bbc-new

سمیع چوہدری کا کالم: پی سی بی کو ’قرونِ اولیٰ‘ سے کون نکالے گا؟

مگر جس برانڈ کی کرکٹ یہ انگلش ٹیم کھیل رہی ہے، اس کے مقابل کسی بھی طرح کی پچ پہ ڈرا کے لیے کھیلنا دیوانے کے خواب سے بڑھ کر نہیں ہے۔ سٹوکس ایسے کپتان ہیں جو ہر حال میں نتیجہ خیزی کی جستجو میں رہتے ہیں اور یہاں بھی وہ پاکستان کو مجبور کریں گے کہ چوتھی اننگز میں ایک خطیر ہدف ان کا منتظر ہو۔
England
Getty Images

جیمز اینڈرسن نے پچ پر نظر ڈال کر ایک ٹھنڈی آہ بھری، خفیف سی مسکراہٹ سے بین سٹوکس کی طرف دیکھا اور دوبارہ اپنے بولنگ مارک کی سمت چل پڑے۔ راولپنڈی کی یہ پچ ایسی ہی ہے کہ یہاں فاسٹ بولر صرف ٹھنڈی آہیں بھر سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کی دعا کر سکتے ہیں۔

امام الحق اور عبداللہ شفیق اپنے انداز میں انگلش اوپنرز کو بھرپور جواب دے چکے تھے اور بے جان پچ پر پاکستان کا سکورنگ ریٹ اینڈرسن کی الجھن میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ یہ الجھن فقط فاسٹ بولرز تک ہی محدود نہیں تھی، اس پچ پر سپنرز کی زندگی بھی برابر دشوار تھی۔

اسی پچ پر جب انگلش بیٹنگ نے ساڑھے چھ سو سے زیادہ کا مجموعہ جوڑا تو اس کے لیے پاکستانی بولنگ کو صرف 101 اوورز پھینکنا پڑے تھے مگر پاکستان کے روایتی رن ریٹ کے سامنے انگلش بولنگ کی مشقت دو چند ہو گئی۔

اور یہ جھنجلاہٹ اس وقت مزید بڑھی جب چیئرمین پی سی بی میڈیا سے مخاطب ہوئے اور راولپنڈی کی پچ کو خفت آمیز قرار دیا۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ انکشاف بھی کر دیا کہ معیاری پچز کی تیاری میں پاکستان قرونِ اولیٰ میں بس رہا ہے۔

یہی بات اگر کوئی ایسا شخص کہے جو پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے حالیہ نتائج سے باخبر نہ ہو تو پھر بھی لاعلمی کی گنجائش موجود رہتی ہے لیکن جب چیئرمین پی سی بی ہی ایسا کوئی انکشاف کر ڈالیں تو عقل ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتی ہے کہ یا العجب، کیا انھوں نے اپنے ہی بورڈ کے زیر انتظام منعقد ہونے والی قائداعظم ٹرافی کے رواں سیزن پر نظر نہیں ڈالی؟

رواں فرسٹ کلاس سیزن کے دوران راولپنڈی کی یہی پچ فاسٹ بولرز کو بھرپور سیم، سوئنگ اور مناسب باؤنس فراہم کر رہی تھی جبکہ بیٹنگ کے لیے یہاں 300 کا مجموعہ حاصل کرنا سخت دشوار تھا۔

ٹیسٹ میچ
Getty Images

رمیز راجہ کے چیئرمین بننے سے پہلے بھی جو آخری ٹیسٹ میچ اسی راولپنڈی کی وکٹ پر کھیلا گیا تھا، اس میں یہ وکٹ اس قدر بولنگ کے لیے سازگار تھی کہ پاکستانی ڈریسنگ روم متحیر ہو کر ہوم ایڈوانٹیج ڈھونڈنے کی تگ و دو کر رہا تھا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف اس تاریخی فتح میں نہ صرف پاکستانی سیمرز نے پچ سے خوب فیض پایا بلکہ جنوبی افریقی سپنرز کیشو مہاراج اور جارج لنڈے بھی بہت کامیاب رہے تھے۔

رمیز راجہ نے چیئرمین بنتے ہی پاکستانی پچز میں انقلابی تبدیلیوں کا عندیہ دیا تھا مگر ان کی زیرِ نگرانی جو پہلا ٹیسٹ میچ پاکستان نے کھیلا اس میں راولپنڈی کی اسی پچ سے ساری گھاس اڑا دی گئی تا کہ آسٹریلوی پیس اٹیک پاکستانی بیٹنگ پر حاوی نہ ہو جائے۔

یہ کوشش کامیاب بھی رہی مگر اس کے نتیجے میں وہ ٹیسٹ میچ محض پانچ روز کی سعی لاحاصل میں بدل گیا۔

یہ بھی پڑھیے

محض ٹکڑوں میں بٹی کپتانی کافی نہ ہو گی: سمیع چوہدری کا کالم

فارمولہ کرکٹ پاکستان کو مہنگی پڑ گئی: سمیع چوہدری کا کالم

پنڈی کی پچ: ’اس سے بہتر ہے ٹیموں کو نیشنل ہائے وے پر ٹیسٹ میچ کِھلا دیا کریں‘ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: تیسرے دن بابر اعظم کی سنچری اور گیند چمکاتے انگلش بولرز

ENGLAND
Getty Images

حالانکہ چند ہفتے پہلے جب اسی پچ پر قائداعظم ٹرافی کے میچز کھیلے جا رہے تھے تب بھی سیمرز یہاں راج کر رہے تھے مگر نجانے پاکستانی تِھنک ٹینک کو کیا ابتلا درپیش ہے کہ جونہی ٹیسٹ میچ کا ذکر آتا ہے، ایک عجیب سی سراسیمگی طاری ہو جاتی ہے اور راتوں رات وکٹ سے ساری گھاس اڑا کر اسے بے جان کر دیا جاتا ہے۔

مگر جس برانڈ کی کرکٹ یہ انگلش ٹیم کھیل رہی ہے، اس کے مقابل کسی بھی طرح کی پچ پر ڈرا کے لیے کھیلنا دیوانے کے خواب سے بڑھ کر نہیں۔ سٹوکس ایسے کپتان ہیں جو ہر حال میں نتیجہ خیزی کی جستجو میں رہتے ہیں اور یہاں بھی وہ پاکستان کو مجبور کریں گے کہ چوتھی اننگز میں ایک خطیر ہدف ان کا منتظر ہو۔

پاکستان کے لیے محض یہ پچ ہی گھاٹے کا سودا ثابت نہیں ہوئی بلکہ بابر اعظم کی ٹیم سلیکشن اس سے بھی بڑھ کر خسارے کا معاملہ ہے۔ جو کمبینیشن انھوں نے ترتیب دیا ہے اس میں سے آل راؤنڈرز کو کیوں باہر رکھا گیا، یہ ایک معمہ ہے۔

بعینہٖ بہترین فارم میں چلے آتے ابرار احمد کو بینچ پر بٹھا کر زاہد محمود کے ساتھ جو ’انصاف‘ کرنے کی مضحکہ خیز کوشش کی گئی وہ خود انہی کے ساتھ ایک نا انصافی میں بدل گئی۔

پاکستانی ٹاپ آرڈر نے بھی حریف انگلش ٹاپ آرڈر کی طرح اس وکٹ کے بھرپور مزے لوٹے اور بابر اعظم کی سینچری نے فالو آن کے خطرات بھی ٹال دیے مگر فی الوقت جو برتری سٹوکس کی ٹیم کو حاصل ہے، پاکستان کے لیے اس میچ میں بقا کی جنگ دشوار ہوتی جا رہی ہے۔

اور پاکستان کی دشواری صرف گراؤنڈ کے اندر تک ہی محدود نہیں بلکہ سوا دو سو میل دور قذافی سٹیڈیم لاہور کے پی سی بی آفس تک پھیلی ہوئی ہے جس سے یہ گتھی سلجھائے نہیں سلجھ رہی کہ پاکستان پچ بنانے کے عمل میں قرون اولیٰ کی سوچ سے کب نکل پائے گا؟


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.