کون پھر سے بلا رہا ہے مجھے

Poet: م الف ارشیؔ
By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachi

کون پھر سے بلا رہا ہے مجھے
خواب جھوٹے دکھا رہا ہے مجھے

کون بیٹھا ہے میری راہوں میں
" دیکھو صحرا پکارتا ہے مجھے"

مجھ سے رہتا ہے دور وہ اکثر
اور یوں وہ آزما رہا ہے مجھے

ایک مدت کے بعد بھی آخر
اجنبی کی طرح ملا ہے مجھے

اپنی باتوں سے پھر گیا ہے وہ
بس اسی بات کا گلہ ہے مجھے

اس کی جانب نہیں میں پلٹوں گا
وہ اب اتنا تو جانتا ہے مجھے

بات یہ بھی تو اک حقیقت ہے
صبر کرنے کا حوصلہ ہے مجھے

اپنا اب بھی وہ مانتا ہے مجھے
میری چاہت کا یہ صلہ ہے مجھے

ساری دنیا میں ڈھونڈ آیا ہوں
تجھ سا کوئی نہیں ملا ہے مجھے

خوب واقف ہوں تیری باتوں سے
کیوں تو الفت جتا رہا ہے مجھے

کیا کہوں تیری اس ادا کو میں
خود ڈبو کر بچا رہا ہے مجھے

کتنا نادم کھڑا ہے ساحل پر
جو بھنور میں پھنسا رہا ہے مجھے

کب تلک ساتھ تم نبھاؤ گے
اب نہیں کوئی آسرا ہے مجھے

اب کہاں حوصلہ وہ پہلے سا
پھر بھی اتنا رلا رہا ہے مجھے
 

Rate it:
03 Sep, 2019

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Muhammad Arshad Qureshi
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
Visit 208 Other Poetries by Muhammad Arshad Qureshi »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City