اِک میں ہی ہوں جس کی وہ مانتا نہیں ہے

Poet: Asif Shaaki
By: Asif Shaaki, Hyderabad

کیا کرتا تھا جو چُپکے چُپکے مجھ سے رازداری کی باتیں
اب تو سر عام اک لفظ عام بھی مجھ سے کہتا نہیں ہے
وہ سجنا سنورنا اس کا، میرے دیدار کے واسطے
اب تو پل بھر کے لیے آنکھ بھر کر بھی دیکھتا نہیں ہے
اس کا رشتہ مجھ سے گویا حرف آخر لگتا تھا لوگوں
ملتا ہے وہ مجھ سے ایسے کہ جیسے جانتا نہیں ہے
میں توشریک غم بھی رہا ہوں اس کا ہر دم ہر پل
وہ اپنی خوشیاں تک مجھ سے بانٹتا نہیں ہے
اس کے وقت زوال، میں خود جھکا اٹھایا اس کو
سازگار حالات میں بھی وہ میرا ہاتھ تھامتا نہیں ہے
اس کو میں خودغرض نہ کہوں ، تو کیا کہوں
کہ اس نے یاد رکھا ہے خود کو اوروں کو وہ جانتا نہیں ہے
اس کے مجھے اچھی طرح جاننے کے وہ بلند و بانگ دعوے
کبھی پاس سے گزر جاتا ہے ایسے جیسے پہچانتا نہیں ہے
یوں تو زمانے بھر کا وہ مّان رکھتا ہے شاکی
بس اِک میں ہی ہوں جس کی وہ مانتا نہیں ہے

Rate it:
16 Feb, 2020

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Asif Shaaki
Visit 18 Other Poetries by Asif Shaaki »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City