اک انجان سا رستہ ہے
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonاک گمنام سی منزل ہے اک انجان سا رستہ ہے
تنہائ کا زہر ہے خاموشی کا اک لمبا سفر ہے
اک اداس سی جوانی ہے ناکام سی حسرت ہے
ا دھوری سی کہانی ہے بے خواب سی کیفیت ہے
اک ان د یکھی سی الفت ہے بے نام سی محبت ہے
بے راگ سی راگنی ہے بے ربط سی چاہت ہے
ہر پل گزری یادوں کی اندھیری چلمن ہے
یہ بے مہر سی رنجش ہے یا کوئ الجھن ہے
اک اجنبی سی ا نسیت ہے بیکیف مجبت ہے
اک تلخ حقیقت ہے یک طرفہ مجبت ہے
اک بے کلی سی ہے اک بےنام سا رشتہ ہے
اک گمنام سی منزل ہے اک انجان سا رستہ ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






