bbc-new

اسرائیل میں مسلم دور کے 13 سو سال پرانے سکے برآمد

ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے ملنے والے ان 44 سونے کے سکّوں کا تعلق سنہ 635 کے اس دور سے ہے جب اس علاقے کو مسلمانوں نے فتح کیا تھا۔
Image of the coins found
iSrael Antiquities Authority
تقریباً 14 سو سال پرانے سونے کے سکے

اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ نے کہا ہے کہ ایک نیچر ریزرو (قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے مخصوص کردہ علاقہ) میں بنی دیوار میں چھپائے گئے خالص سونے کے 44 سکوں کا تعلق 7ویں صدی سے ہے۔

اس خزانے کا مجموعی وزن 170 گرام ہے اور اندازہ ہے کہ ہرمن سٹریم (بینیاس) نامی جس جگہ سے یہ ملا ہے اسے سنہ 635 میں مسلمانوں نے فتح کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان سکوں سے علاقے میں بازنطینی دورِ حکومت کے خاتمے کا پتا ملتا ہے۔

بازنطینی سلطنت، رومنی سلطنت کے مشرقی نصف پر مشتمل تھی جس کا دور ایک ہزار سال طویل تھا۔

یہ دریافت کرنے والی ٹیم کے ڈائریکٹر یوایو لیرر نے کہا، ’ہم تصور کر سکتے ہیں کہ جنگ کے خوف سے چھپائے گئے اس خزانے کے مالک نے سوچا ہوگا کہ ایک دن واپس آ کر وہ اپنی ملکیت حاصل کر لے گا۔

’ماضی میں جھانکتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔‘

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کھدائی کے دوران سونے کے سکوں کے علاوہ پرانے شہر کے اس رہائشی علاقے سے عمارتوں کی باقیات، پانی کے پائپ اور راستے، تانبے کے سکے اور بہت سی دوسری اشیا بھی ملی ہیں۔

اسرئیلی محکمۂ آثار قدیمہ کی ماہرِ مسکوکات (سکّے) ڈاکٹر گیبریلا بایوسکی کا کہنا ہے کہ بعض سکوں کا تعلق شہنشاہ فوکاس (602-610) کے دور سے ہے، مگر زیادہ تر شہنشاہ ہیراکلایس دور کے ہیں۔

مسیحی روایت میں بینیاس کا مقام خاص اہمیت رکھتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسی مقام پر حضرت مسیح نے اپنے اپوسٹل پیٹر سے کہا تھا کہ ’اسی چٹان پر میں اپنا کلیسا بناؤں گا۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.