حقیقت والے
Poet: سعدیہٓ اعجاز By: sadiaijazhussain, Lahore,University oF Educationمحوِ رَقص ہیں , آشناۓ حقیقت والے
لفظ خاموش , دل مدہوش , سر !محبت کی آغوش
کہیں دُور پڑی دنیا , جہاں وہ ہیں وہ اک شور
آنکھیں جستجوۓ حق، جسم وَجدی , رُوح اک کشمکش ماحول
محبوب کی بات میں جی ، , دل تمناٸی صورت ، حیرت بھرا کشکول
سر حاضر , عقل تقلیدِ عشق , جسم رجوع محبوب
رقص حقیقی , عشق حقیقی , حقیقت آمیز ماحول
اجتناب انا ، اجتناب میں ، تُو ہی تُو ہر سو
گفتگو حقیقی، سر مست بہارِ یارانہ ،
دنیا فانی
نگاہ نظارہ ، اعجاز عطائ , ایمان کامل
دل شاداب , ساقی کی آرزو , مے کی طلب ہے کچھ اور
رونق دنیا سے کوچ , دل کی سکوت میں رہائش
حیرت سے پر جوش، لب خاموش ، سوچ محو گردش ٬ سوچیں مدہوش
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






