دسمبر کی اک شام

Poet: ماہ گل عابد
By: ماہ گل, میرپورخاص

یہ دسمبر کی پہلی شام کتنی سرد ہے
کتنی ظالم ہے یہ شام تنہائی
آغاز شام ہی سے یادوں کے بادل چھاگئے
ویرانی آنکھوں میں گھر کرگئی
افففف
یہ دسمبر کی پہلی شام کتنی سرد ہے
سردیوں کی طویل لمبی راتیں
یہ دسمبر کی صرف ٹھٹھرتی ساون کی بارشیں
نیم نشہ سا تھا ادھورے خوابوں کا
یہ دسمبر کا مہینہ
اور بہت سی ادھوری کہانیاں
زرد پتوں پہ خاموشی سے چلتے
چائے کے کپوں میں
خاموشی سے برف باری کے گولے
یہ ساون کی بارش
یہ دسمبر کی سرد دوپہر
سمندر کی لہریں
ڈوبتے سورج میں لہراتا آنچل
یہ دسمبر کی پہلی شام کتنی سرد ہے
وہ کاغذ کی کشتی
اور کھلکھلاتی ہنسی
اور پھر چاند کے ساتھ باتیں
بیتے لمحوں کی ڈھیر ساری یادیں
وہ بوسیدہ سی ڈائریاں
وہ چائے کا کپ شاعری اور کتابیں۔۔۔ دسمبر کی پہلی شام کتنی سرد ہے
وہ داستانوں کے کردار
وہ گرجتے بادل
وہ مسلسل گرتے پانی کی آوازیں
وہ تمہاری یاد مسلسل
وہ تمہارا طویل انتظار مسلسل
یہ دسمبر کی پہلی شام کتنی سرد سی ہے

Rate it:
17 Dec, 2019

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: ماہ گل
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City