اے عشق! تیرے سر کی قسم
Poet: سید نذیر کاظمی By: سید نذیر کاظمی , Al Ainاے عشق! تیرے سر کی قسم ان پہ جو گزری
میں اپنے بھی دامن میں وہی خار چنوں گا
کہتی ہو سبھی سے کہ میں کرتا ہوں تماشہ
آ کر کبھی دیکھو تو سھی حال جنوں کا
“ہاں“ تم نہ کرو گی تو کوئ بات نہیں ھے
بس اتنا سمجھ لو کہ نہ انکار سنو گا
دم بھر کو تو ٹھہرو، یوں نہ بازو کو چھڑاؤ
وعدہ ھے کہ بس آخری اک بات کروں گا
اچھا چلو کہہ دو جو ھے سرگوشی میں کہنا
جو کچھ بھی ہو لیکن میں نہ اس بار ہنسوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







