اسی نگر کی اک چڑیا ہے

Poet:
By: maria rehmani, Kharian

سہمی سہمی رہتی ہے
چاہتوں کے دیس میں
نفرتوں ک بھیس میں
وہ اڑ نہیں سکتی
ایسا لوگ کہتے ہیں
مگر
لوگ کیونکر جانیں گےچاہتوں کے دیس میں
نفرتوں کے بھیس میں
کیوں وہ لپٹی رہتی ہے
دور فلک تک اڑنے کا جو شوق تھا
کہیں حادثوں میں ہی کٹ گیا
محبتوں بھا جو آشیاں تھا
کہیں حادثوں کی زد میں بہ گیا
وہ زندگی جو اس نے جینا تھی
کسی ایک پل میں ہی کٹ گئی
جو شوق تھا اس کا اڑنے کا
کہیں دور آسمان میں ہی کھو گیا
ورنہ
وہ اسی نگر کی چڑیا تھی

Rate it:
07 Jan, 2016

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: maria rehmani
Maria Rehmani from Kharian.. View More
Visit 32 Other Poetries by maria rehmani »