دل کدھر لگتا ہے
Poet: نعمان صدیقی By: Noman Baqi Siddiqi, Karachiتمہارا ہو نتیجہ اپنا ثمر لگتا ہے
تم جہاں بھی ہو اپنا گھر لگتا ہے
جاو تو پھر واپس ضرور تم آجانا
جدا نہ ہو جاو یہی اک ڈر لگتا ہے
دل بھی بس ہے ایسا تمہارے سنگ چلتا ہے
تم جدھر ہوتے ہو یہ اُدھر لگتا ہے
ویران سا لگے ہے مجھے اپنا گھر بھی
تمہارے بغیر میرا دل کدھر لگتا ہے
آنے پر تمہارے یہ موڈ ہے بدلتا
ٹھیرا جو ہوا ہے بہتی نہر لگتا ہے
جدای میں تمہاری ہے بجھا بجھا نعمان
تصور ہو تمہارا چڑھتا قمر لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






