ایک بھٹکے ہوئے راہی کو سہارا دے کر
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanایک بھٹکے ہوئے راہی کو سہارا دے کر
جھوٹی منزل کا نشاں مجھ کو دکھایا کیوں تھا
خود ھی طوفان اٹھانا تھا محبت نے اگر
ڈوبنے سے میری کشتی کو بچایا کیوں تھا
جسکا انجام اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ایسا خواب میری آنکھوں کو دکھایا کیوں تھا
تجھکو معلوم تھا اک دن تیری رسوائ ہو گی
اَن کہا پیار اپنے من میں بسایا کیوں تھا
اب ہے کیوں اپنے انجام سے پشیماں سائیں
تُو نے اِک بےوفا سے دل ہی لگایا کیوں تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






