اسلام آباد کا سینٹورس مال سِیل کرنے کے ایک دن بعد کھول دیا گیا

image

دارالحکومت اسلام آباد کے سینٹورس شاپنگ مال کو ’غیرقانونی استعمال‘ کے باعث بند کرنے کے ایک روز بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ اور کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے) کے شعبہ بلڈنگ کنٹرول نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پیر اور منگل کی درمیانی شب مال کو سِیل کر دیا تھا۔

منگل کی رات کو سی ڈی اے کے عملے نے شاپنگ مال کے پہلے فلور کو کھول دیا تاہم پلازے کا تہہ خانہ قوائد پر عمل درآمد ہونے تک سِیل ہی رہے گا۔ 

سی ڈی اے حکام کے مطابق تہہ خانے کو غیر قانونی طور پر کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ تہہ خانے کو پارکنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی لیکن کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے تہہ خانے کو سِیل کیا ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ اسلام آباد سینٹورس مال کے بیسمنٹ میں قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف دفاتر کھلے ہوئے تھے اور تعمیراتی مواد بھی رکھا ہوا تھا.

سی ڈی اے کے مطابق بیسمنٹ کے جس حصے میں پارکنگ کے علاوہ جو بھی خلاف قوائد جگہیں تھیں ان حصوں کو سِیل رکھا جائے گا، خلاف ورزی ختم ہونے پر ہی کھولا جائے گا۔

سینٹورس کی بندش کے بعد مال کے ملازمین نے فیصل ایونیو پر احتجاج کیا، جس سے ٹریفک معطل ہو گئی تھی۔

سینٹورس کی بندش کے بعد سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اہل کشمیر کی قربانیوں کا ذکر نہ کرنے پر وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے سرزشن پر پی ڈی ایم مافیا کے ذریعے سینٹورس مال کا سِیل کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے (ملک میں) جنگل کا قانون رائج ہے، اس سے کشمیریوں کو بھی منفی پیغام جاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ 9 اکتوبر کو سینٹورس کی کثیر منزلہ عمارت و شاپنگ مال میں آگ لگی تھی جس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک مال کو بند رکھنے کا حکم دیا۔ 

ابتدائی تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں فوڈ کورٹ میں بنے ریسٹورنٹ میں بھڑکنے والی آگ سے مال کے اندر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی اس حادثے میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک ہوا۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.