خون کے رشتے
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiخون کے رشتے وفا کی جو علامت ہوتے
با خدا پھر تو وہ مانند عبادت ہوتے
عشق بھی تو نے کیا اپنی ضرورت جتنا
کاش کے ہم بھی کبھی تیری ضرورت ہوتے
اپنے وعدوں سے اگر تم بھی نہ مکرے ہوتے
میری نظروں میں بھی تم قابلِ عزت ہوتے
کتنی چاہت سے تجھے دل میں بسایا ہم نے
کاش ہم ہی تری بس آخری حسرت ہوتے
ساتھ یوں میرے اگر آج بھی ہوتے تم تو
سارے ہی خواب ہمارے بھی حقیقت ہوتے
لاکھ چاہا کہ تمہیں بھول ہی جاؤں یکسر
کاش تم میرے لیئے قابلِ نفرت ہوتے
کیسے کاٹوں تری ان ہجر کی راتوں کو میں
بعد مرنے کے مرے تم کہیں غارت ہوتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






