bbc-new

کوہستان: ’غیرت کے نام پر اگر لڑکی کا قتل ہو جائے تو پھر لڑکے کا قتل بھی لازمی ہو جاتا ہے‘

محمد طاہر نے مقامی پولیس کو درخواست دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے حال ہی میں اُن کے علاقے میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ایک خاتون کو قتل کیا گیا ہے اور چونکہ اُن کے بیٹے کا نام غلط طور پر اُس خاتون سے منسوب کیا جا رہا ہے اس لیے انھیں اندیشہ ہے کہ جلد ہی اُن کے بیٹے کو بھی غیرت کے نام پر قتل کر دیا جائے گا۔
کوہستان
Getty Images
فائل فوٹو

’میں کوہستان کے رسم و رواج اور قانون کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ یہاں اگر کسی لڑکی کا نام کسی لڑکے سے منسوب ہو کر بدنام ہو جائے تو پھر دونوں کا قتل فرض بن جاتا ہے۔ لڑکی پہلے اس لیے قتل ہوتی ہے کیونکہ اسے مارنا آسان ہوتا ہے مگر لڑکی کے قتل کے فوراً بعد لڑکے کا قتل بھی لازمی ہوتا ہے۔‘

یہ  کہنا ہے پاکستان کے صوبہ  خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کے علاقے پالس کے رہائشی محمد طاہر کا جو ایک مقامی سرکاری سکول میں اُستاد ہیں۔

محمد طاہر نے مقامی پولیس کو درخواست دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے حال ہی میں اُن کے علاقے میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ایک خاتون کو قتل کیا گیا ہے اور چونکہ اُن کے بیٹے کا نام غلط طور پر اُس خاتون سے منسوب کیا جا رہا ہے اس لیے انھیں اندیشہ ہے کہ جلد ہی اُن کے بیٹے کو بھی غیرت کے نام پر قتل کر دیا جائے گا۔

انھوں نے پولیس سے اپنے بیٹے کو تحفظ دینے کی درخواست دی ہے۔ رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سلمان خان نے بتایا کہ انھیں محمد طاہر کی جانب سے بیٹے کے تحفظ کے لیے دی گئی درخواست موصول ہو چکی ہے جس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔

محمد طاہر کا کہنا ہے کہ کوہستان کے قدامت پسند رسم و رواج کے مطابق اگر وہ اپنے بیٹے کو قتل ہونے کے لیے منظر عام پر نہ لائے تو اُس کے بدلے انھیں اور ان کے اہلخانہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے افضل کوہستانی کیس میں ہوا۔

محمد طاہر کے مطابق ان کا بیٹا اپنی جان بچانے کی غرض سے گھر سے بھاگا ہوا ہے۔ ڈی پی او پالس سلمان خان کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد تمام اہلخانہ کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

قتل
BBC
2012 میں ضلع کوہستان کے علاقے پالس میں شادی کی ایک تقریب کی وڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں چار لڑکیوں کی تالیوں کی تھاپ پر دو لڑکے روایتی رقص کررہے تھے

لڑکی کے قتل کا واقعہ کب پیش آیا؟

اس واقعے کی درج ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کے قتل کا واقعہ 24 ستمبر کو پیش آیا تھا۔ یہ ایف آئی آر لڑکی کے والد کی مدعیت میں درج کروائی گئی۔

لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا کہ وہ مویشی چرانے کے لیے جانوروں کا ریوڑ گھر سے لے جا رہے تھے جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے بیٹا اور بیٹی کی آپس میں کسی بات پر تکرار ہوئی اور بحث اس حد تک بڑھی کہ بھائی نے اپنی بہن کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

لڑکی کے والد نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ فائر لگنے کے بعد ان کی بیٹی موقع پر ہلاک ہو گئی اور وہ اس واقعے کے واحد چشم دید گواہ ہیں۔

تاہم اب محمد طاہر نے پولیس کو دی گئی اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ لڑکی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا اور اس فیصلے میں بہت سے لوگ ملوث تھے۔

محمد طاہر نے یہ بھی کہا کہ مبینہ غیرت کے نام پر اس قتل کو چھپانے اور ملوث افراد کو بچانے کے لیے لڑکی کے اہلخانہ نے لڑکی کے بھائی کو اس کیس میں نامزد کیا جبکہ لڑکی کے والد اس کیس کے واحد چشم دید گواہ بنے اور ایسا صرف اس لیے کیا گیا تاکہ جب کیس عدالت میں چلے تو والد، جو اس کیس میں مدعی بھی ہیں، بیٹے کو معاف کر دیں اور یہ معاملہ بھی غیرت کے نام پر ہونے والی دیگر جرائم کی طرح اپنی موت آپ مر جائے۔

رابطہ کرنے پر ڈی ایس پی پالس مسعود خان نے بتایا کہ پولیس کو چند ہفتے قبل اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں ایک لڑکی قتل ہوئی ہے جس پر قانون کے مطابق کارروائی کی گئی اور لڑکی کا بھائی جسے کیس میں نامزد کیا گیا، اسے گرفتار کر لیا گیا۔

افضل کوہستانی
BBC
افضل کوہستانی کو سنہ 2019 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں دن دیہاڑے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا

ڈی ایس پی مسعود خان نے کہا کہ اب اس حوالے سے درخواست دینے والے محمد طاہر کے پاس لڑکی کے غیرت کے نام پر قتل کے ثبوت موجود ہیں تو وہ بھی فراہم کیے جائیں تاکہ قانونی کارروائی کی جا سکے۔

مسعود خان نے کہا کہ ملزم لڑکے سے آلہ قتل بھی برآمد کیا گیا اور جلد ہی یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہو گا۔ان کا کہنا تھا جب یہ ساری کارروائی ہو رہی تھی اس دوران درخواست دینے والے استاد محمد طاہر سمیت کوئی بھی پیش نہیں ہوا اور کسی نے بھی غیرت کے نام پر قتل کے کوئی ثبوت وغیرہ پیش نہیں کیے۔

مسعود خان کہتے ہیں کہ اب محمد طاہر کی  جانب سے درخواست ملنے کے بعد پولیس دوبارہ سارے واقعہ کی تفتیش کرے گی۔

محمد طاہر کہتے ہیں کہ لڑکی کو قتل کرنے کا واقعہ چند ہفتوں پہلے پیش آیا تھا تاہم اُس وقت انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ لڑکی کے ساتھ ان کے بیٹے کو منسوب کیا جا رہا ہے۔

’ بعد میں یہ بات میرے علم میں آئی کہ قتل کی غرض سے میرے بیٹے کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ مجھے جس وقت حقائق کا پتا چلا اس وقت ہی میں نے قانون کا سہارا لیا اور تمام حقائق پولیس کے سامنے رکھ دیے۔‘

محمد طاہر دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر پولیس نے ان سے گواہی طلب کی تو وہ خود اور علاقے کے کچھ اور گواہ بھی پیش ہوں گے کہ یہ کوئی عام قتل نہیں بلکہ غیرت کے نام پر قتل تھا۔

پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ بار کے صدر مہدی زمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ  ماضی میں کئی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ  نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کر کے باہمی صلح کی بنیاد پر ملزماں کو رہائی مل جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کو تفتیش کرنی چاہیے اور اگر اس نوعیت کے ثبوت ملتے ہیں تو ایف آئی آر میں غیرت کے نام پر قتل کی دفعات شامل کی جائیں تاکہ راضی نامے کی صورت میں بھی ملزم کو رہائی نہ مل سکے۔

انھوں نے کہا کہ ویسے بھی کوہستان جیسے علاقے میں کسی لڑکی کے قتل پر پولیس کو بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

غیرت
BBC

’مقتولہ اور میرا بیٹا بے گناہ ہیں‘

محمد طاہر نے ڈی پی او پالس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ لڑکی والوں کی طرف منعقدہ جرگے میں میرے بیٹے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ واجب القتل ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’میں سکول استاد ہوں اور میرے لیے بھی ان  حالات میں اب فرائض ادا کرنا مشکل ہو چکے ہیں۔ لڑکی کے قتل کا مقدمہ بھی غلط معلومات فراہم کر کے درج کروایا گیا تاکہ ان لوگوں کو بچایا جا سکے جنھوں نے مبینہ طور پر لڑکی کے قتل کا فیصلہ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ علاقہ گواہی دینے کے لیے تیار ہے کہ ان کے بیٹے کا لڑکی سے کوئی چکر نہیں تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے۔

’غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہوتا‘

انسانی حقوق کے کارکن اور سپریم کورٹ کے وکیل ظفر اقبال ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل و غارت  کا معاملہ اتنا سیدھا اور آسان نہیں ہوتا۔

’اس سے پہلے ہم نے دیکھا کہ کوہستان ویڈیو سکینڈل میں اپنے بھائیوں کے تحفظ کے لیے لڑتے لڑتے افضل کوہستانی مارا گیا تھا اور اب بھی اس کے بھائیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘

ظفر اقبال ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ اگر کوہستان کا رواج دیکھیں تو ایسے معاملے میں اگر لڑکا بھاگ جائے تو اس کا تعاقب کیا جاتا ہے، اس کو تلاش کیا جاتا ہے۔ لڑکے والے بھی لڑکی کے غیرت کے نام پر قتل کے بعد لڑکے کو کوئی تحفظ دینے سے گریز کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس، انتظامیہ او حکومت پر لازم ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس کے نتیجے میں لڑکا اور اس کے خاندان والے بھی محفوظ رہ سکیں اور مقتولہ کو بھی انصاف مل سکے اور علاقے میں ایک نئی دشمنی کی جنگ کا آغاز بھی نہ ہو۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.