اجنبی ہو گئے
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreپھریوں ہوا کہ ہم اجنبی ہو گئے
کل تک جو تھے ایک دوسرے کی جان
اج وہ کیسے جدا ہو گئے
سمجھا نہ سکے دل کو کبھی
کیسے وہ اتنے مغرورہو گئے
ممکن ہےحا لات کا اثر ہو ان پر
بات یہ دل کو سمجھا کر خاموش ہو گئے
ہر بات کو ہر پل کو بھلا دیا اس نے
ایسا بھی کیا کہ ہوا کہ وہ اتنے غیر ہو گئے
آنکھ سےگرتےآنسو بھی نہ دیکھے اس نے
نہ سنائی دی فریاد ہماری
قصور ان کا نہیں ہے کوئ
جس دنیا میں رہتے ہیں
ویسے پتھر دل ہو گئے
اسے ڈر تھا اپنی رسوائ کا
اس لیے سر عام کہ نہ سکا
ہم فقط چار لوگوں میں
نام لے کر اس کا بد نام ہو گئے
قصور اس کا بھی نہیں مان لیتے ہیں
ہم ہی بد نصیبی کا شکار ہو گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






