیتی ہیں۔ صحت کی وجوہات کی بنا پر عراقی قانون آبادی سے چھ میل یعنی دس کلومیٹر کے اندر ایسے جلاؤ کی ممانعت کرتا ہے۔

لیکن زبیر فیلڈ میں شعلے تقریباً مسلسل نظر آ رہے ہیں، خاندان کے سامنے والے دروازے سے اس جگہ کا فاصلہ محض 1.6 میل بنتا ہے۔

فاطمہ کیموتھراپی کے علاج کے دوران اپنے گھر کو گھیرے ہوئے ’آگ کے شعلوں‘ کی جانب کھینچی چلی جاتی تھیں۔

انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ رات کو انھیں دیکھ کر لطف اندوز ہوئیں، اور انھیں معمول پر لانے کے لیے دوڑیں۔ لیکن ان کے والد کے لیے انھیں بیمار ہوتے دیکھنا ایسا ہی تھا جیسے اس طرح آگ کے اندر ہونا ہے جسے آپ بجھا بھی نہیں سکتے۔

فاطمہ کی گذشتہ نومبر میں وفات ہوئی۔ ان کے خاندان نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے سر توڑ کوششیں بھی کیں مگر 13 برس کی فاطمہ کی زندگی کو بچایا نہیں جا سکا۔

Ali Hussein Julood, 19-year-old from Rumaila in front of gas flaring
Hussein Faleh/BBC News

جب اینی کمپنی سے اس پر مؤقف دینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے الزام کی سختی سے تردید کرتی ہے کہ اس کی سرگرمیوں کی وجہ سے مقامی افراد کی صحت خطرے میں ہے۔

اینی کمپنی کا کہنا ہے کہ زبیر فیلڈ میں آگ کا بھڑک جانا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان ’انسانی المیے‘ کے دہانے پر، ’اگلے چھ ماہ زمین پر جہنم کے ہوں گے‘

موسمیاتی تبدیلی: آج کو سمجھنے کے لیے تقریباً 40 سال پیچھے جانا پڑے گا

امریکہ کا ’خفیہ‘ ایٹمی تجربہ: جب کئی دن تک آسمان سے راکھ برستی رہی

بلڈ کینسر: ’میں اپنے کام کے دوران بورڈ میٹنگز میں سو جاتی تھی‘

بی بی سی کے حساب کے مطابق 25 میل دور رومیلا آئل فیلڈ (آر او او) میں دنیا کی کسی بھی سائٹ سے زیادہ گیس کے شعلے نظر آتے ہیں، جو برطانیہ کے تقریباً 30 لاکھ گھروں کو سالانہ بجلی فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔

بی پی لیڈ کنٹریکٹر ہے جس نے آپریٹر، رومیلا آپریٹنگ آرگنائزیشن کو قائم کرنے میں مدد کی اور اب اس کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ بھی آئل فیلڈ سے شعلوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتا۔

آر او او کے آپریٹنگ معیارات، جن پر بی پی نے دستخط کر رکھے ہیں، کہتے ہیں: ’وہ لوگ جو آلودگی کی سطح سے متاثر ہوتے ہیں جو قومی حدود سے تجاوز کرتے ہیں قانونی طور پر معاوضے کے حقدار ہیں‘۔

لیکن لیوکیمیا کینسر سے متاثر ہونے والے 19 برس کے علی حسین جلود کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے سنہ 2020 اور سنہ 2021 میں بی پی سے معاوضہ طلب کیا تو وہ اور ان کے والد خاموشی سے ملے تھے۔

بی پی نے کہا: ’ہمیں بی بی سی کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل پر بہت تشویش ہے۔۔۔ ہم فوری طور پر ان خدشات کا جائزہ لیں گے۔‘

بصرہ کے علاقے میں کینسر کے بارے میں منظرعام پر آنے والی رپورٹ پر عراق کے وزیر تیل احسان عبدالجبار اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ ’ہم نے تیل کے شعبوں میں کام کرنے والی تمام کنٹریکٹ کمپنیوں کو بین الاقوامی معیارات کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔‘

اگر عالمی سطح پر بھڑکنے والی تمام قدرتی گیس پر قابو پا لیا جائے اور اسے استعمال میں لایا جائے تو یہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق روس سے یورپ کی گیس کی درآمدات کے 90 فیصد ضرورت کو پورا کر سکتی ہے۔

Aerial shot of West Qurna oil field
Essam Abdullah Mohsin/BBC News

عالمی بینک کے مطابق اس گیس کے اخراج پر قابو پانا اور اسے استعمال کے لیے حاصل کرنا ابتدائی طور پر مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔

بینک کے اندازے کے مطابق تمام معمول کے جلاؤ کو ختم کرنے پر100 بلین ڈالر تک لاگت آ سکتی ہے۔

لیکن کیپٹریو کے چیف ایگزیکٹو مارک ڈیوس، جو تیل کمپنیوں کو جلتی ہوئی گیس پر قابو پانے کا مشورہ دیتے ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ناروے جیسے ممالک نے ایسا کر دکھایا ہے کہ یہ ایک مضبوط ضابطے کی مدد سے ممکن ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.