آج بھی اسے ڈھونڈتا ہوں

Poet: HuKhaN
By: hukhan, karachi

کچھ گمشدہ منزلوں کے نشان ڈھونڈتا ہوں
سر شام ہی سے اجلی صبح کھوجتا ہوں
غموں کے طوفان میں اس کی مسکان ڈھونڈتا ہوں
جلا کے تیز دھوپ میں اب سایہ ڈھونڈتا ہوں
آج بھی ستاروں سے آگے کے جہان ڈھونڈتا ہوں
جو گزر گئی عمر وفا آج بھی اسے ڈھونڈتا ہوں
نادان ہو آج بھی سایہ بن کے جو کبھی ساتھ تھا اسے ڈھونڈ تا ہوں
جس نے ہمیشہ بوجھ جانا ہمیں اسکی نظر کرم ڈھونڈتا ہوں
ہاں میں ہو نادان دیکھوں کسے ڈھونڈتا ہوں

Rate it:
11 Feb, 2017

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: hukhan
Visit 29 Other Poetries by hukhan »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>