جہاں دیکھوں وہاں پاؤں میں تنہائی یہ تنہائی
Poet: Tanzeem Akhtar تنظیم اختر By: tanzeemakhtar, dohaجہاں دیکھوں وہاں پاؤں میں تنہائی یہ تنہائی
نہ جانے کس طرف لیکر مجھے آئی یہ تنہائی
ہوئے تھے گم کہیں شاید ہم اس دنیا کے میلے میں
ہے ہم کو پھر ہمیں سے ہی ملا لائی یہ تنہائی
جو پوچھا مجھ سے یہ اس نے عمر بھر کون دے گا ساتھ
نکل آیا مرے منہ سے یہ تنہائی یہ تنہائی
اکیلا یہ مجھے اک پل کبھی ہونے نہیں دے گی
رہے گی زندگی بھر ساتھ تنہائی یہ تنہائی
یہی اب سوچ کر اس کو گلے ہم نے لگایا ہے
کہ اپنی جان دے کے ہم نے ہے پائی یہ تنہائی
بھری محفل میں جی اپنا نہیں لگتا ہے کیوں تنظیم
یوں لگتا ہے طبعیت کو مرے بھائی یہ تنہائی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







