سنو اے مشرقی لڑکی۔۔۔۔۔۔۔

Poet: muhammad nawaz
By: muhammad nawaz, sangla hill

سنو اے مشرقی لڑکی
وفا تیرا حسیں گہنا
حیا تیری حنا بندی
سنو اے مشرقی لڑکی
تم اکثر خواب بوتی ہو
پھر ان خوابوں میں سوتی ہو
اور ان خوابوں ہی خوابوں میں
محبت کے گلابوں میں
نئی کرنیں پروتی ہو
کبھی ہنستی ہو کلیوں سا
کبھی چھپ چھپ کے روتی ہو
کبھی ٹھہراؤ کا عالم
کبھی بیتاب ہوتی ہو
یہ سارے رنگ ہیں تیرے
یہ سارے انگ ہیں تیرے
مگر یہ رنگ پھیکے ہیں
حیا سے ہیں اگر خالی
سنو اے مشرقی لڑکی
کبھی مغرب کو نہ تکنا
نہ بنیادوں کو ٹھکرانا
وہاں کے کھوکھلے رشتے
تقدس چھینن لیتے ہیں
نگاہوں کا، پناہوں کا
سمے کی چلتی راہوں کا
ثقافت کے لبادے میں
تمدن کے بکھیڑوں میں
ہوس کی راجداری ہے
عجب ہی کھیل جاری ہے
سنو اے مشرقی لڑکی
وفا تیرا حسیں گہنا
حیا تیری حنا بندی
آزادی سے کہیں بڑھ کر
حسیں ریتوں کی پابندی
سنو اے مشرقی لڑکی
 

Rate it:
15 Jul, 2015

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS