انتخابِ من
Poet: یاسر فاروق By: Yasir Farooq, Karachiکھل کے کہہ دو جو بھی کہنا ہے تمھیں
مسترد ہونے کی عادت ہے مجھے
ہائے ظالم نے ذرا سا بھی تکلّف نہ کیا
ہم نے چاھی جو اجازت تو اجازت دے دی
کچھ اہلِ چمن ہی مرے دکھ درد کو سمجھے
یہ باغ مرے سامنے ویران ہوا ہے
میں تو تھا اک بزدل عاشق
اس نے ہجر کی ہمّت کی تھی
ہم اڑے بھی تو قید ہی میں رہے
زندگی بے سلاخ پنجرہ ہے
کوئی یہاں سے مجھے کس طرح نکالے گا
ترے خیال کی جاۓ اماں میں رہتا ہوں
ان اندھیروں میں کوئی تو میرا ہم راہی بنے
جب دکھائی کچھ نہ دے آواز بینائی بنے
ملا وہ کم سخن تو یہ سمجھ آیا
محبّت کی زباں خاموش ہوتی ہے
دل نے ایسے تجھے پکارا ہے
گونج اٹھا وجود سارا ہے
یہ کیا کہ تم نے دونوں کو سمجھ لیا ہے ایک سا
یہ کیا کہ ہجر کچھ نہیں یہ کیا وصال کچھ نہیں
تم چائے کا وعدہ کر دیکھو
میں بھاگ آؤں گا آفس سے
تجھ تک کیسے پہنچوں میں
خود کو وائرل کر لوں میں؟
خدا کرے کہ وقت نے چھپن چھپائ کھیلی ہو
ہٹے جو پردہ ہجر کا تو کھلکھلاتے تم ملو
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






