راہ عشق
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATدیکھو ذرا کہ آج میں کیا مانگ رہا ہوں
اس دور کے ستم گر سے وفا مانگ رہا ہوں
جو شخص مجھے عمربھر کے روگ دے گیا
میں اس کے لیے فرحت کی دعا مانگ رہا ہوں
وہ جس کو دیکھتے ہی میں جی اٹھوں گا پھر
میں عشق سے وہ ظالم ادا مانگ رہا ہوں
جو میری روح و جاں تھا ... میرا سکون تھا
بھیک اسی سے درد دل کی دوا مانگ رہا ہوں
صنم ! تیرا ہی قرب پھر چاہتا ہوں میں اب, کہ
چاہت تو نہیں... میں تجھ سے دغا مانگ رہا ہوں
مسافر بنا پھر رہا ہوں میں... راہ عشق میں
در بدر تجھ کو دے کے صدا مانگ رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






